بزدار کی پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش ناکام


قاف لیگ کی قیادت نے شراب لائسنس کیس میں نیب کی کڑکی میں پھنسے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی اپنی وزارت اعلیٰ بچانے کی ایک آخری کوشش کے طور پر پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی خواہش مسترد کر دی ہے اور انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے خلاف نیب کی تحقیقات ختم ہونے تک عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
خیال رہے کہ پنجاب کی مخلوط حکومت میں چوہدری پرویز الہی کا بطور سپیکر پنجاب اسمبلی سب سے اہم کردار ہے اور ان کی مرضی کے بغیر ایوان میں کسی قسم کی قرارداد نہ تو منظور ہو سکتی ہے اور نہ مسترد ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے حال ہی میں پنجاب کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران کابینہ ممبران سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں نیب لاہور کے دفتر میں 5 کروڑ روپے کی رشوت کے عوض شراب لائسنس کیس میں پیشی کے بعد عثمان بزدار نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں پنجاب اسمبلی سے بھی اعتماد کا ووٹ دلوا دیا جائے تاکہ ان کی پوزیشن مستحکم ہو سکے۔ لیکن اب یہ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یاد رہے ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں پہلے یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ عثمان بزدار کو ہٹائے جانے کی صورت میں چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق مقتدر قوتیں بھی بزدار کی فراغت کے بعد چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتی ہیں جن کی مدد کے بغیر تحریک انصاف پنجاب میں حکومت قائم رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن عمران خان پرویز الہی کو وزیر اعلی نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پرویز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی صورت میں ان کی وزارت عظمیٰ کے خاتمے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔لیکن کپتان شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ان کو زور لگا کر اقتدار میں لانے والوں نے جب ان کو گھر بھجوانے کا فیصلہ کیا تو وہ کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔
یاد رہے کہ غیر سیاسی قوتیں گزشتہ ڈیڑھ سال سے” کپتان ” کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب جسے “آدھا پاکستان” ہونے کی حیثیت حاصل ہے ، اسے چلانے کے لئے عثمان بزدار کو ہٹا کر کوئی با صلاحیت اور اہل شخص وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا جائے مگر “کپتان” کو اس پر آمادہ کرنے کے لئے مقتدر حلقوں کی کوئی “ایڈوائس” کام آئی نہ دباؤ. چنانچہ کم و بیش 6 ماہ قبل مقتدر حلقوں نے طے کر لیا کہ اب بزدار کو ڈائریکٹ ایکشن کے ذریعے گھر بھجوایا جائے گا۔ چنانچہ اب بزدار کو وزارت سے فارغ کرنے کے منصوبے پر کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے عثمان بزدار کا انتخاب نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک بڑا سرپرائز تھا کیونکہ کنگ میکر سمجھے جانے والے پنجاب کے لئے عمران خان نے ایک نیا چہرہ جو کہ پی ٹی آئی فیس بھی نہیں ہے، اس کا انتخاب کیوں کیا۔ عمران خان چند ماہ قبل تک ہر فورم پر سردار عثمان بزدار کا دفاع کرتے رہے ہیں بلکہ وہ ان کو وسیم اکرم پلس کے القابات سے بھی نوازتے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ تحفظات، اعتراضات اور خدشات کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ عثمان بزدار کا دفاع کیا ہے جو آج تک عمران خان کے اپنے وزرا کو کبھی سمجھ نہیں آیا۔ عمران خان نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جب تک پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت ہے تب تک سردار عثمان بزدار ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔
لیکن اب وزیر اعظم کی ضد کے برعکس عثمان بزدار کی تبدیلی کا عمل شروع ہوتا نظر آتا ہے اور یہ تبدیلی سیاسی طریقے سے نہیں بلکہ انتظامی طریقے سے آتی نظر آتی ہے جس میں نہ صرف جوتے بلکہ پیاز بھی کھانے پڑیں گے۔ دوسری طرف عمران خان عثمان بزدار کا متبادل ڈھونڈنے میں گھبرا رہے ہیں کیونکہ بزدار کو تبدیل کرنے کے وقت تحریک انصاف پنجاب میں اس قدر مضبوط نہیں رہی جتنی بزدارکو منتخب کرتے ہوئے تھی۔ خان صاحب کا دل تو یہ سوچ کر ہی بیٹھ جاتا ہوگا کہ اگر اپنے ناراض اراکین کومنانے کے لئے بزدار کو تبدیل کرنا پڑا تو اپنی ہی سیاسی پارٹی سے نیا امیدوار منتخب کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ دراصل تحریک انصاف کے اندد ہی اس عہدے کے لئے کافی امیدوار ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے ہر سیاسی طریقہ اپنائے گی، اور تحریک انصاف کو شکست دینے کے لئے مسلم لیگ ن بھی ق لیگ کا ساتھ دے کر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارے گی۔
عثمان بزدار کے لئے ایک بڑا چیلنج اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی کارکردگی سے بھرپور ایک 14 سالہ legacy بھی ہے جس کو برقرار رکھنا ناتجربہ کار عثمان بزدار کے لئے مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سیٹ اپ کو سمجھنے کے لئے اور اپنی جگہ بنانے کے لئے دو سال ایک مناسب عرصہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی کارکردگی مسلسل سوالیہ نشان ہی بنی ہوئی ہے۔ عثمان بزدار کا نکما پن کپتان سے زیادہ چیف کے لیے پریشانی کا سبب ہے جو الیکشن کی رات بڑی کوششوں سے عمران خان کو وزیراعظم بنوا کر اقتدار میں لاتے تھے۔
اگر آپ پاکستانی میڈیا کے مستقل ناظر ہیں تو آپ کو بھی احساس ہوا ہوگا کہ جو آوازیں عمران خان کی حمایت میں اٹھتی تھیں وہ عثمان بزدار پر آ کر ایک تنقید کا طوفان کھڑا کر دیتی ہیں کیونکہ عثمان بزدار خود ابھی تک میڈیا کے میدان تک کو سنبھالنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ انہوں نے خود کو میڈیا کے لئے ناپید کر چھوڑا ہے جس کی تازہ ترین مثال حال ہی میں سینیئر صحافی کامران خان کے ساتھ طے شدہ انٹرویو سے اچانک راہ فرار اختیار کرنا ہے۔ عمران خان اور ان کے ترجمانوں کی کارکردگی کو خاصا سراہنے والے کامران خان بھی عثمان بزدار کو وزیر اعظم کے لئے ڈیزاسٹر یا تباہی قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب میں تبدیلی کی باتیں تو تقریبا پونے دو سال سے ہو رہی تھیں لیکن مختلف وجوہات کی وجہ سے یہ تبدیلی لانا آسان نہیں رہا تھا۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کے مطابق اب اس تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں لیکن اصل مشکل یہ ہے کہ کپتان اپنے وسیم اکرم پلس کی فراغت کی صورت میں اگلا وزیراعلی بھی اپنی مرضی اور بھروسے کا لانا چاہتے ہیں۔ تاہم انکی پہلی چوائس دیکھ کر سلیکٹرز اب یہ اصرار کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ پنجاب کے لیے کپتان کی سلیکشن کا موقع ان کو ملنا چاہیے۔ لیکن عوام کو بھولنا نہیں چاہیے کہ عمران بھی سلیکٹرز کی ہیں چوائس تھا انکی نہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو “فارغ” کروانے کے منصوبے پر گزشتہ چھ ماہ سے “کام” ہو رہا تھا تاکہ ایسا “فول پروف” پلان مرتب دیا جا سکے کہ اگر انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی راہ میں “بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ” یا پرائم منسٹر ہاؤس حسب سابق رکاوٹ بننا چاہے تو بھی مزید مزاحمت ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ لہذا جب ریاست مدینہ کے داعی عمران خان کا بزدار پانچ کروڑ روپے کی رشوت کے عوض ایک ہوٹل کو شراب کی فروخت کا غیر قانونی لائسنس دلواتے ہوئے پکڑا جائے تو اس کا دفاع کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں اب بزدار کی قسمت کا فیصلہ کپتان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ سلیکٹرز اور نیب کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے اسے گھر بھجوانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مقصد کے تحت پرائم منسٹر ہاؤس سے بالا بالا نیب کے ذریعے “آپریشن ایگزٹ بزدار” پر اسی وقت کام شروع کردیا گیا تھا جب ڈائریکٹر جنرل  ایکسائز پنجاب اکرم اشرف گوندل اپنی سروس کی میعاد پوری ہو جانے پر سرکاری نوکری سے ریٹائر ہو کر عہدے سے الگ ہوئے. وہ ایک “رینکر” یا “پروموٹی” افسر تھے جو ترقی کرتے کرتے نیچے سے “ڈی جی ، ایکسائز” جیسی اھم پوسٹ تک پہنچے تھے. بتایا جاتا ہے کہ وہ ریٹائر ہونے کے بعد امریکہ شفٹ ہو گئے تھے لیکن دوستوں کی خواہش پر  سو ماہ پہلے خصوصی طور پر واپس پاکستان آئے اور عثمان بزدار کے خلاف “زیر تعمیر” کیس میں اسی طرح اہم کردار ادا کرنے کی” تیاری” شروع کر دی۔ اسی دوران بزدار کی خواہش پر لاہور ایئر پورٹ کی حدود میں ایک ایسے ہوٹل کو پیشگی ہی فور یا فائیو سٹار ہوٹل مانتے ہوئے شراب کا لائسنس خلاف قواعد جاری کر دیا گیا جو ابھی زیر تعمیر تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی بھی سروس سے ریٹائر ہوجانے کے بعد ہی سے دوستوں سے رابطے میں تھے۔ متذکرہ دونوں اہم سابق سرکاری افسران اور سابق اعلیٰ بیورو کریٹ صاحبان پہلے ہی وزیراعلیٰ بزدار کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادہ ہوچکے تھے، جو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ذاتی اثر و رسوخ استعمال میں لاتے ہوئے بزدار کے خلاف مالی کرپشن ، دھونس دھاندلی اور دباؤ کے سنگین الزامات سے متعلق اہم دستاویزی ثبوت و شواہد جمع کرتے رہے ہیں جن کی بنیاد پر اب بزدار کا بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button