سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کیلئے مقرر

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 28 ستمبر کو کیس کی سماعت کرےگا۔ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہوں گے۔
اس وقت کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس مشیر عالم پر مبنی دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔ دو رکنی بینچ نے 43 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ریاست کو غیر جانبدار اور منصفانہ ہونا چاہیے، قانون کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اداروں میں، آزادانہ کام کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ حکومت کا کوئی بھی ادارہ یا ایجنسی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہ کرے، کسی بھی ایجنسی یا ادارے کو آزادی اظہار پر پابندی لگانے، ٹی وی نشریات، اخبارات کی اشاعت میں مداخلت کا اختیار نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں پی ٹی آئی اور ایم کیو کیو ایم کے خلاف آبزرویشن بھی دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سانحہ 12 مئی پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے تشدد کے ذریعے ایجنڈے کے حصول کی حوصلہ افزائی ہوئی اور قتل، اقدام قتل میں ملوث حکومت میں شامل بڑے افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے بری مثال قائم ہوئی اور تشدد کے ذریعے ایجنڈے کے حصول کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
فیصلے کے خلاف وزارت داخلہ سمیت متاثرہ فریقین نے 15 اپریل 2019 کو نظر ثانی درخواستیں دائر کی تھیں، وزارت دفاع، وزارت داخلہ، پیمرا اور آئی بی نے بھی نظر ثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔ پی ٹی آئی اور شیخ رشید کی جانب سے نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔
اب سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔
یاد رہےکہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلےکے بعد جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔
