سیاسی جماعتوں نے ٹکٹوں کی تقسیم میں کن اُمیدواروں کو ترجیح دی؟

پاکستان میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے اُمیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر بھی پارٹی قیادت کی ذاتی پسند نا پسند دیکھی جاتی ہے۔ اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر روایتی سیاست دانوں کی اکثریت کو ٹکٹیں جاری کی گئی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دانیال عزیز، طلال چوہدری، عائشہ رجب اور چوہدری جعفر اقبال سمیت دیگر کئی پارٹی رہنماؤں کو ٹکٹ نہیں دیا جس پر بعض اُمیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے سانحہ 9 مئی کے بعد پارٹی پالیسیوں سے بغاوت کرنے والوں کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے 231 حلقوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جاری کردہ ٹکٹس کی لسٹ میں عمران خان اور چودھری پرویز الٰہی سمیت کئی مرکزی رہنماؤں کے نام غائب ہیں جنہیں پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کئے گئے۔
تجزیہ کار اور کالم نویس چوہدری غلام حسین سمجھتے ہیں کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں گزشتہ دو ماہ سے امیدواروں کا انتخاب ہی کر رہی ہیں۔سیاسی جماعتوں میں پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر ٹکٹوں کی تقسیم کا پرانا رجحان ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوری ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہیں، لیکن ٹکٹ کس کو ملے گا اس کا حتمی فیصلہ پارٹی لیڈر ہی کرتا ہے۔اُن کے بقول ایسے میں جو اُمیدوار لیڈر کے قریب ہوتا ہے وہ ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ سالہا سال سے پارٹی کے ساتھ وفادار رہنے اور قربانیاں دینے والے کارکن نظرانداز ہو جاتے ہیں۔حسن عسکری کے بقول سیاسی جماعتیں یہ بھی دیکھتی ہیں کہ اُمیدوار کی مالی حیثیت کیا ہے۔ کیا وہ الیکشن میں پیسہ خرچ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اُمیدوار کی ذات برادری کتنی مضبوط ہے اور مقامی سطح پر اس کا کتنا اثرو رسوخ ہے۔
پاکستان میں پارلیمنٹ اور انتخابات پر نظر رکھنے والے ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک فافن کے نمائندے رشید چوہدری کہتے ہیں کہ گو کہ وہ الیکشن سے قبل اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کر سکتے، لیکن انتخابات کے بعد وہ اس سارے عمل پر اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کریں گے۔ تفصیلی رپورٹ میں یہ بھی شامل ہو گا کہ کس طرح کے لوگوں کو ٹکٹ جاری کیے گئے، ماضی میں اُن کا کردار کیسا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے جس کا سیاسی جماعتوں کو خیال رکھنا چاہیے۔اُن کامزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں امیدواروں کا انتخابات کرتے وقت زمینی حقائق دیکھتی ہیں۔ اُن کی کوشش ہوتی ہے ایسے اُمیدوار کو ٹکٹ دیا جائے جو جیتنے کی اہلیت رکھتا ہو۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں پارٹی کے اندر جمہوریت نہ ہونے کے تاثر کو رد کرتی رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں کہ پارٹی میں فیصلے مشاورت کے بعد کیے جاتے ہیں۔
حسن عسکری کہتے ہیں کہ جب کسی دوسری جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا جاتا ہے تو پھر لامحالہ اس جماعت کو بھی ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔استحکامِ پاکستان پارٹی آئی پی پی کی مثال دیتے ہوئے حسن عسکری کا کہنا تھا کہ اب مسلم لیگ (ن) کو انہیں بھی ساتھ لے کر چلنا ہے اور کچھ حلقوں میں اُنہیں ایڈجسٹ کرنا پڑے گا جس سے لامحالہ ناراضگیاں بھی ہوں گی۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی کچھ نشستوں پر اُمیدواروں کا اعلان نہیں کیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ان حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئےاستحکامِ پاکستان پارٹی کے علیم خان اور عون چوہدری کی ان نشستوں پر حمایت کی گئی ہے۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ گو کہ سیاسی جماعتیں موروثی سیاست کی نفی کرتی ہیں، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں تین، چار ٹکٹیں جاری کی گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارٹی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں تو اُن کی صاحبزادی مریم نواز بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اِسی طرح نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تو وہیں ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی پارٹی ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔
اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کی جائے تو آصف علی زرداری نواب شاہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ بلاول بھٹو لاڑکانہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے صاحبزادوں کو بھی ٹکٹیں جاری کی گئی ہیں۔اسی طرح سابق وزیرِ اعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ کے اہلِ خانہ میں شامل افراد کو بھی ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔
حسن عسکری رضوی کے مطابق پاکستان میں موروثی سیاست ختم نہیں ہوئی کیونکہ حلقوں میں خاندانوں کا اثر ہوتا ہے۔ لہذٰا باہر کے فرد کے بجائے خاندان کے فرد کو ہی ٹکٹ دینے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
