وکلاء قیادت نے PTIکا جنازہ کیسے دھوم دھام سے نکالا؟

عمران خان کے اپنے کالے کرتوتوں کی وجہ سے پابند سلاسل اور نااہل ہونے کے بعد پارٹی کی قیادت دیرینہ ساتھیوں اور پی ٹی آئی کے بانی رہنماؤں کو سونپنے کی بجائے وکلاء کے حوالے کی تاکہ وہ نہ صرف پی ٹی آئی کی ڈھولتی کشتی کو سہارا دیں بلکہ اس کو پار لگانے میں بھی کردار ادا کریں تاہم سیاسی اسرارو رموز سے نابلد وکلاء رہنماؤں نے نہ صرف پی ٹی آئی کو تھوڑے ہی عرصے میں سیاسی طور پر بند گلی میں دھکیل دیا بلکہ منجدھار میں پھنسی پی ٹی آئی کی کشتی کو قانون کے تھپیڑوں کے حوالے کرتے ہوئے طوفان میں ہی غرق کر ڈالا اور الیکشن سے پہلے ہی سیاسی میدان میں پی ٹی آئی کا جنازہ نکال دیا۔
دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا اپنی ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے پس منظر میں عمران خان کا فیصلہ کہ وہ ملک کے بڑے وکیل رہنماؤں سے اپنی پارٹی کی قیادت کرائیں گے بیک فائر کر گیا ہے۔ جس کے بعد اب 8 فروری کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کا پلان اے اور پلان بی فیل ہوگیا ہے۔
وکلا کی قیادت میں چلنے والی پی ٹی آئی کے لیے جو چیز زیادہ ندامت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ پلان اے اور پلان بی دونوں قانونی گراؤنڈز پر فیل ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی کا پلان اے یہ تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑا جائے۔ پلان بی خفیہ رکھا گیا تھا اور کیونکہ بلا نہ ملنے کی صورت میں سامنے آنا تھا اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو پی ٹی آئی نظریاتی کے کارکنوں کے طور پر انتخاب لڑنا تھا جس کا انتخابی نشان ’ بلے باز‘ تھا۔
پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ ہار دیا کیونکہ یہ نہ صرف یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دائرہ اختیار نہیں تھا کہ وہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آئے بلکہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ میں پارٹی کے انٹراپارٹی انتخابات کی قانونی حیثیت کا دفاع کرنے میں بھی ناکام رہی ۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے اس کے بجائے تسلیم کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں کچھ بے ضابطگیاں ہوئیں لیکن انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات کو پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم کرنے پر سوال اٹھایا۔
خیال رہے کہ سقم کے حامل پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات بھی اس وقت ہوئے جب پارٹی کی قیادت وکلا کے پاس تھی، ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے حال ہی میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے اور وہی معاملات چلارہے ہیں۔
انصار عباسی کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسترد کر دیئے تھے کیونکہ ان میں قانونی کمی رہ گئی تھی اور پارٹی انتخابات کے انعقاد میں الیکشن ایکٹ 2017 سے انحراف کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے تحریک انصاف کے پلان بی کو بھی الیکشن کمیشن نے قانونی گراؤنڈ پر ختم کر دیا۔
ایک دن پہلے سپریم کورٹ کی دن بھر کی کارروائی کو محسوس کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں سے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی این کے لیے اپنی ٹکٹیں ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کرائیں۔ میڈیا پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان شعیب شاہین نے کہا کہ پارٹی کارکن پی ٹی آئی این کے نام سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں۔ ریٹرننگ افسران قانوناً پابند ہیں کہ وہ اس کے لیے ٹکٹ جاری کریں جس کے لیے پارٹی اپنے امیدواروں سے کہتی ہے۔
بعد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک آرڈر ایشو کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ امیدوار اپنی درخواستوں کے ذریعے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دوسری جماعت کا انتخابی نشان حاصل کیاجاسکے۔ اعلیٰ ترین الیکٹورل علامت کسی اور سیاسی پارٹی کا ہے۔اعلیٰ ترین الیکٹورل باڈی نے ریٹرننگ افسران سے کہا ہے کہ وہ کسی اور پارٹی کا انتخابی نشان کسی دوسرے امیدوار کو دینے سے گریز کریں۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہر امیدوار الیکشن ایکٹ کے تحت پارٹی سے اپنے تعلق کی سند دینے کا پابند ہے۔ مزید برآں، ایک امیدوار ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا کارکن نہیں ہوسکتا۔
الیکشن کمیشن کے حکم نامے نے پی ٹی آئی کے پلان بی کو بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ ایک امیدوار کی دو سیاسی جماعتوں کی نمائندگی غیر قانونی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت ایک بنیادی قانونی نکتہ نہیں جانتی کہ ایک امیدوار بیک وقت دو سیاسی جماعتوں کا نمائندہ نہیں ہوسکتا اس کی قیادت ملک اور پارٹی کو آگے کیسے چلائے گی۔
