شوگر اسکینڈل، ایف آئی اے میں شہباز شریف کی طلبی

ایف آئی اے نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو رمضان شوگر ملز اور منی لانڈرنگ کیس میں طلب کرلیا۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے 22 جون کو میاں شہباز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے اس حوالے سے دستاویزات ساتھ لانے کو کہا ہے۔ شہباز شریف پر رمضان شوگر ملز اور العربیہ شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔شہباز شریف اور ان کی فیملی پر 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ، چینی کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور سٹہ بازی کے بھی الزامات ہیں۔ طلبی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کو دو دفعہ سوالنامہ بھجوایا گیا مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔ دسمبر 2020 میں ایف آئی اے کی ٹیم نے 5 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا تھا۔ پھر جنوری 2021 میں آپ کو یاد دہانی کرائی گئی، تو آپ نے کہا کہ عطا تارڑ آپ کے جوابات جمع کروائیں گے مگر جواب جمع نہیں ہوئے۔
نوٹس کے مطابق جیل میں بھی ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم شہباز شریف سے تفتیش کے لیے گئی مگر تسلی بخش جواب نہیں دیے گئے، اس لیے اب وہ 22 جون کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوکر ان سوالات کے جواب دیں۔
ایف آئی اے کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر شہباز شریف 22 جون کو پیش نہ ہوئے تو اُن کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔
نوٹس میں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ آپ کو رمضان شوگر ملز میں چھوٹے ملازمین کےکھاتوں میں جانے والے 25 ارب روپے پرجوابات دینے ہیں، کیا آپ کو رمضان، العربیہ شوگرملز اور دیگر جعلی اکاؤنٹس میں بھیجے اور نکالے گئے 25 ارب روپے کا علم ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کو دو دفعہ سوالنامہ بھجوایا گیا، آپ نے جواب نہیں دیا، جنوری 2021 میں آپ کو دوبارہ یاد دہانی کرائی گئی آپ نے کہا عطا تارڑ آپ کے جوابات جمع کروائیں گے مگر جواب جمع نہیں ہوئے۔

Back to top button