عامر خان اپنی پرفیکشن کے بوجھ تلے کیوں دب گئے؟


بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف فلمساز مہیش بھٹ نے مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور اداکار عامر خان کے ساتھ اپنے کام کے تجربے کے حوالے سے بتایا کہ عامر خان پرفیکشن کے بوجھ کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔

عامر خان اور فلم ساز مہیش بھٹ کو بالی وُڈ کی تاریخ کی دو مشہور ترین فلموں میں ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملا لیکن ان دونوں کا تجربہ ویسا نہیں تھا جس کی انہیں اُمید تھی۔ مہیش بھٹ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں عامر خان کے ’پرفیکشن کے تصور اور کام پر اس کے اثرات سے متعلق بات کی ہے، مہیش بھٹ نےعامر خان کو ایک ایسا آدمی قرار دیا ہے جو زندگی کے ہر اعتبار سے ایک مکمل دستاویز ہونے کے اپنے تصور میں گرفتار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عامر خان ایک مخلص لڑکا ہے لیکن پرفیکشن کے بوجھ کی بیماری کا شکار ہے جس کا اثر آپ اور آپ کے آس پاس کے لوگوں پر ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تب بھی یہی معاملہ تھا جب آپ دونوں نے ’دل ہے کہ مانتا نہیں‘ اور ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا، تو مہیش بھٹ نے کہا ’جی وہ ایسا ہی تھا۔ میرے خیال میں وقت کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے کیونکہ آپ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ شاندار کام کیلئے جان لگا دینی چاہئے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ پرفیکشن نہ تو کوئی سائنسی دستاویز ہے اور نہ ہی قانونی دستاویز ہے، یہ آرٹ ورک ہے جو سبجیکٹو ہوتا ہے اور اگر آپ اسکی ایک ایک نوک پلک سنوارنے لگیں گے، ہر ساؤنڈ بائٹ کو درست کرتے رہیں گے اور کہیں گے کہ میں اس لائن پر پھنس گیا ہوں تو پھر فلم مکمل کرنے میں ہمیں برسوں لگ جائیں گے۔

مہیش بھٹ نے عامر خان کو ایک مخلص لڑکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بڑی کامیابیاں حاصل کرنے والا شخص ہے اور میری نیک خواہشات اس کے ساتھ ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ایک پرانے انٹرویو میں مہیش بھٹ نے فلم ’غلام‘ کے دوران عامر خان کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں بتایا تھا کہ میرے لیے وہ کوئی خوش گوار تجربہ نہیں تھا۔ انکا کہنا تھا کہ جب آدمی اپنی عظمت کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے تو یہ بوجھ اس کے آس پاس کے لوگوں کو بھی محسوس ہوتا ہے، اور میرا تجربہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

Back to top button