سپریم کورٹ نے عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری کا نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافی عامر میر اور عمران شفقت کو 7 اگست 2021 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو 26 اگست کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔کیس کی سماعت 20 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندو خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔
سپریم کورٹ نے یہ احکامات آرٹیکل(3) 184 کے تحت دائر کی گئی ایک آئینی درخواست پر جاری کیے ہیں۔ درخواست دائر کرنے والوں میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ،عبدالقیوم صدیقی، عامر میر، عمران شفقت، اسد طور اور امجد بھٹی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری اور ان کو ہراساں کرنے کے کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو 26 اگست کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے ان میں سیکریٹری انفارمیشن، سیکریٹری وزارت انسانی حقوق، آئی جی اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ شامل ہیں۔ طلب کیے جانے والے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صحافیوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات، ان کی گرفتاریوں اور اغوا کے کیسوں کی مکمل پیش رفت رپورٹس کے ہمراہ ذاتی حثیت میں عدالت میں حاضر ہوں۔ اس کے علاوہ صحافتی تنظیموں سی پی این ای، اے پی این ایس، پی بی اے، اور پی ایف یو جے کو بھی نوٹسز جاری کیے گے ہیں تاکہ وہ صحافیوں اور میڈیا کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اپنا موقف بیان کر سکیں۔
سپریم کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور دیگر سرکاری افسران کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، اور ان کے اغوا، گرفتاریوں اور ہراسانی کے واقعات کے حوالے سے اپنے تحریری جوابات 26 اگست 2021 تک عدالت میں جمع کرائیں اور کیس کو اسی بنچ کے سامنے 26 اگست کو لگایا جائے۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس نے معاملے کا آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عوامی مفاد میں نوٹس لیا ہے کیونکہ صحافیوں کو ہراساں کرنا اور ان کی آزادی رائے کا بنیادی حق تلف کرنا عوامی مفاد کا مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر کردہ آئینی پٹیشن میں پریس ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ، عامر میر، عبدالقیوم صدیقی اور عمران شفقت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حکومتی اور ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے انہیں آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، اغوا کیا جاتا ہے، گرفتار کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ چھین لیے جاتے ہیں لیکن ایسا کرنے والے قانون شکنوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے 7 اگست کو سینئر صحافی اور گوگلی نیوز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر میر اور اور وی لاگر عمران شفقت کو لاہور سے سے گرفتار کر لیا تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ جس ایف آئی آر کی بنیاد پر عامر میر کو گرفتار کیا گیا اس میں ایسے ویڈیو پیکجز کو بنیاد بنایا گیا ہے، جن میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، خواتین پر مظالم اور میڈیا کی آواز دبانے کی حکومتی اور ریاستی کوششوں کی مذمت کی گئی ہے۔ عامر میر کے خلاف درج ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف قابل ضمانت اور ناقابل ضمانت دفعات لگائی گئی تھیں۔ تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
ضمانت پر رہائی کے بعد ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل نے 7 اگست کو جو پریس ریلیز جاری کی اس کے مطابق عامر میر اور یوٹیوبر عمران شفقت کے خلاف ابھی تفتیش جاری ہے اور ان پر لگائے گے الزامات کے مزید ثبوت اکٹھے کرکے چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم ایف آئی اے کی حراست میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیتےہوئے عامر میر نے اپنے تحریری بیان میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں جن الزامات پر گرفتار کیا گیا، وہ بیہودہ اور بے بنیاد ہیں۔ ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے تحریری بیان میں عامر میر نے کہا کہ میرے صحافتی مشن کا بنیادی مقصد پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کا تحفظ ہے اور میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان کی بقاء اور عوام کے حقوق کے تحفظ کی یہ جنگ مستقبل میں بھی اسی جذبے سے جاری رکھوں گا۔
ایف آئی اے نے 7 اگست کو عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے اور بعد ازاں انکی ضمانت پر رہائی کے بعد جو پریس ریلیز جاری کی اس کے متن کے مطابق آج مورخہ 07-08-2021 ملزم عمران شفقت اور عامر میر کو بالترتیب ایف آئی آر نمبران 127/2021 اور 128/2021 پیکا ایکٹ کی دفعہ 11، 13، 20، 24 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505، 500 ،469 اور 509 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ان دونوں ملزمان کے خلاف مقدمات اعلیٰ عدالتی ججوں، پاک فوج اور خواتین سے متعلق تضحیک آمیز رویہ رکھنے پر درج کئے گئے۔ یوٹیوب پر چلنے والے گوگلی نیوز اور ٹیلنگز نامی چینلز پر ایسے پروگرام نشر کیے گئے جن سے قومی سلامتی کے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی بنیادوں کو کمزور کر کے ان پر عوام کا اعتماد ختم کیا جا سکے۔ مزید برآں خواتین کے ساتھ بھی تضحیک آمیز رویہ رکھا گیا۔ دونوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے تاہم تفتیش جارہی ہے اور آئندہ ملزمان کے خلاف مزید ثبوت اکٹھا کرکے چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔
دوسری جانب ایف آئی اے کے سائبر کرائم سکل لاہور سرکل کے ایس ایچ او کی جانب سے عامر میر کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے گوگلی نیوز یوٹیوب چینل نے پاکستان کے قومی اداروں کو کمزور کرنے اور عوام کا ان اداروں پر اعتماد متزلزل کرنے کی غرض سے ایک باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی الزام ہے کہ عامر میر عدلیہ، فوج اور خفیہ ایجنسیوں جیسے معتبر قومی اداروں کی کردار کشی کر کے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کر رہے ہیں۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ اداروں کے خلاف اس طرح کی پروپیگنڈا مہم سے پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم عامر میر کے خلاف درج کردہ ایف آئی آر کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں ایسے ویڈیو پیکجز کو ان کی گرفتاری کی بنیاد بنایا گیا جن میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، خواتین پر مظالم اور میڈیا پر ریاستی پابندیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف آئی آر میں گوگلی نیوز کی جن ویڈیو پیکجز کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے ان میں نہ تو فوج اور نہ ہی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے کوئی ایسا پیکج موجود سے موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ان اداروں کی تضحیک کی گئی ہے۔
عامر میر کے خلاف درج ایف آئی آر میں شکایت کنندہ ایک نامعلوم شخص عثمان زبیری ہے جو اسلام پورہ لاہور کا رہائشی ہے۔ اس نے یہ مطالبہ کیا کہ قومی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلانے والے عامر میر کو گرفتار کر کے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ایف آئی آر کے مطابق سائبر کرائم سرکل لاہور کے ایس ایچ او فخر عباس نے ان الزامات کی بنیاد پر عامر میر کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد انہیں 7 اگست کو گھر سے دفتر جاتے ہوئے وارنٹ دکھائے بغیر زبردستی اغوا کر لیا گیا۔ عامر میر سے ان کا لیپ ٹاپ اور دو موبائل فون بھی چھین لیے گئے۔ لیکن گرفتاری کے بعد عامر میر نے ایف آئی آر میں درج الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہا تھا کہ گوگلی نیوز کے جن ویڈیو پیکجز کو میری گرفتاری کی بنیاد بتایا گیا ہے، وہ تمام تر صحافتی اصولوں کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے اور ان میں سے کسی ایک پیکیج میں بھی فوج، خفیہ اداروں، عدلیہ اور خواتین کی تضحیک کا کوئی پہلو موجود نہیں اور یہ تمام پیکجز حقائق کی بنیاد پر بنائے گے۔ انکا کہنا ہے کہ مجھے گرفتار کرنے کا بنیادی مقصد ہراساں کرکے ڈرانا اور دھمکانا تھا جس کے بعد مجھ پر ایک معافی نامہ لکھنے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالا گیا جس سے میں نے انکار کردیا۔ عامر میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کو اپنا مؤقف دیتے ہوئے واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کا بنیادی مقصد ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو پاکستان اور اسکے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ اپنا یہ مشن بلا خوف وخطر جاری رکھیں گے۔
عامر میر نے کہا کہ اس سے پہلے ایف آئی اے اسلام آباد کی سائبر کرائم ونگ ان کے خلاف چار کیسز فائل کر چکی ہے لیکن ہر مرتبہ انہیں نوٹس دے کر اسلام آباد بلایا گیا جہاں انہوں نے اپنا تحریری اور زبانی موقف جمع کروایا۔ لیکن اس مرتبہ انہیں بغیر کوئی نوٹس اور اطلاع دیے ایک نئے کیس میں سڑک سے گرفتار کر لیا گیا۔ عامر میر نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے مین سٹریم میڈیا صرف اس وجہ سے چھوڑا تھا کہ اسے ریاستی اداروں نے ہائبرڈ کپتان حکومت کے ساتھ مل کر یرغمال بنا لیا ہے۔ عامر میر نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر گوگلی نیوز اس عزم سے شروع کیا تھا کہ وہ کسی جبر کے بغیر آزادانہ صحافت کر سکیں، لیکن ریاست اور حکومت نے یہاں بھی ان کے مشن کے راستے میں روڑے اٹکانا شروع کردیے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ خوفزدہ ہونے کی بجائے جمہوریت، عوام کے آئینی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی جنگ جاری رکھیں گے۔ عامر میر نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ دھونس یا دباؤ اور دھمکیاں انہیں ان کے مشن سے نہیں ہٹا سکتیں۔
عامر میر نے مزید کہا کہ میں پاکستان سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور میری حب الوطنی پر کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی وہ کسی ادارے کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ ان کے حب الوطن ہونے کا فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایف آئی اے کو آگے لگانے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آزاد میڈیا کی آواز دبانا بند کردیں کیونکہ آزاد میڈیا قوم کا اجتماعی شعور ہوتا ہے جسکے بغیر قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
