عمرانڈوزبینگن، بکری اور چارپائی کی تشہیر کیسے کر رہے ہیں؟

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو بَلّے کے نشان سے محروم ہونا پڑا ہے جس کے باعث اس کے امیدوار اب آزاد حیثیت میں انتخابات لڑ رہے ہیں۔ ان امیدواروں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مختلف انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔پارٹی نشان سے محروم ہونا اور انتخابی عمل سے باہر ہونا پی ٹی آئی کے لیے ایک دھچکا ضرور ہے لیکن پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس فیصلے پر افسوس کرنے میں وقت ضائع کرنے سے گریز کیا ہے۔
پارٹی نے اپنے حامیوں کو مختلف طریقوں سے تحریک دی ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں پارٹی کے نامزد امیدواروں کے انتخابی نشانات کی تشہیر جاری رکھیں۔ اسی طرح پارٹی کے لیے اپنے ووٹرز کو مختلف انتخابی نشانات کے باوجود ایک ’نظریے‘ پر اکھٹا کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے لیکن سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے حامی اپنی تشہیری مہم کو دلچسپ طریقوں سے چلا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے رہنما جبران الیاس نے اپنے ایکس پر لکھا، ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوگ منایا جانا تھا لیکن یہ کوئی اور ہی جنریشن ہے۔ انصافینز نے اس دن کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت سب سے زیادہ تفریحی دن میں تبدیل کر دیا ہے۔‘
پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ایکس پر ’انتخابی نشان عمران خان‘ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اسی حوالے سے ایک صارف نے لوک گلوکار ملکو کا مبینہ گانا شیئر کیا جس میں وہ ’ٹوٹا ساڈی جان دا اے۔ نشان پاویں کوئی بھی ہووے، ووٹ ساڈا خان دا اے‘ گا رہے ہیں۔سابق سپیکر قومی اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے ایک پرانی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’انتخابی نشان وہیل چیئر‘۔ اس ویڈیو میں انہیں وہیل چیئر تقسیم کرتے ہوئے اور وہیل چیئر پر بیٹھے افراد سے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایک صارف نے اپنے حلقے این اے 46 سے پارٹی کے نامزد آزاد امیدوار عامر مسعود مغل کے انتخابی نشان ’بینگن‘ کی تشہیر کرتے ہوئے ایک گانا شیئر کیا جس کے بول کچھ یوں ہیں، ’میں ہوں بینگن تازہ، میں ہوں صدیوں کا راجہ، چاہے بنا لو بھرتا میرا چاہے بنا لو بینگن باجا‘ ایک طرف اگر پی ٹی آئی کے نامزد آزاد امیدوار اپنے انتخابی نشانات کے حوالے سے دلچسپ تشہیری مہم چلا رہے ہیں تو دوسری طرف عوام بھی انتخابی نشانات کا حوالہ دیتے ہوئے مختلف مطالبات کر رہے ہیں۔اِسی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’جب جیت جائیں تو تھالی کا بینگن نہ بن جانا، یعنی غیر مستقل مزاجی نہ اختیار کر لینا۔‘سوشل میڈیا پر صارف نے لکھا کہ ’اب بینگن کی خریداری میں اضافہ ہو گا۔ ہر شخص ایک بینگن خریدے اور اپنے گھر کے باہر لٹکائے اور بینگن کو ووٹ دیں۔‘
کئی امیدواروں کو چارپائی بھی بطور انتخابی نشان الاٹ کی گئی ہے۔ اس حوالے سے کئی ویڈیوز اور دلچسپ نعرے بھی زیر گردش ہیں۔ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، انتخابی نشان چارپائی والے اپنی انتخابی مہم یوں چلائیں، ’ویڈیو میں پی ٹی آئی کی ٹوپیاں پہنے چند افراد چارپائی اٹھائے نعرہ بازی کر رہے ہیں۔‘ایک صارف نے چارپائی پر پی ٹی آئی کا رنگ چڑھانے کی ویڈیو بھی شیئر کی۔صارف احمد حسن بوبک نے دلچسپ نعرے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’این اے 109 جھنگ سے صاحبزادہ محبوب سلطان کا انتخابی نشان چارپائی، ویڈیو میں عوام ’آئی آئی چارپائی‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ظفر اللہ وزیر نے عمران خان کی مختلف تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جن کا انتخابی نشان، پیالہ، چارپائی، بوتل یا ٹینس ریکٹ ہے، ان کے لیے پیار سے، اس پوسٹ میں عمران خان کو چارپائی پر لیٹے، پیالہ ہاتھ میں پکڑے، ریکٹس سے کھیلتے اور بوتل پکڑے دکھایا گیا ہے۔ ‘
فرح درانی نامی صارف نے سرگودھا کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’سرگودھا میں پی ٹی آئی امیدواروں کو پیالہ بطور انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ اب لوگوں نے کپ میں چائے پینا ترک کر کے پیالے میں چائے پینا شروع کر دی ہے۔ ویڈیو میں کئی افراد پیالے میں چائے پیتے ہوئے کہہ رہے ہیں ’عمران خان سے بلّے کا نشان لے لیا گیا۔ اب ہم سب کپ کی بجائے پیالے میں چائے پی رہے ہیں۔‘ ویڈیو میں تمام افراد نے چائے سے بھرے پیالے تھامے ہوتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں عام انتخابات کے دوران آزاد امیدوار اپنے انتخابی نشانات کی اس قدر دلچسپ انداز میں تشہیر کر رہے ہیں۔ اس سے قبل آزاد امیدوار اپنے متعلقہ حلقے میں روایتی انداز میں تشہیر کرتے رہے ہیں تاہم اس بار ایک بڑی سیاسی جماعت کے انتخابی عمل سے باہر ہونے کے بعد ملک گیر تشہیر جاری ہے۔
