عمران حکومت کی سوا تین سالہ عقلمندیوں کی داستان


وزیراعظم عمران خان کی اندھا دھند حمایت سے بظاہر توبہ کر لینے والے یوتھیے لکھاری ارشاد بھٹی نے کپتان کی سوا تین سالہ عقلمندیوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان کے بچے بچے کو یہ ’عقلمندیاں‘ ازبر ہو چکیں پھر بھی دل چاہا کہ انکی سب ’عقلمندیاں‘ ایک ہی جگہ اکٹھی کردوں تاکہ آنے والے وقتوں میں کوئی ان ’عقلمندیوں‘ سے مستفید ہونا چاہے تو اسے اِدھر اُدھر بھٹکنا نہ پڑے، یہاں تاہم یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میرے کپتان کی اِن ’عقلمندیوں‘ کو آپ نے بےوقوفیاں یا بونگیاں ہرگز نہیں کہنا، یہ عقلمندیاں ہیں، اُن عقل مندوں کی عقل مندیاں جو اِن ’عقلمندیوں‘ کے بعد بھی خود کو افلاطون سمجھتے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ  بسم اللہ کرتے ہیں وفاقی وزیر غلام سرور سے، یہ پٹرولیم کے وزیر بنے تو بولے ’’میری تو اِس وزارت کیلئے تیاری ہی نہیں تھی‘‘، یہ غلام سرور ہی جنہوں نے قوم کو یہ مشورہ بھی دیا کہ گیزر لگژری آئٹم ہے، اس سے جان چھڑوائیں، یہ غلام سرور ہی جو جب وزیر ہوا بازی بنے تو یہ کہہ کر پی آئی اے پر خودکش حملہ کردیا کہ ’’ہمارے تو سارے پائلٹ جعلی ہیں‘‘، اس بیان کے بعد پوری دنیا میں پی آئی اے کا بھٹہ بیٹھ گیا، وہ پی آئی اے جو پہلے ہی قرضوں، خساروں، کرپشن، بےحساب ملازمین کے بوجھ تلے دبی سسک رہی تھی۔ اس پی آئی اے کو کسی تحقیق، تفتیش کے بنا غلام سرور خان نے پوری دنیا میں تماشا بنادیا، لیکن ابھی تک 50 پائلٹ بھی ایسے نہیں نکلے جو جعلی ثابت ہو چکے ہوں مگر غلام سرور خان نے پہلے پوری دنیا کو یہ بتایا کہ ہماری قومی ائیر لائن کے سارے پائلٹ جعلی ہیں، پہلے پوری دنیا میں پی آئی اے بین کرائی اور اب تحقیق اور تفتیش فرما رہے ہیں کہ کون سا پائلٹ اصلی ہے اور کون سا نقلی۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ اب بات ہو جائے، خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر مشتاق غنی کی ’عقلمندی‘ کی، آٹا، روٹی بحران نے سر اٹھایا تو کہنے لگے ’’یہ بحران ٹل جائے اگر قوم دو کی بجائے ایک روٹی کھانا شروع کر دے‘‘۔
 شکر ہے مشتاق غنی نے قوم کو ایک روٹی کھانے کی اجازت دیدی، ورنہ وہ یہ کہہ دیتے کہ چھوڑیں روٹی کو، روٹی میں کیا رکھا ہوا تو ہم نے ان کا کیا اکھاڑ لینا تھا، یہاں خیبر پختونخوا کے ہی صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کی دو ’عقلمندیاں‘ یاد آگئیں، ملک میں ٹماٹر مہنگے ہوئے تو کہا ’’کیا ٹماٹر، ٹماٹر کی رٹ لگا رکھی ہے، ٹماٹر مہنگے تو کیا ہوا، آپ سالن میں ٹماٹروں کی بجائے دہی ڈال لیا کریں‘‘، کے پی میں ڈاکٹروں نے ہڑتال کی تو شوکت یوسفزئی بولے ’’یہ ہڑتالی ڈاکٹر بھی کتنے احسان فراموش، ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پکوڑے بیچ رہے تھے، ہم نے انکو نوکریاں دیں، اور اب اب سر پر چڑھ گئے ہیں”۔ پکوڑوں، ٹماٹروں، روٹیوں کا ذکر ہو اور خالص شہد والے علی امین گنڈا پور یاد نہ آئیں، یہ کیسے ممکن۔ کلبھوشن کو ن لیگ نے بھگا دیا ہے، میرا بیٹا، میری کار، میری زمین والے گنڈا پور قوم کو یہ مشورہ دے چکے کہ ’’آٹا، گندم، چینی بحران حل کرنا ہے تو قوم کا ہرفرد روٹی کھاتے وقت 9 نوالے کم کھائے اور چائے میں چینی ڈالتے وقت 9 چینی کے دانے کم ڈالے‘‘۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ اب بات ہو جائے ڈاکٹر فردوس عاشق کی ’عقلمندی‘ کی، یہ تب وزیراعظم عمران خان کی ترجمان تھیں، زلزلہ آیا، ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں گھر زمین بوس ہوئے، کئی قیمتی جانیں گئیں، اس ساری صورتحال پر زیر لب مسکراتے کمال جوشیلے انداز میں ڈاکٹر صاحبہ نے کچھ یوں تبصرہ فرمایا ’’زلزلے سے مت گھبرائیں، جب زمین کے اوپر تبدیلی آتی ہے تو زیرِ زمین زلزلہ آہی جاتا ہے‘‘، یہ بھی ڈاکٹر صاحبہ نے ہی قوم کو بتایا تھا کہ ملک میں 5روپے کے 20کلو مٹر مل جاتے ہیں۔ یہاں اپنے حفیظ شیخ کی ’عقلمندی‘ بھی نہیں بھولنی چاہیئے، تب وہ وزیر خزانہ تھے جب ملک میں ٹماٹر سو روپے فی کلو سے بھی مہنگے ہو چکے تھے، پر موصوف بولے ’’کون کہتا ہے کہ ٹماٹر مہنگے ہیں، ارے ٹماٹر تو 17روپے فی کلو مل رہے ہیں‘‘۔ آپ حفیظ شیخ کا یہ ویڈیو کلپ دیکھیں، جس حالت میں اور جیسے وہ بول رہے تھے، شکر ہے انہوں نے ٹماٹر 17 روپے فی کلو کی خوشخبری سنائی، وہ اس لمحے ٹماٹر 7 روپے فی کلو بھی بتا سکتے تھے۔ یہاں ہمیں فخر امام کی ’عقلمندی‘ بھی یاد آتی ہے، موصوف فوڈ سیکورٹی کے وفاقی وزیر تھے، ملک میں گندم بحران پیدا ہوا، تو انہوں نے اسمبلی میں فرمایا ’’تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ تو عجوبہ ہی ہو گیا، ملک میں گندم ہوئی بھی بہت، حکومت نے گندم خریدی بھی بہت اور گندم کہیں مل بھی نہیں رہی۔
اسکے بعد ارشاد بھٹی بات کرتے ہیں نواز شریف، پرویز مشرف، عمران خان سب کے مشترکہ وزیر شیخ رشید کی، انہیں کرونا ہوا تو کہا ’’یہاں صحت کی سہولتوں کا کیا رونا، مجھے خود کرونا کا انجکشن چیئرمین این ڈی ایم اے نے ارینج کرکے دیا ورنہ میں تو مارا جاتا‘‘۔ خیر سے درجن بھر وزارتیں بھگتانے والے شیخ صاحب جب بیمار ہوئے تو ریلوے کے وزیر تھے، موصوف کسی سویلین سرکاری اسپتال میں داخل نہیں ہوئے، کسی ریلوے اسپتال میں نہیں لیٹے، سیدھے پہنچے پنڈی کے سب سے بڑے فوجی اسپتال۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ کرونا کا ذکر ہو اور زرتاج گل نہ یاد آئیں، یہ کیسے ممکن، موصوفہ کرونا کی ایسی تعریف بیان کر چکیں کہ خود کرونا بھی حیران رہ گیا، یہ زرتاج گل ہی تھیں جنہوں نے فرمایا کہ ’’اس بار ملک میں بارشیں عمران خان کی برکت سے زیادہ ہو رہی ہیں‘‘، زرتاج گل نے ہی ہمیں یہ بھی بتایا کہ عمران خان کی مسکراہٹ قاتل ہے، اور کپتان جب کسی میٹنگ میں چل کر آتے ہیں تو آدھے مسائل ان کے آنے سے ہی حل ہو جاتے ہیں۔ اسخے بعد ارشاد بھٹی فواد چوہدری کی ’عقلمندی‘ کی بات کرتے ہیں، یہ قوم کو بتا چکے کہ عمران خان جس ہیلی کاپٹر پر دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر آئیں، وہ ہیلی کاپٹر اتنا سستا پڑتا ہے کہ 55روپے فی کلو میٹر خرچہ آتا ہے، یقین جانیے، جب چوہدری صاحب نے یہ بات کی تب میرے پاس ہیلی کاپٹر پارکنگ کی جگہ نہیں تھی ورنہ مہنگی پڑتی گاڑی بیچ کر میرا ایک سستا ہیلی کاپٹر خریدنے کو دل بہت چاہا تھا۔
بقول بھٹی وہ تو اب سائیں عثمان بزدار کی عقلمندی سے خود سیکھنے کی کوشش رہے ہیں جو کہ اب دوسروں کو بہت کچھ سکھا رہے ہیں، ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ آخر میں مجھے مہنگائی کا رونا رونے والی ناسمجھ قوم کو مردان سے کپتان کی ٹیم کے ممبر کے پی اسمبلی طفیل انجم کی یہ خاص ’عقلمندی‘ پہنچانی تھی کہ ’’مہنگائی اللہ کی طرف سے آتی ہے‘‘۔ مطلب یہ کہ مہنگائی پر رونے اور ناشکری کرنے کی بجائے اسے اللہ کی رضا سمجھ کر برداشت کرو اور اسکا شکر ادا کرو، باقی یہ آئی ایم ایف سے معاہدہ، بین الاقوامی مہنگائی کی لہر، حکومتی نالائقیاں اور نااہلیاں، یہ سب فضول قصے اور کہانیاں ہیں اور ان کا مقصد صرف عقلمندوں کی حکومت کو بدنام کرنا ہے۔

Back to top button