غیر قانونی مقیم افغانیوں کو پاکستان سے بے دخل کرنے کا فیصلہ

حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت جلد ہی افغان باشندوں سمیت تمام غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کو ملک چھوڑنے یا نتائج کا سامنا کرنے کیلئے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن کا اعلان کرنے والی ہے۔امکان ہے کہ اس اقدام سے تقریباً 10 لاکھ افغان متاثر ہوں گے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے دو سال قبل ہمسایہ ملک افغانستان میں سخت گیر طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں پناہ لی تھی۔
سینئرصحافی انصار عباسی کے مطابق ایک ماہ کی ڈیڈ لائن کے بعد ملک بھر میں وسیع بنیادوں پر ایک کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے افغان باشندوں سمیت غیر قانونی تارکین کی نشاندہی اور انہیں ملک سے ڈی پورٹ کریں گے۔ ایک باخبر ذریعے نے کہا کہ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی آئندہ چند روز میں اس پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم پاکستان کے نگراں وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کو ملک سے نکالنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری طور پر رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور قانونی طور پر رہنے والوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔
انصار عباسی کے مطابق اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ پاکستان کو غیر قانونی تارکین وطن کی آماجگاہ نہیں بننے دیا جائے گا، ایسے غیر قانونی تارکین میں زیادہ تر نہ صرف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں بلکہ اسمگلنگ مافیا کا حصہ بھی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ حکام نے پہلے ہی غیر قانونی افغان تارکین کو گرفتار کر لیا ہے جو ڈالر کی غیر قانونی تجارت میں ملوث تھے۔ اس سے ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا تھا۔ ایسے غیر قانونی شہریوں کی ایک بڑی تعداد مختلف بڑے شہروں بشمول وفاقی دارالحکومت میں کاروبار بھی کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے رجحان کی وجہ بھی غیر قانونی افغان باشندوں کی بڑھتی تعداد کو بتایا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں 11؍ لاکھ غیر قانونی افغان پناہ گزین قیام پذیر ہیں اور ان میں سے تقریباً 4؍ لاکھ ایسے ہیں جو اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے وقت پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے، جبکہ باقی سات لاکھ ایسے ہیں جو ملک میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 11؍ لاکھ افغان پناہ گزین ہیں جن کے پاس کوئی ویزا ہے نہ قانونی دستاویز جو انہیں ملک میں قیام کی اجازت دیتی ہو۔ ان میں سے زیادہ تر غیر قانونی پناہ گزین ریاست مخالف اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور اسی لیے انہیں جلد از جلد ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے اور ایک موقع ایسا بھی تھا جب پچاس لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم تھے۔ کچھ اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی تقریباً چالیس لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں موجود ہیں۔ تاہم، سرکاری ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد کم ہے جن کے پاس مستند پناہ گزین کارڈ موجود ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت طلب کر لی ہے۔ اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ترجمان قیصر خان آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے اس منصوبےسے ان افغانوں پر اثر پڑ سکتا جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔ اگر انہیں زبردستی واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگیاں یا آزادی خطرے میں پڑ جائے گی۔قیصر آفریدی کے مطابق ان کا ادارہ پاکستانی ہم منصبوں سے نئی پالیسی کے بارے میں وضاحت مانگ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے مہاجرین کی فراخدلانہ میزبانی کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اس فراخدلی کو اس کی منزل تک پہنچانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
