فوج مخالف بیانیے پر تحریک انصاف ٹوٹنے اور بکھرنے لگی

 

 

 

عمران خان کی جانب سے ازسرِ نو تشکیل دی گئی تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کے اہم رہنما فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف جارحانہ موقف سے بتدریج پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اس اختلاف کا مرکز خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی ہیں، جو عوامی سطح پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ابتدائی دنوں میں وہ اسی بیانیے کے حامی تھے۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی پر شدید دباؤ ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کریں اور اس حوالے سے ایف آئی آر درج کروائیں، تاہم وہ ایسا کرنے سے انکاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بننے سے قبل سہیل آفریدی اسی موقف کے حامی تھے، لیکن اب وہ اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آفریدی چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا مرکزی انفارمیشن ونگ ان ڈرون حملوں کی مذمت کرے۔ اس حکمتِ عملی نے وزیراعلیٰ آفریدی کو پارٹی کے اطلاعاتی ونگ کے ساتھ براہِ راست تصادم میں لا کھڑا کیا ہے۔

 

پارٹی کی سنٹرل انفارمیشن ونگ کے ارکان کا مؤقف ہے کہ انہیں ایک ایسے معاملے پر فوج پر تنقید کے لیے بطور پراکسی استعمال کیا جا رہا ہے جو آئینی طور پر صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کشیدگی تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کھل کر سامنے آئی۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دوبارہ تشکیل دی گئی پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اب تک تین اجلاس ہو چکے ہیں، تاہم چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان ایک بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ عملاً اس کمیٹی کو سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ چلا رہے ہیں، جو باضابطہ طور پر بیرسٹر گوہر علی خان کو پارٹی چیئرمین تسلیم نہیں کرتے۔

 

ذرائع کے مطابق چند روز قبل سلمان اکرم راجہ کی طلب کردہ میٹنگ بڑی حد تک علیمہ خان کی اس عوامی اپیل کے زیرِ اثر رہی، جس میں انہوں نے گزشتہ منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار کارکنوں کو متحرک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پیش رفت سے پارٹی قیادت کے اندر یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ سلمان اکرم راجہ ایک غیر جانبدار تنظیمی سربراہ کے بجائے علیمہ خان کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس اپیل پر سیاسی کمیٹی کے اندر شدید اختلاف سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ارکان نے نشاندہی کی کہ ایک سابقہ اندرونی مفاہمت کے تحت اڈیالہ جیل کے باہر اجتماعات کی ذمہ داری منگل کے دنوں میں باری باری خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان تقسیم تھی۔ چونکہ 6 جنوری کو خیبر پختونخوا کی باری تھی، اس لیے بعض شرکاء کا مؤقف تھا کہ اس اجتماع کی ذمہ داری مکمل طور پر خیبر پختونخوا چیپٹر پر عائد ہوتی ہے۔

 

اسی بحث کے دوران خیبر پختون خوا پی ٹی آئی کے صدر جنید اکبر خان نے عملی طور پر پارٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے بکھرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کھل کر سوال اٹھایا کہ وہ آخر کس کی ہدایات پر عمل کریں: عمران خان، بشریٰ بی بی، علیمہ خان، محمود خان اچکزئی، سلمان اکرم راجہ یا بیرسٹر گوہر علی خان؟ اس موقع پر جنید اکبر خان نے واضح کیا کہ مالی وسائل کے بغیر بڑے اجتماعات کو منظم کرنا عملاً ناممکن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سابقہ انتظام کے تحت علی امین گنڈاپور ذاتی طور پر قانونی امداد، زخمی کارکنوں اور زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ کے لیے مالی وسائل کا بندوبست کرتے تھے، تاہم اب یہ مالی معاونت ختم ہو چکی ہے۔ اجلاس میں شریک شرکاء کے اندازے کے مطابق 10 ہزار افراد کو متحرک کرنے کے لیے کم از کم 10 سے 15 کروڑ روپے درکار ہوں گے، جبکہ اس وقت نہ فنڈز اکٹھا کرنے کا کوئی مؤثر طریقہ موجود ہے اور نہ ہی ان کی تقسیم کا کوئی واضح نظام۔

عمران جارحیت اور تشدد کے راستے پر کیوں دوڑ رہے ہیں؟

ذرائع کے مطابق جنید اکبر خان نے عملاً ہاتھ کھڑے کر دیے اور واضح پیغام دیا کہ مشاورت، وسائل اور اختیارات کی واضح تقسیم کے بغیر خیبر پختونخوا سے طے شدہ تعداد پوری کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ پارٹی کی جانب سے تمام ارکانِ اسمبلی کو ماہانہ 50 ہزار روپے پارٹی فنڈ میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم جنید اکبر خان نے اجلاس کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ارکانِ صوبائی اسمبلی اس قابل نہیں کہ وہ یہ رقم ادا کر سکیں۔ اس بیان پر اجلاس میں شریک بعض دیگر ارکان شدید برہم بھی ہوئے۔ یہ تمام پیش رفت تحریک انصاف کے اندر ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں سینئر رہنما اپنے سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹتے دکھائی دے رہے ہیں، تنظیمی اختیار منتشر ہو چکا ہے اور سیاسی کمیٹی اجتماعی فیصلوں کے بجائے اندرونی اور بیرونی دباؤ کے تحت چلتی نظر آتی ہے۔ ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی کو شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے، اندرونی ذرائع خبردار کر رہے ہیں کہ انتشار، تضادات اور قیادت کا ’دوسروں کے پیچھے چھپنا‘ بیرونی چیلنجز کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button