’’فیس بک‘‘ نیوز ٹیب کا فیچر کیوں بند کرنے والا ہے؟

معروف سوشل میڈٰیا پلیٹ فارم فیس بک نے اپنے صارفین کیلئے نیوز ٹیب کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، ابتدائی طور پر اس فیچر کو متعدد ممالک میں بند کیا جا رہا ہے، فیس بک پر 2018 کے بعد نیوز ٹیب کا سیکشن یورپی ممالک سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں متعارف کرایا گیا تھا۔سیکشن پر بڑے نشریاتی اداروں کو خبروں کے لنکس شیئر کرنے کا اختیار ہے اور ان لنکس کے لیے فیس بک کمپنیوں کو معاوضہ فراہم کرتا ہے۔ یورپی ممالک کے علاوہ نیوز ٹیب کا سیکشن کینیڈا، آسٹریلیا، امریکا اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بھی موجود ہے لیکن اب فیس بک نے اسے یورپ کے چند ممالک میں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’انگیجٹ‘ کے مطابق فیس بک نے برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں نیوز ٹیب سیکشن کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ان ممالک میں بھی اب پاکستان کی طرح نیوز ٹیب سیکشن صارفین کو نظر نہیں آئے گا اور نہ ہی وہاں کے نشریاتی ادارے فیچر سے پیسے کما سکیں گے، البتہ وہاں پر نشریاتی اداروں کو اپنے پیجز پر خبروں کے لنکس معمول کی طرح شیئر کرنے کا اختیار ہوگا۔نیوز ٹیب کا سیکشن پاکستان اور بھارت سمیت درجنوں ممالک میں متعارف نہیں کرایا گیا اور نہ ہی اسے یہاں متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک میں نشریاتی ادارے اپنے پیجز کے ذریعے خبروں کی تشہیر کر سکتے ہیں اور انہیں اپنے پیجز پر فالووز اور ویڈیوز دیکھے جانے کی مد میں معاوضہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔کمپنی نے بتایا کہ ہم اپنی توجہ اور وسائل ریلز ویڈیوز سمیت ان معاملات پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں جو لوگ ہمارے پلیٹ فارم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ان ممالک میں خبروں پر مبنی مواد تو دستیاب ہوگا مگر اس حوالے سے مختص مخصوص ٹیب کو ختم کر دیا جائے گا۔یہ میٹا کی جانب سے فیس بک میں خبروں کے مواد کو نیچے کرنے اور خود کو ٹک ٹاک جیسا بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، میٹا کی جانب سے جولائی میں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکی میڈیا اداروں کو فیس بک نیوز ٹیب کے مواد پر معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔اس وقت بھی کمپنی کا کہنا تھا کہ ویڈیو مواد پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔خیال رہے کہ فیس بک نیوز نامی یہ ٹیب صرف امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور آسٹریلیا میں دستیاب ہے، دسمبر میں نئی تبدیلیوں کے بعد یہ ٹیب صرف امریکا اور آسٹریلیا میں صارفین کو دستیاب ہوگا، میٹا کے مطابق دنیا بھر میں فیس بک صارفین 3 فیصد سے کم خبروں پر مبنی مواد کو دیکھتے ہیں۔میٹا کی جانب سے کہا گیا کہ میڈیا کمپنیاں ریلز اور ہمارے اشتہاری نظام کے ذریعے زیادہ افراد تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں، یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب گزشتہ دنوں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ میٹا کی جانب سے یورپ میں اشتہارات سے پاک سبسکرپشن پلان فیس بک صارفین کے لیے متعارف کرایا جا سکتا ہے، یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات پر کیا جا رہا ہے۔
