فیض حمید قیدیوں کو لاشوں کیساتھ سرد خانے میں بند کرتا تھا

سینیئر صحافی جاوید چوہدری کے ہوشربا انکشافات

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ 14 برس قیدِ بامشقت کی سزا پانے والے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائیرڈ) فیض حمید کے دور میں زیرِ حراست افراد کو انتہائی غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا تھا، حتیٰ کہ انہیں ایسے سرد خانوں میں بند کیا جاتا تھا جہاں لاشیں رکھی جاتی ہیں۔ اپنے حالیہ وی لاگ میں جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سرد خانوں میں شدید سردی، اندھیرا اور تنہائی ہوتی تھی، جس کے باعث زیرِ حراست افراد کو یہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہے۔ بعض افراد کا تو بول و براز بھی وہیں نکل جاتا تھا اور وہ شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہو جاتے تھے۔

جاوید چوہدری کے مطابق یہ وہ دور تھا جب فیض حمید اس قدر طاقتور سمجھے جاتے تھے کہ جس شخص کو حراست میں لینے کا حکم دیتے، اسے اٹھا لیا جاتا، اور جسے چھوڑنے کا کہتے، اسے چھوڑ دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کابینہ میں وزراء کے تقرر اور برطرفی کے فیصلے بھی فیض حمید ہی کرتے تھے۔ یہ فیصلہ بھی وہی کرتے تھے کہ کون سی وزارت کس کے پاس رہے گی اور کس وزیر کو عہدے سے ہٹایا جائے گا۔ خواجہ محمد آصف ہوں یا رانا ثنا اللہ خان، عمران خان کی مخالفت کرنے والے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کرپشن اور منشیات فروشی کے جھوٹے کیسز بنانے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کے فیصلے بھی فیض حمید کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی وزیر کسی پالیسی یا معاملے پر رائے دینے کی کوشش کرتا تو اسے ہدایت دی جاتی کہ وہ اس موضوع سے دور رہے، کیونکہ طاقت کے مراکز میں یہ بات ناپسند کی جاتی تھی کہ عقل کل فیض حمید کی فیصلہ سازی میں کوئی مداخلت کرے۔

جاوید چوہدری کے مطابق فیض حمید کے اثر و رسوخ کا دائرہ صرف حکومت تک محدود نہیں تھا بلکہ سیاسی جماعتوں اور بڑے میڈیا اداروں کے بارے بھی فیصلے وہی کرتے تھے۔ انہوں نے جیو میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عمران خان کے دور حکومت میں فیض حمید کے ایما پر جھوٹا کیس بنا کر نیب کی تحویل میں دے دیا گیا جہاں وہ بیمار ہو گے۔ شدید علالت کے باعث شکیل الرحمن کو ہسپتال منتقل کیا گیا، کیونکہ وہ کینسر کے مریض تھے، بعد میں وہ ایک طویل عدالتی کاروائی کے بعد بے گناہ ثابت ہوئے لیکن اس قید کے اثرات ان کی شخصیت اور صحت پر بری طرح اثر انداز ہوئے۔

جاوید چوہدری نے اپنے وی لاگ میں مزید بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو بھی جھوٹے کیسز میں گرفتار کیا گیا جو کہ ثابت نہ ہو سکے۔ صحت کے سنگین مسائل کے باوجود انہیں سخت حالات میں رکھا گیا۔ اسی طرح آصف علی زرداری، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف کے خلاف بھی عمران خان کے دور حکومت میں فیض حمید کے زیر سایہ جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے جنہیں بعد ازاں عدالتوں میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔ جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف، جو کینسر کے مریض ہیں، ان کے ساتھ قید کے دوران غیر انسانی سلوک روا اختیار کیا گیا۔ خواجہ آصف کے خلاف غداری کا کیس بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات فروشی کا ایسا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جو کسی بھی عدالت میں ثابت نہ ہو پایا۔

جاوید چوہدری کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہیں لاپتہ افراد کے کیسز لڑنے کی پاداش میں فیض حمید کے حکم پر اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق کرنل انعام الرحیم کو اچانک حراست میں لیا گیا، جس بارے طویل عرصے تک ان کے اہلِ خانہ لاعلم رہے، بعد ازاں عدالت کے دباؤ پر انکی حراست تسلیم کی گئی، تاہم ان پر لگائے گے سنگین الزامات ثابت نہ ہو سکے اور شدید علالت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ فیض دور میں فیصلے اس انداز سے کیے جاتے تھے کہ کون بولے گا اور کون خاموش رہے گا، حتیٰ کہ میڈیا اداروں کے معاملات بھی طے کیے جاتے تھے۔ انکے مطابق اگر معروف اور طاقتور افراد کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا تو عام اور کمزور شہریوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جاوید چوہدری نے بتایا کہ فیض حمید نے اپنی سزا کے خلاف اپیل تو دائر کر دی ہے، جو ہر ملزم کا قانونی حق ہے، تاہم فیض کی سزا ایک سبق ہے جو یاد دلاتے ہے کہ طاقت عارضی ہوتی ہے۔ کل تک جو شخص لوگوں کی قسمت کے فیصلے کیا کرتا تھا آج وہ خود 14 برس کے لیے جیل کی صلاحوں کے پیچھے بند ہو چکا ہے، اس لیے ہر صاحبِ اقتدار کو قانون، انصاف اور رحم کو مقدم رکھنا چاہیے۔

Back to top button