مندر کی دوبارہ تعمیر شرپسندوں کی جیب سے کرانے کا حکم


سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر گرانے کے واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرنے اور مندر کو فوری طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ حکم بھی دیا کہ مندر کی دوبارہ تعمیر کے اخراجات اسے گرانے والوں شرپسندوں سے وصول کئے جائیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے جمعے کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مندر کی جگہ مسجد کو گرا دیا جاتا تو پھر مسلمانوں کے کیا جذبات ہوتے۔ عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس واقعہ میں ملوث لوگوں کو اور اسے گرانے کے لیے اکسانے والے افراد کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 6 اگست کو از خود نوٹس کی سماعت کی تو پنجاب حکومت کی طرف سے اس واقعہ سے متعلق اب تک کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری اور پنجاب پولیس کے سربراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعہ سے متعلق دو مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے اندراج کو ایک طرف رکھیں پہلے یہ بتائیں کہ کیا اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر انعام غنی نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے اس جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کو تین دن ہو گئے اور ابھی تک ایک شخص کو بھی گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
انھوں نے کہا کہ پولیس افسروں کے چہروں پر شرمندگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں اب وہ جوش اور ولولہ نہیں رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر پولیس میں پروفیشنل ازم ہوتا تو ایسا واقعہ نہ ہوتا۔ چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران موقع پر موجود تھے، جس پر چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر اپنا کام نہیں کرتے تو ان کو تبدیل کر کے کسی ذمہ دار افسران کو تعینات کیا جائے۔ پنجاب پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران اور پولیس کی بھاری نفری اس مندر سے ملحقہ ہندوؤں کے 70 گھروں کو بچانے کے لیے تعینات تھے۔ انعام غنی کے بقول پولیس کی بھاری نفری کی وجہ سے مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا تاہم کچھ عرصے کے بعد پولیس مقدمے کو ختم کروانے اور فریقین کے درمیان صلح کروانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ نو سال کے بچے کی وجہ سے ہوا لیکن اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو مندر کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کو روکا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے متاثرہ ہندوؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ ان افراد کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی جن کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر مسجد کو گرا دیا جاتا تو پھر مسلمانوں کے کیا جذبات ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جو افراد گرفتار کیے جائیں، جو اس واقعہ میں ملوث ہیں اور ان پر جرم بھی ثابت ہو تو ان افراد سے مندر کی دوبارہ تعمیر پر آنے والے اخراجات بھی لیے جائیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے علاقے میں بھی ہندوؤں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں بھی عدالت نے ذمہ دار افراد سے ان مقدس مقامات کی دوبارہ تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات لینے کا حکم دیا تھا۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور سرکاری خزانے سے اس مندر کی دوبارہ تعمیر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم اپنا کام جاری رکھیں عدالت اس معاملے کو قانون کے مطابق دیکھے گی۔ عدالت نے اس واقعہ پر پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کر دیا اور اس واقعہ کے بارے میں درج مقدمات میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت 13 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی رکن رمیش کمار بھی موجود تھے، جنھیں عدالت نے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ دوسری طرف قومی اسمبلی کے اجلاس میں مندر کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کے بارے میں ایک مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ یہ قرارداد پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی تھی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر مندر کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے اور رینجرز کی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

Back to top button