مولانا طارق جمیل نے حوروں کو متاثر کرنے کے لیے مصنوعی بال لگوا لیے

اپنی میک اپ لک پر زیادہ توجہ دینے والے گنجے پن سے خوفزدہ عالمی شہرت یافتہ پاکستانی اسلامک اسکالر مولانا طارق جمیل نے اپنا گنج چھپانے کا فیصلہ کرتے ہوئے صرف  100 روپے میں ہئیر ٹرانسپلانٹ کروا لیا۔ مولانا طارق جمیل کے مصنوعی بال لگوانے کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا

ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینک نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر مولانا طارق جمیل کی کچھ ویڈیوز شیئرکی ہیں جن میں وہ ڈاکٹر کے ساتھ بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔وائرل ویڈیو میں ہئیراسپشلسٹ کو بھی مولانا طارق جمیل کے ساتھ گفتگو اور ان کا معائنہ کرتے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر مولانا طارق جمیل کی کئی ویڈیوز گردش کررہی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ ایک کلینک میں موجود ہیں جہاں ڈاکٹر پہلے ان کے بالوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ویڈیو میں بظاہر ڈاکٹر کو مولانا طارق جمیل کے سر پر بال لگانے کے لیے مختلف نشانات لگاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

مذکورہ ویڈیو کے ایک حصے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 70 سالہ مذہبی اسکالر اور شعلہ بیان مقرر کے سر پر ایک ڈاکٹر مختلف نشانات لگا رہے ہیں گویا ان کے سر پر بال لگانے کی تیاری کر رہے ہوں۔ویڈیو کے دوسرے حصے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا طارق جمیل کے سر پر ایک سفید پٹی سی بندھی ہے اور اس کے اوپر ایک نیلی سرجیکل کیپ بھی اوڑھی گئی ہے۔

ایک اور ویڈیو میں مولانا طارق جمیل سر پر سرجیکل کیپ پہنے ہوئے ہیں اور اس دوران اپنے معالج کو 100 روپے کے نوٹ پر اپنا دستخط کر کے دے رہے ہیں۔بعد ازاں مولانا طارق جمیل نے وہ نوٹ اپنے بائیں یعنی الٹے ہاتھ سے مذکورہ ڈاکٹر کو دیا جنہوں نے بصد احترام دونوں ہاتھ بڑھاکر وہ نوٹ وصول کرلیا

تھوڑے بیان کیے کو زیادہ جانیے‘ کی مصداق ویڈیو یا اس کے کسی حصے میں کوئی کمنٹری نہیں کی گئی نہ ہی مولانا طارق جمیل نے اپنے فالوورز کی مزید معلومات کے لیے اس حوالے سے کچھ بیان کیا۔ تاہم ویڈیو سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ مولانا نے اپنے مداحوں کو یہ بتادیا کہ وہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کے عمل سے گزرے ہیں۔ تاہم مولانا طارق جمیل نے ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینک سے اور کیا سروسز حاصل کی ہیں ان سے متعلق تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں۔

تاہم مولانا طارق جمیل کے ہئیر ٹرانسپلانٹ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوام کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔کچھ لوگوں نے مولانا طارق جمیل کی ویڈیو پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ کچھ لوگوں نے اس عمل پر تنقید کردی۔

محمد فہد نامی صارف نے وائرل ویڈیو پر کمنٹ کیا کہ ’اگر کسی نے بال لگوائیں ہیں تو اس پر اتنا شور کیوں؟ ماضی میں بھی کئی فنکار اور سیاستدان بالوں سمیت کاسمیٹک سرجری کروا چکے ہیں‘۔

اسد علی نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ ان کی مرضی ہے، ان کی ذاتی زندگی ہے اور ان کو بھی حق ہے، وہ بھی انسان ہیں‘۔

زاہد اقبال نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’دیکھ رہے ہو، سادگی کی باتیں کرنے والے خود لاکھوں کے بال صرف 100 روپے میں لگوا رہے ہیں‘۔

مبشر تاجی نامی صارف نے کمنٹ کیا کہ ’ کیا ہئیر ٹرانسپلانٹ کی اسلام میں اجازت ہے؟ کیا یہ عمل کسی صحابی سے ثابت ہوتا ہے؟ اس سے اچھا کسی غریب کی بیٹی کی شادی کروادیتے‘۔

ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ مولانا کو ہئیر ٹرانسپلانٹ کی بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ گنج پن قبول کرنا چاہیے تھا۔

Back to top button