نان کسٹم پیڈ اشیا کی فروخت میں اضافہ کیوں ہونے لگا؟

پاکستان میں موبائل فون مارکیٹنگ سب سے موثر ذریعہ تصور کیا جاتا ہے جس کے ذریعے کم وقت میں زیادہ لوگوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے، اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے مختلف مختلف کمپنیاں نان کسٹم پیڈ اشیا کی فروخت کا دھندا چلا رہی ہیں۔موبائل فون صارفین کو کافی عرصے سے ایسے ایس ایم ایس تواتر سے موصول ہو رہے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ ’اگر آپ نان کسٹم پیڈ اشیا خریدنا چاہتے ہیں تو دیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں یا پھر واٹس ایپ گروپ کو جوائن کریں، صرف یہی نہیں بلکہ کئی لوگ گلی محلوں میں اب نان کسٹم پیڈ اشیا کی فروخت کا کام کر رہے ہیں۔صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد ثاقب (فرضی نام) نے انکشاف کیا کہ وہ اور ان کے دوست گزشتہ چھ ماہ سے ایسی اشیا فروخت کر رہے ہیں جو ان کے مطابق وہ براہ راست کسٹم سے نیلامی کے وقت قانونی طور پر خریدتے ہیں اور بعد ازاں اس کی مارکیٹنگ بھی خود ہی کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی وہ بہت ہی محدود طریقے سے یہ کام کر رہے ہیں۔ اس کی پبلسٹی کے لیے ایس ایم ایس سروس یا سوشل میڈیا کو استعمال نہیں کرتے۔صارفین فیس بک پر براہ راست آرڈر بھی دے رہے ہوتے ہیں اور قیمتوں سے متعلق بھی پوچھ رہے ہوتے ہیں، فیس بک پر امپورٹڈ سامان بیچنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق پشاور اور خیبرپختونخواہ کے دیگر علاقوں سے ہے، لاہور ہی سے تعلق رکھنے والے ایک اور تاجر محمد سالک بتاتے ہیں کہ وہ کوسٹل گارڈز کی نیلامی سے کنٹینر خریدتے ہیں جن میں زیادہ تر استعمال شدہ سامان ہوتا ہے۔اس سلسلے میں ایڈیشنل کلیکٹر کسٹم محمد رضوان نے بتایا ’یہ دو تین الگ الگ چیزیں ہیں۔ جو لوگ ایس ایم ایس کے ذریعے نان کسٹم پیڈ اشیا کی تشہیر کر رہے ہیں وہ بالکل جعلی کلیم ہے۔ ہم نے ایسے 10 افراد کو پچھلے کچھ عرصے میں گرفتار کیا ہے جو یہ ایس ایم ایس کمپین چلا رہے تھے۔ ان میں سے آٹھ تو ویسے ہی لوگوں کو دھوکا دے رہے تھے جبکہ دو افراد کے پاس نان کسٹم پیڈ اشیا کے دو گودام تھے جن کو ضبط کر لیا گیا ہے۔کسٹم سامان کی نیلامی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ایڈیشنل کلیکٹر کسٹم کا کہنا تھا کہ ’قانون کے مطابق اگر کوئی شخص اپنا سامان کسٹم ادا کر کے بندرگاہ سے یا ڈرائی پورٹس سے کلیئر نہیں کرواتا تو ایک خاص وقت کے بعد اس کا سامان ضبط ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اس سامان کی باقاعدہ قانونی طور پر نیلامی کی جاتی ہے۔ جس میں تاجر حصہ لیتے ہیں۔اس سے قومی خزانے کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوتا ہے۔ نیلامی کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا جاتا ہے اور اس سامان کو جو کہ باقاعدہ قانونی طریقے سے خریدا جائے، اسے کوئی نان کسٹم پیڈ بنا کر فروخت کرے تو اس سے وہ نان کسٹم پیڈ نہیں ہو جاتا۔انہوں نے بتایا یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ وہ مارکیٹ سے قدرے سستا ہو لیکن اس پر کسٹم پورا ادا ہوتا ہے۔ کسٹم کی رقم منہا کر کے بولی لگائی جاتی ہے، جمعرات کو ڈیرہ اسماعیل خان میں تین ٹرک اور پانچ کنٹینر ضبط کیے گئے ہیں۔ڈی آئی خان کلیکٹر انفورسمینٹ کے مطابق ٹرکوں اور کنٹینرز میں بیرون ممالک میں تیار کی گئی سمگل شدہ اشیا موجود تھیں۔ 38 کروڑ 90 لاکھ کا سامان ضبط کیا گیا ہے جبکہ ٹرکوں اور کنٹینرز کی مالیت 13 کروڑ ہے۔
