آڈیو ریکارڈنگزکاعمران کے جاسوس دوست سے کیا تعلق ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ عمران خان جس طرح خفیہ آڈیو ریکارڈنگز کی اگلی قسط بارے پیشگی بتا رہے ہیں اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ شرارت انکے وہ جاسوس ’دوست‘ کروا رہے ہیں جن سے خان صاحب اپنے دور اقتدار میں مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ ڈارک ویب پر موجود انڈی شیل نامی ہیکر نے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کی دو آڈیوز کی تھیں جن کے بعد عمران خان نے بتایا کہ اب ایک ایسی آڈیو لیک ہونے جا رہی ہے جس میں مریم نواز اپنے والد نواز شریف کو بتا رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن عمران کو توشہ خانی ریفرنس میں نااہل کرنے جا رہا ہے۔ لیکن اس آڈیو کے آنے سے پہلے عمران کی ایک اپنی آڈیو ریلیز ہو گئی جس میں وہ اپنے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ مل کر ایک روٹین کے سفارتی خط کو سازشی خط بنانے کی منصوبہ بندی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آڈیو حکومت کے ایما پر لیک کی گئی جسے عمران نے جینوئن تسلیم کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری شہباز شریف پر ڈال دی ہے۔ اسلام آباد میں یہ تاثر عام ہے کہ اوپر تلے ہونے والی آڈیوز لیک دراصل طاقت ور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دو دھڑوں کی اندرونی لڑائی کا شاخسانہ ہیں اور یہ سلسلہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی تک جاری رہے گا۔

تاہم عمران خان اور اعظم خان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد انڈی شیل نامی ہیکر نے دھمکی دی ہے کہ جرنیل نمبر 13 کا وقت پورا ہو گیا ہے۔ یاد رہے جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں موجودہ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کا 13 واں نمبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انڈی شیل نامی ہیکر کی جانب سے دھمکی ان کو دی گئی ہے۔ لہذا عمومی تاثر یہی ہے کہ موجودہ آئی ایس آئی چیف کو دھمکی دینے والا سابقہ آئی ایس آئی سربراہ ہے جو ڈارک ویب کی آڑ میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر گند ڈالنا چاہتا ہے۔ حکومتی حلقے تسلیم کرتے ہیں کہ سابقہ جاسوس کے چلے جانے کے باوجود موصوف کا خفیہ نیٹ ورک اتنا گہرا ہے کہ اب تک توڑا نہیں جا سکا اور وزیراعظم ہاؤس کی خفیہ ریکارڈنگز میں بھی یہی نیٹ ورک ملوث ہے۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس وقت سوشل میڈیا پر شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری اور عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے اپنے اپنے وزراء اعظم کو دیئے جانے والے مشوروں کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی آڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنوں کے لیے قواعد و ضوابط نرم کرنے کے روادار نہیں اور ان کا پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ بھی انہیں یہی مشورہ دیتا ہے، دوسری جانب عمران کی لیک ہونے والی آڈیو میں وہ اور ان کا پرنسپل سیکرٹری اعظم خان دونوں ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹا بیانیہ گھڑتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ایسے میں ’موت کے کنویں‘ میں 75 سال مسلسل موٹر سائیکل چلانے والے کمال سادگی سے سوال کرتے ہیں کہ ’ہمیں منزل کیوں نہیں ملی، دوسرے آگے کیوں نکل گئے، ہم وہیں کے وہیں کیوں ہیں؟‘ بات یہ ہے کہ حرکت میں سفر کا دھوکا ہے، سو ہمیں بھی گمان ہے کہ ہم حالتِ سفر میں ہیں مگر ایسا ہے نہیں۔ دائرے میں چلنے والے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ وہ آ رہے ہیں یا جا رہے ہیں، منزل ان کے سامنے ہے کہ پیچھے۔ بے سمتی سی بے سمتی ہے، رائیگانی سی رائیگانی ہے۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار پاکستان واپس آئے تو بہت سی باتیں یاد آ گئیں، ابھی کل کی بات ہے اسحاق ڈار کا گھر قرق کیا جا رہا تھا، ان کے ملازم کو ایک ایجنسی اٹھا کر لے گئی تھی، اس پر اسحاق ڈار کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے تشدد کیا گیا تھا۔ آج انہی کی کلیئرنس کے بعد اسحاق ڈار واپس آ گئے ہیں۔ ڈار صاحب سے جلا وطنی کے دوران سوال کیا گیا کہ طاقت ور لوگ آپ کے خلاف کیوں ہو گئے تھے، انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے بجٹ سے زیادہ حصہ مانگتے تھے، میں نے معذرت کی اور پھر مجھے ’جرأتِ انکار‘ کی سزا دی گئی۔اب وہی طاقت ور لوگ اسحاق ڈار سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ معیشت میں نئی روح پھونکیں۔ ڈار صاحب کے لیے یہ ’چکر‘ نیا نہیں ہے، وہ اس سے پہلے بھی ایک بار جلا وطنی سے واپسی پرخزانہ کا قلم دان سنبھال چکے ہیں۔ دائروں میں چلنے والوں کے پیروں کے آبلے دیکھ کر نہ ہنسی آتی ہے نہ رونا۔

حماد غزنوی کے بقول، اسحاق ڈار تو بس ایک استعارہ ہیں، یہ ملک سات دہائیوں سے ایک دائرے میں میراتھن ریس دوڑ رہا ہے، اس میں کیا حیرت کہ اب اس کے پاؤں لہو لہان ہیں مگر منزل آج بھی اتنی ہی دور ہے جتنی 75 سال پہلے آزادی کے وقت تھی۔ ہم نے آزادی کے نو سال بعد آئین بنایا اور دو سال بعد ہی 1958 میں توڑ دیا، پھر ہم نے 1962میں آئین بنایا اور 1969 میں توڑ دیا، پھر 1973میں آئین بنایا اور 1977 میں توڑ دیا، پھر 1985 میں آٹھویں ترمیم کی اور غیر جماعتی الیکشن کروایا، 1988میں جماعتی الیکشن کروایا اور 1997 میں آٹھویں ترمیم سے نجات حاصل کی ،لہٰذا 1999 میں مارشل لا لگ گیا، ہم پھر جمہوریت کی طرف آئے اور 2010میں اٹھارویں آئینی ترمیم سے آئین کو ڈکٹیٹرز کی چھیڑ خانیوں سے پاک کیا، اب کچھ دنوں سے ایک طاقت ور لابی اٹھارویں ترمیم کے خلاف متحرک ہے، اور صدارتی نظام کے حق میں دلائل کے انبار لگائے جا رہے ہیں۔ دائرے میں گردش کرنے والے سو برس بھی چلتے رہیں تو وہیں کے وہیں رہتے ہیں، منزل سے اتنے ہی دور جتنے پہلے دن تھے۔ ذرا گہری نظر ڈالیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ سب شاخسانے ایک ہی خواہش کے ہیں یعنی اکثریت کو حکومت نہیں کرنے دینی خواہ اس میں ملک دو لخت ہو جائے۔حماد غزنوی کے بقول، بات یہ ہے کہ جب عوام کو طاقت ور ہونے کا احساس ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے وسائل کی منصفانہ تقسیم پر اصرار کرتے ہیں اور یہی مسئلے کی جڑ ہے، نتیجتاً کروڑوں لوگ ہیں، ایک دائرہ ہے، اور مسلسل زیاں کا عالم ہے۔

جب سے پاکستان بنا ہے سیاست دانوں کا احتساب ہو رہا ہے، کبھی پروڈا، کبھی ایبڈو اور کبھی نیب، 75 سال سے قوم کو سیاست دانوں کی کرپشن کے قصے سنائے جا رہے ہیں، ایک نہ ختم ہونے والا دائرہ۔ ہائی برڈ حکومت کے دوران یہ مہم مزید شدت اختیار کر گئی، ڈیجیٹل دنیا میں ففتھ جنریشن وار کا ڈول ڈالا گیا، میڈیا کا ٹینٹوا پکڑ کر دن رات ’چور چور‘ کی گردان کی گئی، نفرت کے سوداگروں نے کامیابی سے معاشرے کو کلہاڑی سے کاٹ بانٹ دیا۔ عام لوگوں کو تو چھوڑیے، عمران خان کہتے ہیں کہ مجھے تو نواز شریف کی کرپشن کی ضخیم فائلیں دکھائی گئی تھیں، کچھ باوردی صحافی بھی یہی کہانی سناتے ہیں۔ 75 سال سے سیاست دانوں کی مبینہ کرپشن پر فائلیں بن رہی ہیں ، جسے کبھی وائٹ پیپر کہتے ہیں اور کبھی والیم ٹین، سب کی سب بے بنیاد الزامات کی پٹاریاں جو آج تک کسی عدالت میں ثابت نہ ہو سکیں۔بہرحال، یہ شکستہ پائی بھی ہمارا حوصلہ نہیں توڑ سکی، اور ہم آج بھی دائرے میں بگٹُٹ دوڑ ے چلے جا رہے ہیں۔ آج بھی وزیرِ اعظم ہائوس کی گفت گو ٹیپ کی جا رہی ہے، اور ریکارڈنگ کے وہ حصے مشتہر ہو رہے ہیں جن سے سیاست دانوں پر کیچڑ اُڑانے میں مدد مل سکے۔ اُدھر عمران خان جس طرح ان آڈیوز کی اگلی قسط کے مواد کا ذکر کر رہے ہیں، یوں لگتا ہے کہ یہ سب شرارت ان کے جاسوس ’دوست‘ نے کی ہے جو آرمی چیف کی دوڑ سے باہر ہو جانے کے باوجود آخری کوشش میں مصروف ہے۔

Back to top button