سیاچین گلیشئر سے پاک بھارت افواج واپس بلانے کی تجویز

سیاچن گلیشئر سے بھارتی اور پاکستانی افواج واپس بلانے کی پاکستانی تجویز کے جواب میں بھارتی افواج کے سربراہ نے مثبت جواب تو دے دیا ہے لیکن ان کی جانب سے ایسا کرنے کے لیے پیش کردہ شرائط پاکستان کے لئے قابل عمل نہیں لگتیں۔ پاکستان پچھلے کئی برسوں سے بھارت کو یہ تجویز دے رہا ہے کہ سیاچین گلیشیئر سے افواج واپس بلانے کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ سیاچن پر ہونے والے بھاری فوجی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جا سکیں گے۔ یاد رہے کہ سیاہ چین کو دنیا کا بلند ترین فوجی محاذ کہا جاتا ہے جہاں ہر برس بھارت اور پاکستان کے سینکڑوں فوجی سخت سردی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی تجویز کے جواب میں میں انڈین فوج کے سربراہ جنرل منوج مکندا نراونے کی جانب سے حال ہی میں کہا گیا یے کہ انڈیا سیاچن گلیشیئر سے فوج ہٹانے کے خلاف نہیں ہے، لیکن اسکی کچھ شرائط ہیں۔ 12 جنوری کو سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منوج کا کہنا تھا کہ ہم سیاچن کو غیر عسکری بنانے کے مخالف نہیں ہیں، لیکن اس کے لیے پیشگی شرط یہ ہے کہ پاکستان کو ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن یعنی اے جی پی ایل کو قبول کرنا ہو گا۔‘ ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن دراصل وہ لکیر ہے جو سیاچن گلیشیئر پر پاکستانی اور انڈین افواج کی موجودہ پوزیشنز کی نشاندہی کرتی ہے۔ 110 کلومیٹر طویل اس لائن کا آغاز پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے شمال میں آخری پوائنٹ سے ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کے لیے یہ مطالبہ منظور کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ کشمیر کے معاملے پر اس کا ایک موقف ہے جس پر وہ ڈٹ کر کھڑا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان بھارت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ سیاچن سے اپنی فوج واپس بلا لے کیونکہ افواج کی وہاں موجود گی سے ماحول کے لئے بھی بڑے خطرات پیدا ہو رہے ہیں جس کے منفی اثرات براہ راست دونوں ممالک پر پڑ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ کسی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ 1984 میں بھارتی فوج نے سیاچن پر ناجائز تسلط جمایا تھا جس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی فوجیں وہاں متعین کرنا پڑیں۔ یوں ہندوستان کی فوج کے قبضے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے معاشی مسائل پر خاصا بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ قابض انڈین آرمی نے گذشتہ 30 برسوں میں اس گلیشئر کو اتنا آلودہ اور پراگندہ کر دیا ہے کہ مستقبل قریب  میں پاکستان کی جانب آنے والے پانی پر اس کے اثرات خطرناک حد تک مرتب ہو سکتے ہیں اور آئندہ برسوں میں یہ گلیشئر پگھل کر ناقابلِ تصور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں غیر جانبدار ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ 2005 میں پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اس امر پر متفق ہو چکی تھیں کہ گلیشئر سے اپنی اپنی فوج واپس بلا لی جائے۔ بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے تو باقاعدہ اعلان بھی کیا تھا کہ فوجی انخلا کے بعد سیاچن کو “امن پارک” میں تبدیل کر دیا جائے گا مگر انڈین آرمی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور یوں بھارتی فوج کے ویٹو کی وجہ سے یہ امن معاہدہ پروان نہ چڑھ سکا۔

اس کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے کئی ایسی تجاویز سامنے آئیں خصوصاً 7 اپریل 2012  کو سیاچن کے مقام “گیاری” پر جب برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے تقریباً 150 افسر اور جوان شہید ہوئے تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری  قیادت کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے بیک وقت انخلا کی تجویز سامنے آئی مگر بھارتی فوج نے اس پیش کش پر کان نہ دھرے مبصرین کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں سیاچن کے مقام پر اگرچہ انڈین آرمی کا مالی اور جانی نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوا ہے مگر بد قسمتی سے بھارتی فوج کی جانب سے ہٹ دھرمی کا رویہ برقرار ہے جس کی مخالفت خود بھارت کے انسان دوست اور قدرے اعتدال پسند حلقے بھی کر رہے ہیں۔

اب پاکستانی تجویز کے جواب میں بھارتی فوج کے سربراہ جنرل نراونے نے کہا ہے کہ ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن حقیقی زمینی پوزیشن کی لکیر ہے۔ پاکستان کو تسلیم کرنا ہو گا کہ اُن کی پوزیشن کیا ہے اور ہماری پوزیشن کیا ہے۔ اور ہمیں کسی بھی قسم کی ڈس انگیجمنٹ سے پہلے اس پر متفق ہونا ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ صورتحال ویسی ہی ہے جس کا سامنا انڈیا کو مشرقی لداخ میں بھی ہے۔ پہلے آپ کو ڈس انگیج ہونا ہو گا اس کے بعد ہی ڈی ایسکلیٹ ہونے کی بات ہو سکتی ہے جو کہ علاقے کو غیر عسکری بنانے کا دوسرا نام ہے۔ ایکچوئل گراونڈ پوزیشن کو تسلیم کرنا اس عمل میں پہلا قدم ہے اور یہ وہ کام ہے جسے پاکستان ناپسند کرتا ہے۔

آفاق احمد کے قتل پر مامور ‘را’ کا تربیت یافتہ ٹارگٹ کلر گرفتار

پاکستانی حکومت یا فوج کی جانب سے تاحال انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے لیے بھارت کا یہ مطالبہ قبول کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ یاد رہے کہ دنیا میں سب سے اونچا میدانِ جنگ کہا جانے والا سیاچن گلیشیئر 1984 سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے۔

انڈیا کے آرمی چیف جنرل نراونے کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کو این جے 9842 نامی مقام تک واضح کیا گیا تھا اور پاکستان نے اس مقام سے آگے قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں انھیں اقدامات اٹھانے پڑے۔دوسری جانب پاکستان فوج کے سابق میجر جنرل اور دفاعی تجزیہ کار اعجاز اعوان کہتے ہیں کہ 1971 کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول کے شمال میں آخری پوائنٹ این جے 9847 سے آگے کے علاقے میں زمینی طور پر سرحد کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی، لیکن اصولی طور پر نقشے میں اس پر اتفاق تھا اور اس سے آگے کے علاقے کے بارے میں یہی مانا جا رہا تھا کہ یہاں کوئی قبضہ نہیں کرے گا۔

اُن کے مطابق سنہ 1982 کے اواخر میں انڈیا نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس وقت ان علاقوں پر قبضہ کر لیا جب پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں سویت حملے کے خلاف مصروف عمل تھا۔ اعجاز اعوان کا دعویٰ ہے کہ انڈیا نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور آ کر وہاں بلند چوٹیوں پر بیٹھ گیا اور تب سے وہ اسے خالی نہیں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق انڈیا سیاچن کے علاقے میں شمال مغرب کی جانب آنا چاہتا تھا اور پاکستان شمال مشرق کی چوٹیوں کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔ لہذا جب دونوں ممالک ایک دوسرے پر سیاچن پر قبضہ کی کوشش کے الزامات عائد کرتے ہیں تو اس صورتحال میں سیاچن سے دونوں ممالک کی فوج کا انخلا کے امکانات معدوم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

Back to top button