آفاق احمد کے قتل پر مامور ‘را’ کا تربیت یافتہ ٹارگٹ کلر گرفتار

کراچی میں گرفتاری کے بعد ایک خطرناک شوٹر کے اعترافی بیان سے انکشاف ہوا ہے کہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ٹارگٹ کلرز اب بھی بھارت کے ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کر رہے ہیں تاکہ وطن واپس آکر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرسکیں۔ پولیس کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کے ملازم افتخار عرف پٹن سے تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی ایک بڑی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا رکن رہا ہے جس نے بھارت جاکر دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔ ملزم کو دی جانے والی آخری اسائنمنٹ ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد کے قتل کی تھی۔

ایس پی عزیز الرحمٰن کے بیٹوں کے قتل کے گرفتار مرکزی ملزم افتخار العباد عرف پٹن کے سنسنی خیز انکشافات سے پتہ چلا ہے کے ٹارگٹ کلرز کو ٹریننگ کے بعد مستقل بنیادوں پر بھاری رقم فراہم کی جاتی ہیں اور ان سے دہشتگردی کی خوف ناک کارروائیاں کروائی جاتی ہیں۔ وارداتوں کے بعد شوٹرز کو دبئی بھجوا دیا جاتا ہے جہاں وہ چند مہینے گزرنے کے بعد واپس آ جاتے ہیں۔ ملزم افتخار بھی دو بار وارداتوں کے بعد دبئی جا چکا ہے۔

ملزم افتخار العباد عرف پٹن نے انکشاف کیا ہے کہ جب پولیس اسکی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی تھی تو وہ 3 ماہ کا ویزہ لے کر قانونی طور پر دبئی چلا گیا تھا جہاں پر اسے ایم کیو ایم کے روپوش کارکنوں نے پناہ دی، دبئی سے اسکو اور ایک اور خطرناک شوٹر سہیل کمانڈو کو کاروبار کرنے کے بہانے سنگاپور بھیجا گیا۔

ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ دبئی میں ڈیڑھ ماہ کے قیام کے بعد دونوں کو بھارت بھیج دیا گیا، دہلی ایئر پورٹ پر ایم کیو ایم کے کارکن طارق زیدی نے ان دونوں کا استقبال کیا، دونوں کو ایک جیپ میں دہلی ایئر پورٹ کے نواح میں واقع ایک فارم ہاؤس پر لے جایا گیا، قیام کے کچھ دن بعد پتہ چلا کہ فارم ہاؤس بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا تھا۔ ملزم افتخار پٹن نے انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے کارکن عرفان بصارت، جنید اور آصف پپو بھی وہاں پہنچا دیئے گئے تھے، فارم ہاؤس میں قیام کے دوران وہ مختلف ٹریننگز حاصل کرتے رہے، اور انہیں پاکستان مخالف لٹریچر بھی پڑھایا گیا، انہیں ضرورت کی ہر چیز فارم ہاؤس میں مل جاتی تھی، اور باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

گرفتار ملزم نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے افسران سے اس کی ملاقات کرائی گئی، بھارت میں قیام کے دوران اصل شناخت چھپا کر سب کو عارضی ہندو نام دیے گئے، افتخار العباد کو ’راکیش، سہیل کمانڈو کو ’وجے‘، آصف پپو کو ’آکاش‘، جنید کو ’ونود‘، عرفان بصارت کو ’راہول‘ اور چھٹے کارکن علیم نور کو ’اجے‘ کا نام دیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان، پی ٹی آئی کا سندھ بلدیاتی قانون کیخلاف دھرنا

ملزم افتخار نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں دہلی سے سات گھنٹے کی مسافت پر واقع پہاڑوں میں 30 دن تک عسکری تربیت دی گئی، ’را‘ کے تربیتی کیمپ میں راکٹ لانچر، کلاشنکوف اور نائن ایم ایم پستول کو کھولنے، جوڑنے اور چلانے کی تربیت ملی، ’را‘ کے تربیتی مرکز میں فزیکل ایکسر سائز بھی ٹریننگ کا حصہ تھیں۔

افتخار نے پولیس کو بتایا ہے کہ عسکری ٹریننگ کے بعد اسی جیپ میں انہیں واپس فارم ہاؤس منتقل کر دیا گیا، کچھ عرصے بعد انہیں فارم ہاؤس سے دہلی کے رہائشی علاقے کے فلیٹ میں منتقل کر دیا گیا، فلیٹ میں اسے، علیم نور، سہیل کمانڈو، عرفان بصارت، آصف پپو اور جنید کو بارود سے دھماکے کرنے کی تربیت دی گئی۔ ملزم نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ فلیٹ سے انہیں ایک عارضی کیمپ میں منتقل کیا گیا، جہاں ’را‘ کے اہلکاروں نے آئی ای ڈی تیار کر کے دھماکے کرنے کا تجربہ کرایا، ان کے بھارت سے پاکستان واپس جانے کے لیے دو دو کارکنوں کی تین ٹیموں پر مشتمل جوڑیاں بنائی گئیں، پاکستان واپسی پر دیگر سامان کے علاوہ بھاری رقم بھی فراہم کی گئی۔

ملزم افتخار نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کراچی کے ایس پی عزیز الرحمٰن کے بیٹوں، گن مین اور ڈرائیور کے قتل کے وقت ٹی ٹی پستول کے ساتھ ٹیم میں شامل تھا۔ افتخار العباد عرف پٹن نے ایک مرتبہ پھر سنگاپور کے راستے بھارت جانے اور عسکری تربیت لینے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس مرتبہ ٹریننگ کے بعد وہ سہیل کمانڈو کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں شامل ہوا، اسے ماہانہ خرچہ ملتا تھا، اور اس کو دی جانے والی آخری اسائنمنٹ ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما آفاق احمد کے قتل کی تھی جس کے لیے وہ کئی بار شوٹرز کی ٹیموں کے ساتھ لانڈھی جاتا رہا۔

گرفتار ملزم نے پولیس کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسے رکنِ اسمبلی لیاقت قریشی اور معین کے ذریعے واٹر بورڈ میں جونیئر کلرک کی نوکری ملی، وہ واٹر بورڈ کے سخی حسن آفس میں تعینات تھا، جہاں سے ماہانہ اسے 42 ہزار روپے تنخواہ ملتی رہی۔ واضح رہے کہ پولیس کے انسدادِدہشت گردی ونگ کے ہاتھوں گرفتار ملزم افتخار العباد عرف پٹن ریمانڈ پر ہے اسے آفاق احمد کو قتل کرنے کے عوض لاکھوں روپے انعام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ آفاق کے قتل سے نہ صرف الطاف حسین کا ایک ازلی مخالف ختم ہو جاتا ہے بلکہ کراچی میں فسادات پھوٹ پڑتے جو کہ را اور ایم کیو ایم دونوں کا مشترکہ مقصد تھا۔

Back to top button