پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کو تعطل سے کیسے بچایا؟

سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حساس مذاکرات ایک مرحلے پر تعطل کا شکار ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم پاکستان کی سفارتی مداخلت نے صورتحال کو سنبھالنے اور مذاکرات کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اپنے ایک حالیہ تجزیے میں طلعت حسین نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے آغاز سے قبل ماحول انتہائی غیر یقینی تھا۔ ان کے مطابق افتتاحی تقریب کے موقع پر ایرانی وفد نے امریکی نمائندوں کے ساتھ نہ تو مشترکہ تصویر بنوائی اور نہ ہی مصافحہ کیا، جس کے باعث تقریباً پندرہ منٹ تک یہ خدشہ پیدا ہوگیا کہ شاید مذاکرات شروع ہی نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی یہ تھی کہ دنیا کو کوئی ایسی علامتی تصویر نہ ملے جس سے امریکا کے ساتھ فوری مفاہمت یا قربت کا تاثر پیدا ہو۔
طلعت حسین کے مطابق اسی نازک مرحلے پر پاکستان نے مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں تعطل ختم ہوا اور دونوں وفود مذاکرات کی میز پر واپس آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں نے اس پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات کا آغاز ممکن ہوا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی صحافیوں کو مذاکرات کے دوران غیر معمولی رسائی دی گئی تھی، جس کی وجہ سے انہیں سفارتی ماحول اور پس پردہ سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
طلعت حسین نے مزید کہا کہ اگرچہ مذاکرات کے بعد کے مراحل سوئٹزرلینڈ، دوحہ اور عمان میں جاری ہیں، لیکن اس سے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور کوئی بھی ملک ثالثی کے لیے آگے آنے کو تیار نہیں تھا، اس وقت پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سفارتی عمل کی بنیاد اسلام آباد میں رکھی گئی، جبکہ بعد کی تکنیکی نوعیت کی بات چیت عملی ضروریات کے باعث دوحہ، عمان اور سوئٹزرلینڈ منتقل ہوئی۔ ان کے بقول اب مذاکرات ابتدائی رابطوں سے آگے بڑھ کر مفاہمتی یادداشت، مشترکہ اعلامیے اور ورکنگ پلان جیسے اہم مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی سطح پر پیشرفت کر رہے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر دیے جانے والے بیانات اور سفارتی تصاویر بعض اوقات اس کے برعکس تاثر دیتی ہیں۔
طلعت حسین نے اس ممکنہ پیشرفت کے پاکستان پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اگر ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم یا نرم ہوتی ہیں تو پاکستان کو متعدد معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں پاکستان کو نسبتاً سستی توانائی میسر آ سکتی ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر دوبارہ پیشرفت ممکن ہوگی، دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا، بندرگاہی تعاون کو فروغ ملے گا اور علاقائی تجارتی راہداریوں کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کی سرحدی اور بحری سلامتی کے لیے بھی مثبت ثابت ہوں گے۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ سری لنکا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر رسمی یا بیک چینل رابطوں کی اطلاعات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹریک ٹو اور ٹریک ون پوائنٹ فائیو سفارت کاری اکثر ریاستی سطح کی خاموش رضامندی سے جاری رہتی ہے، اگرچہ دونوں حکومتیں عوامی سطح پر اس کی تصدیق نہیں کرتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس کے اثرات صرف انہی دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں سفارتی ماحول بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق اس پیشرفت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان روابط کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ افغانستان میں امن اور استحکام کے امکانات بھی روشن ہوں گے، اگرچہ اس کا انحصار امریکا کی آئندہ خارجہ پالیسی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر ہوگا۔
