سپیکر پنجاب اسمبلی کے ہاتھوں مریم حکومت کی پسپائی

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور وزیراعلیٰ مریم نواز کے درمیان کئی روز کی چپقلش کے بعد بالآخر پنجاب حکومت کو ایک متنازع قانون سازی پر پسپائی اختیار کرنا پڑ گئی ہے۔ حکومت نے سپیکر کے تحفظات اور اپوزیشن کی شدید تنقید کے بعد متنازعہ بل کو دوبارہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے اور اس پر مزید قانون سازی کا عمل اگست 2026 تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سیاسی حلقے اس فیصلے کو پنجاب حکومت کے لیے ایک بڑی پارلیمانی پسپائی قرار دے رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی قیادت نے اراکین پنجاب اسمبلی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ متنازع شقوں پر دوبارہ غور کیا جائے گا اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی اور آئینی اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد ہی بل کو دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف حکومتی حکمت عملی بلکہ قانون سازی کے طریقہ کار پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ تنازع تب شدت اختیار کر گیا تھا جب پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران سپیکر ملک احمد خان نے حیرت اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں علم ہی نہیں تھا کہ یہ متنازعہ حکومتی بل ایوان میں پیش ہو کر متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی بل کی کارروائی میں سپیکر کو اعتماد میں لینا پارلیمانی روایت اور ضابطہ کار کا بنیادی تقاضا ہے۔

سپیکر نے اسمبلی سیکریٹریٹ سے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ جب بل ایوان میں پیش ہوا تو ان کے دستخط کیوں حاصل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس پورے عمل سے لاعلم رکھا گیا، جس پر انہیں شدید اعتراض ہے۔ ان ریمارکس کو حکومتی صفوں کے لیے غیر معمولی قرار دیا گیا کیونکہ یہ براہ راست اسمبلی کی کارروائی اور انتظامی طریقہ کار پر سوال تھا۔ بعد ازاں سپیکر نے وضاحت کی کہ آٹھ جون کو جب یہ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تو وہ اجلاس کی صدارت نہیں کر رہے تھے بلکہ پینل آف چیئر کے رکن افتخار احمد چھچھر اجلاس چلا رہے تھے، اسی لیے یہ معاملہ ان کے نوٹس میں نہیں آ سکا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اہم نوعیت کے بل سے سپیکر کو ضرور آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سپیکر کے سخت مؤقف کے بعد حکومت پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ اپوزیشن نے بھی اس موقع کو حکومت کے خلاف مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ نتیجتاً حکومت کو بل کی منظوری روک کر اسے دوبارہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس پیش رفت کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی رانا آفتاب نے سپیکر کو باقاعدہ خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ اس بل کو دوبارہ غور کے لیے کمیٹی میں بھیجا جائے کیونکہ موجودہ شکل میں یہ بنیادی انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں سے متصادم ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بل انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات دیتا ہے، جبکہ عدالتی نگرانی کا کردار محدود کر دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق کسی شخص کو صرف انٹیلی جنس رپورٹس یا انتظامی سفارشات کی بنیاد پر پابندیوں کا نشانہ بنانا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس مجوزہ قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی متعدد شقیں انتظامیہ کو ایسے وسیع اختیارات دیتی ہیں جن کے تحت مناسب عدالتی نگرانی اور قانونی کارروائی کے بغیر افراد پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جس سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

مجوزہ قانون کے مطابق صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جن میں پولیس، سول انتظامیہ اور خفیہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان کمیٹیوں کو مختلف رپورٹس اور شکایات کی بنیاد پر افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ بل میں "سماج دشمن رویوں” کی تعریف نہایت وسیع رکھی گئی ہے۔ اس میں شراب اور جوئے کے اڈے چلانا، منشیات کا کاروبار، جعلی دستاویزات تیار کرنا، جھوٹی گواہی دینا، سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مل کر بدعنوانی، فحش حرکات، خواتین کو ہراساں کرنا، افواہیں پھیلانا، اسلحے کی نمائش، دھمکیاں دینا، جائیداد پر قبضہ اور چیریٹی کے نام پر دھوکہ دہی جیسے جرائم شامل کیے گئے ہیں۔

اس بل کی ایک متنازع شق کے مطابق ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کسی بھی شخص کا نام عارضی قومی شناختی فہرست میں شامل کرنے، اس کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بلاک کرنے، سوشل میڈیا سرگرمیوں پر پابندی لگانے، سائبر اسپیس سے اس کا نام ہٹانے اور الیکٹرانک آلات ضبط کرنے کی سفارش بھی کر سکتی ہے۔ اسی طرح "عادی مجرم” کی تعریف میں ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ایک سے زائد مرتبہ گرفتار ہو چکے ہوں یا جن پر منظم مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔ مجسٹریٹ ایسے افراد کو الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس یا بریسلٹ پہننے کا حکم دے سکے گا اور ان سے ضمانتی بانڈ بھی طلب کیا جا سکے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شقوں میں کئی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کی تشریح وسیع انداز میں کی جا سکتی ہے، جس سے سیاسی کارکنوں، سماجی کارکنوں یا حکومت کے ناقدین کے خلاف بھی قانون کے استعمال کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے قوانین ماضی میں نوآبادیاتی دور کے سخت قوانین سے مشابہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔ ادھر مرئم مواز حکومت نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون کا مقصد صرف پیشہ ور مجرموں، قبضہ گروپوں، منشیات فروشوں، جوئے اور قحبہ خانے چلانے والے عناصر اور معاشرتی انتشار پھیلانے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون خالد محمود رانجھا کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو عادی مجرم قرار دینے کا حتمی اختیار صرف مجسٹریٹ کے پاس ہوگا اور ہر متاثرہ شخص کو اپیل کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

تاہم تازہ ترین پیش رفت میں حکومت نے تمام سیاسی اور قانونی اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے متنازع بل کو دوبارہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے اور اس پر مزید کارروائی اگست 2026 تک مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے سخت مؤقف، اپوزیشن کی مزاحمت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ نے حکومت کو اپنے مؤقف پر نظرثانی پر مجبور کر دیا، جبکہ آئندہ اجلاسوں میں اس بل پر مزید سخت بحث متوقع ہے۔

Back to top button