ایران بارے ٹرمپ اتنظامیہ کے موقف میں اتنا تضاد کیوں؟

ایران، اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات نے امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ دونوں رہنما صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا حصہ ہیں، لیکن ایران اور اسرائیل سے متعلق ان کے اندازِ فکر اور ترجیحات میں نمایاں فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق دونوں رہنما بظاہر صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ فرق صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں بلکہ 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی میں اپنی اپنی سیاسی شناخت مضبوط بنانے کی کوششوں کا بھی حصہ ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ مارکو روبیو کیوبا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کے بیٹے ہیں اور وہ کئی برس تک امریکی سینیٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ لاطینی امریکہ، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں انہیں وسیع تجربہ حاصل ہے، جبکہ بطور وزیر خارجہ وہ مشرقِ وسطیٰ سمیت متعدد سفارتی محاذوں کی قیادت کر رہے ہیں۔اس کے برعکس جے ڈی وینس امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھتے ہیں، سابق فوجی رہ چکے ہیں اور صرف دو برس سینیٹر رہنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 2024 کے صدارتی انتخاب میں اپنا نائب صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ ان کی سیاسی شناخت کا بنیادی نکتہ یہ رہا ہے کہ امریکہ کو بیرونی جنگوں اور طویل عسکری مداخلتوں سے دور رکھا جائے۔
ایران اور اسرائیل کے معاملے پر جے ڈی وینس نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر اسرائیل کی لبنان میں کارروائیوں پر تنقید کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں نے ایران کو مزید مشتعل کیا، جس کے نتیجے میں تہران کے ساتھ سفارتی مذاکرات پیچیدہ ہو گئے۔دوسری جانب مارکو روبیو مسلسل اسرائیل کی حمایت کرتے نظر آئے ہیں یا بعض حساس معاملات پر خاموشی اختیار کرتے رہے ہیں۔ لبنان سے متعلق سفارتی کوششوں کی قیادت بھی زیادہ تر روبیو کے پاس رہی، جس کے نتیجے میں حال ہی میں ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ بھی طے پایا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں رہنما 2028 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں، اسی لیے دونوں اپنی الگ سیاسی شناخت قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جے ڈی وینس خود کو "امریکہ فرسٹ” نظریے کے مضبوط حامی اور بیرونی جنگوں کے مخالف رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ مارکو روبیو قومی سلامتی، مضبوط سفارت کاری اور امریکہ کے اتحادیوں کی بھرپور حمایت کے مؤقف پر قائم نظر آتے ہیں۔
واشنگٹن کے معروف تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ سابق امریکی معاون وزیر خارجہ اور پولینڈ میں سابق سفیر ڈین فریڈ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی باتوں میں مکمل طور پر مبالغہ نہیں بلکہ "کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور موجود ہے۔”ان کے مطابق ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے دونوں شخصیات کے انداز اور ترجیحات مختلف ہیں، اگرچہ وہ مجموعی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا ہی حصہ ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اختلافات کی تمام خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کا کہنا ہے کہ میڈیا غیر ضروری طور پر جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ پوری انتظامیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک ہی پالیسی پر متفق ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح یہی ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، اور کابینہ کے تمام ارکان اسی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے بیانات کسی حقیقی اختلاف کی بجائے انتظامیہ کے اندر مختلف سفارتی اور سیاسی کرداروں کی عکاسی کرتے ہوں۔ ایک جانب نائب صدر داخلی سیاسی حلقوں اور "امریکہ فرسٹ” ووٹرز کو مخاطب کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیر خارجہ عالمی اتحادیوں، سفارتی مذاکرات اور خطے کی پیچیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیانات دے رہے ہیں۔ ناقدین کے بقول فی الحال وائٹ ہاؤس اختلافات کی تردید کر رہا ہے، لیکن ایران، اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں مزید پیش رفت یہ واضح کرے گی کہ آیا یہ صرف اندازِ بیان کا فرق ہے یا واقعی ریپبلکن قیادت کے اندر خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئی صف بندی جنم لے رہی ہے۔
