کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر گرفتار

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما اور ترجمان شوکت نواز میر کو پولیس نے ضلع باغ سے گرفتار کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق شوکت نواز میر کو ضلع باغ کی سرحد پر تحصیل دھیرکوٹ کے علاقے سنگڑ سے حراست میں لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا، جبکہ ایس ایس پی ریاض مغل کے مطابق وہ مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

حکومت نے اس سے قبل کالعدم جے اے اے سی کے چار رہنماؤں، جن میں شوکت نواز میر بھی شامل تھے، کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ حکومت نے 5 جون 2026 کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے باوجود تنظیم کے حامیوں نے مختلف علاقوں میں احتجاج، دھرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے باعث حکام کے مطابق آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔

واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ عرصے سے معاشی ریلیف، سستی بجلی، آٹے کی قیمتوں میں کمی اور طرزِ حکمرانی میں اصلاحات سمیت مختلف مطالبات کے حق میں حکومت مخالف تحریک چلاتی رہی ہے۔چند روز قبل آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے کہا تھا کہ اگر مسئلے کا حل مطلوب ہو تو کمیٹی سے دوبارہ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، تاہم ان کے بقول ماضی میں ہونے والے مذاکرات پائیدار نتائج نہیں دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بار مذاکرات کے بعد ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، اسی تناظر میں حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ شوکت نواز میر کے خلاف درج مقدمات کے تحت قانونی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ سکیورٹی ادارے کالعدم تنظیم سے وابستہ دیگر مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Back to top button