بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے والے وقار یونس یارکر کنگ کیسے بنے؟

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں جب بھی تیز رفتار بولرز کا ذکر ہوگا تو ایک نام ہمیشہ نمایاں رہے گا، اور وہ ہے وقار یونس۔ اپنی برق رفتار گیندوں، تباہ کن ریورس سوئنگ اور خطرناک یارکرز سے دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں کو بے بس کر دینے والے وقار یونس آج پرسکون خاندانی زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان کی زندگی کا سفر کامیابیوں، مشکلات، جدوجہد اور دلچسپ واقعات سے بھرا ہوا ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وقار یونس نے اپنی ذاتی زندگی، کرکٹ کی شروعات، کیریئر، شادی، بچوں اور ان واقعات سے پردہ اٹھایا جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔وقار یونس کہتے ہیں کہ ان کی زندگی مسلسل سفر میں گزری۔ بچپن ہاسٹلوں میں گزرا، پھر کرکٹ نے انہیں دنیا بھر کے ہوٹلوں، شہروں اور ملکوں میں پہنچا دیا۔ آج وہ اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت سڈنی اور لاہور میں اپنی فیملی کے ساتھ گزارتے ہیں اور یہی ان کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔ان کے مطابق طویل بین الاقوامی کیریئر کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو زیادہ وقت نہیں دے سکے، اس لیے اب وہ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کرکٹ کے میدانوں میں راج کرنے والے وقار یونس آج کل فٹبال ورلڈ کپ کے دیوانے بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے اذان کے ساتھ رات بھر میچ دیکھتے ہیں۔ اذان پرتگال اور کرسٹیانو رونالڈو کے بڑے مداح ہیں، اور رونالڈو کی کامیابی پر ان کی خوشی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔وقار یونس کی اہلیہ ڈاکٹر فریال ہیں جبکہ ان کے دو بچوں نے بھی میڈیکل کا شعبہ اختیار کیا ہے۔ ایک بیٹا ایم بی بی ایس مکمل کر چکا ہے، بڑی بیٹی ڈاکٹر بن رہی ہیں جبکہ چھوٹی بیٹی آسٹریلیا میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔وقار کہتے ہیں کہ ہر والدین کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور معاشرے کے لیے مفید شہری بنیں۔
وقار یونس نے انکشاف کیا کہ 1987 کے یوتھ ورلڈ کپ میں ان کا انتخاب تقریباً یقینی تھا۔ وہ مسلسل وکٹیں لے رہے تھے جبکہ انضمام الحق رنز بنا رہے تھے، مگر آخری وقت میں ایک بااثر افسر کے بیٹے کو ترجیح دے دی گئی۔وقار کے مطابق اس فیصلے نے انہیں شدید مایوس کیا، لیکن شاید یہی ناکامی بعد میں ان کی سب سے بڑی کامیابی کا سبب بنی۔
وقار یونس کے بائیں ہاتھ کی ایک انگلی نہ ہونے کا راز بھی انتہائی دلچسپ ہے۔انہوں نے بتایا کہ بچپن میں دوستوں کے ساتھ نہر میں نہاتے ہوئے پل پر چڑھنے کی کوشش میں ان کا ہاتھ پھسل گیا، انگلی جال میں پھنس کر کٹ گئی جبکہ وہ نیچے گرنے سے دو پسلیاں بھی تڑوا بیٹھے۔ بعد میں ان کی سرجری ہوئی، مگر یہ حادثہ ان کے حوصلے کو کبھی کم نہ کر سکا۔
16 نومبر 1989 پاکستان اور بھارت کی کرکٹ تاریخ کا ایک یادگار دن تھا۔ اسی میچ میں دو نوجوان اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں اترے۔ایک طرف 18 سالہ وقار یونس تھے اور دوسری طرف صرف 16 سال کے سچن تندولکر۔ وقار نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں چار وکٹیں لے کر دنیا کو اپنی رفتار اور سوئنگ کا احساس دلایا جبکہ سچن نے مستقبل کے عظیم ترین بلے باز ہونے کی جھلک دکھا دی۔وقار یونس نے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مقامی دکان سے ہاتھ سے بنے دیسی سپائکس خریدے تھے جن سے ان کے پاؤں زخمی ہو گئے اور خون بہنے لگا۔وہاڑی سے بوریوالا تک روزانہ بسوں میں سفر، کبھی کرایہ نہ ہونے پر کنڈیکٹر سے بحث، کبھی بس کی چھت پر اور کبھی پیچھے لٹک کر سفر کرنا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا، مگر کرکٹ کا جنون ہر مشکل پر بھاری تھا۔
وقار یونس کے مطابق اگر عمران خان ان پر اعتماد نہ کرتے تو شاید ان کا بین الاقوامی کیریئر اتنا کامیاب نہ ہوتا۔عمران خان نے نہ صرف انہیں قومی ٹیم میں موقع دلایا بلکہ انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ میں بھی متعارف کروایا۔ صرف سات ہزار پاؤنڈ کے معاہدے سے آغاز کرنے والے وقار اگلے ہی برس 113 وکٹیں لے کر دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شامل ہو گئے۔
وقار یونس کی شناخت ان کے تباہ کن یارکرز تھے۔ بلے بازوں کے لیے ہیلمٹ سے زیادہ اپنے پیروں کی حفاظت ضروری سمجھی جاتی تھی۔مشہور کرکٹ رائٹر سائمن ہیوز نے یہاں تک کہا تھا کہ وقار یونس کی بولنگ کھیلنے کے لیے ہیلمٹ نہیں بلکہ اسٹیل کیپ والے جوتے درکار ہیں۔برائن لارا سمیت دنیا کے کئی بڑے بلے باز ان کے یارکرز کا شکار بنے اور بے بسی سے وکٹیں گنواتے رہے۔وقار یونس نے وسیم اکرم کو ہمیشہ اپنا بڑا بھائی قرار دیا، لیکن میدان میں دونوں کے درمیان مقابلہ زبردست ہوتا تھا۔ان کے مطابق یہی مثبت مقابلہ پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنا اور دونوں نے مل کر تقریباً ڈیڑھ دہائی تک دنیا کی خطرناک ترین فاسٹ بولنگ جوڑی ہونے کا اعزاز برقرار رکھا۔
وقار یونس کی شادی کی کہانی کسی فلمی منظر سے کم نہیں۔لاہور میں ایک میچ کے دوران انہوں نے میڈیکل کالج کی طالبہ فریال کو پہلی بار دیکھا اور دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ شادی انہی سے کریں گے۔چند ملاقاتوں کے بعد باقاعدہ رشتہ بھیجا گیا جسے فریال کے خاندان نے قبول کر لیا، اور یوں کرکٹ کے میدان میں ہونے والی پہلی ملاقات زندگی بھر کے رشتے میں بدل گئی۔وقار یونس نے بتایا کہ دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ ان کی بولنگ کے مداح ہیں، مگر بدقسمتی سے کئی مواقع آنے کے باوجود دونوں کی ملاقات نہ ہو سکی۔اختتامیہ
وقار یونس کی کہانی صرف ایک عظیم فاسٹ بولر کی نہیں بلکہ ایک ایسے نوجوان کی داستان ہے جس نے زخمی پاؤں، کٹی ہوئی انگلی، سفارش کے باعث ہونے والی ناانصافی، سخت معاشی حالات اور مسلسل جدوجہد کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔وہ آج بھی اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ اگر صلاحیت کے ساتھ محنت، صبر اور مستقل مزاجی شامل ہو جائے تو ایک عام نوجوان بھی دنیا کا "یارکر کنگ” بن سکتا ہے۔
