امریکہ ایران معاہدہ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور امریکہ و ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے قطر کی کوششیں تاحال فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہو سکیں۔ اگرچہ امریکی اعلیٰ سطحی وفد دوحہ پہنچ رہا ہے اور قطر مسلسل ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کسی فوری یا براہِ راست مذاکرات کے امکانات فی الحال معدوم دکھائی دیتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف دوحہ میں قطری حکام اور ثالثوں سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد خطے میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا، ایران سے متعلق سفارتی رابطوں کا جائزہ لینا اور لبنان سمیت دیگر علاقائی معاملات پر مشاورت کرنا ہے۔
تاہم قطر کی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اس دورے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات طے نہیں ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق امریکی وفد ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے نہیں بلکہ قطر کے ساتھ سفارتی مشاورت کے لیے دوحہ آ رہا ہے۔ قطر نے اس موقع پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ترجمان کے مطابق عمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔
قطری حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے تقریباً چھ ارب ڈالر کے منجمد اثاثے اب تک تہران منتقل نہیں کیے گئے۔ یہ رقم 2023 کے معاہدے کے تحت صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے مختص ہے اور اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی وفد بدھ کو دوحہ میں قطر کے ساتھ منجمد اثاثوں اور عبوری انتظامات پر بات چیت کرے گا، تاہم امریکہ کے ساتھ آئندہ چند روز میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی پروگرام موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران تقریباً چار ماہ تک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر رہی، حالانکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ بعد ازاں ایران نے عمان کے تعاون سے نگرانی مزید سخت کر دی، جہازوں سے گزرنے کی فیس لینے کا عندیہ دیا اور مقررہ راستوں سے انحراف کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا۔
دوسری جانب امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایران پر دو تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں، جس سے اعتماد کی فضا مزید کمزور ہوئی ہے۔
اس تنازع کے عالمی معیشت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اندرونِ ملک معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی حکومت نے مراکش سے درآمد ہونے والی فاسفیٹ کھاد پر بعض درآمدی محصولات عارضی طور پر معطل کیے ہیں تاکہ امریکی کسانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات اہم پیش رفت کا باعث بھی بن سکتے ہیں اور شاید کوئی خاص نتیجہ بھی نہ نکلے، تاہم آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ مبصرین کے بقول مجموعی طور پر دیکھا جائے تو قطر بدستور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کا ایک اہم سفارتی پل بنا ہوا ہے، لیکن موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان کسی جامع معاہدے یا براہِ راست مذاکرات کی راہ ابھی بھی غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اعتماد کا فقدان، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور باہمی الزامات خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے بدستور بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
