دنیا میں سب سے زیادہ کروڑپتی کس ملک میں ہیں؟

سوئس بینک یو بی ایس کی سالانہ گلوبل ویلتھ رپورٹ 2026 کے مطابق 2025 کے دوران عالمی سطح پر ذاتی دولت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 10 لاکھ نئے ڈالر کروڑ پتی سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی ذاتی دولت میں 10.8 فیصد اضافہ ہوا، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ اس کے مقابلے میں 2024 میں دولت میں 4.6 فیصد جبکہ 2023 میں 4.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ بینک کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں کی مضبوط کارکردگی اور سرمایہ کاری کے بہتر منافع نے دولت میں اس غیر معمولی اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
یو بی ایس کا کہنا ہے کہ 2025 میں پہلے کے مقابلے میں دنیا کے ہر خطے میں ڈالر کروڑ پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد نئے ڈالر کروڑ پتی بنے، جو دنیا بھر میں نئے کروڑ پتی بننے والے افراد کی مجموعی تعداد کا تقریباً نصف بنتے ہیں، اس طرح امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ نئے کروڑ پتی پیدا کرنے والا ملک رہا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپ میں بھی امریکی ڈالر کے حساب سے دولت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کی ایک بڑی وجہ گزشتہ سال یورو کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی رہی، جس سے یورپی اثاثوں کی ڈالر مالیت میں اضافہ ہوا۔
تاہم رپورٹ نے خبردار کیا کہ اگرچہ اوسط دولت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن 2020 کے بعد سے دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مزید بڑھ گئی ہے۔ متوسط طبقے کی دولت جانچنے والے انڈیکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر ممالک میں امیر ترین طبقے اور عام آبادی کے درمیان معاشی فرق مزید وسیع ہو رہا ہے۔
یو بی ایس کی اس عالمی رپورٹ کی تیاری کے لیے 56 ممالک کا تجزیہ کیا گیا، جو بینک کے اندازے کے مطابق دنیا کی 92 فیصد سے زیادہ مجموعی دولت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت میں دولت میں اضافے کا رجحان برقرار ہے، تاہم اس کے ثمرات تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے، جس کے باعث آمدنی اور دولت کی عدم مساوات بدستور ایک بڑا عالمی چیلنج بنی ہوئی ہے۔
