کیا پاکستان اور افغانستان میں کھلی جنگ چھڑنے والی ہے؟

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک نئے اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجود داعش کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے چار سادہ نوعیت کے ڈرونز کو بلوچستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں ہر گزرت دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ٹی ٹی پی کو پٹہ ڈالتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو دونوں ممالک میں کھلی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت ان ڈرونز کی نشاندہی کی اور انہیں کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔ فوج کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی خودمختاری کے دفاع اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔
دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان، خیبرپختونخوا کے قمبرخیل اور چترال کی شاہ سلیم وادی میں داعش کے مبینہ مراکز پر فضائی حملے کیے گئے، جہاں سے افغانستان کے خلاف حملوں اور تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں شدت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچا اور کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔
پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اگر مستقبل میں کسی بھی قسم کی سرحد پار اشتعال انگیزی کی گئی تو پاکستان بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
خیال رہے کہ یہ تازہ تنازع دراصل اتوار کی شب پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں کیے گئے فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تین اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 25 شدت پسند مارے گئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ تباہ ہوا۔اس کے برعکس افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں شدت پسند نہیں بلکہ خواتین، بچوں اور دیگر عام شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) نے بھی ابتدائی طور پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا ہے، تاہم مکمل تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
بلوچستان کے ضلع پشین میں مبینہ ڈرون گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں ایک مبینہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات لگا رہے ہیں، لیکن دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ابھی ممکن نہیں ہو سکی۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کارروائی کا فیصلہ کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا، جس میں تین اہلکار شہید ہوئے تھے۔ کالعدم جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔پاکستانی حکام کے مطابق حملے میں زخمی حالت میں گرفتار ایک مبینہ دہشت گرد افغان شہری ہے، جس نے اعتراف کیا کہ اسے افغانستان میں تربیت دی گئی اور حملے کی منصوبہ بندی بھی وہیں ہوئی۔اسی بنیاد پر پاکستان نے کابل حکومت سے سخت احتجاج کیا اور افغان ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھی دیا۔
ماہرین کے بقول گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں، فضائی حملوں اور سفارتی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتے ہیں اور پاکستان پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔سرحدی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت، آمدورفت اور سفارتی روابط بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ طورخم سمیت کئی اہم سرحدی راستے طویل عرصے سے بند ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اگر سرحد پار حملوں، جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات علاقائی سلامتی، تجارت اور انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
