محمود اچکزئی اور تحریک انصاف: نظریہ بدلا یا سیاسی مجبوری؟

پاکستان کی سیاست میں مستقل دوست اور مستقل دشمن کا تصور ہمیشہ سے کمزور رہا ہے۔ بدلتے سیاسی حالات، اقتدار کی ضرورت اور حکمت عملی اکثر ایسی صف بندیاں پیدا کر دیتی ہیں جو ماضی کے سخت ترین بیانات کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتی ہیں۔ محمود خان اچکزئی اور پاکستان تحریک انصاف کا موجودہ تعلق اسی سیاسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔
آج محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ قائد حزب اختلاف ہیں، لیکن چند برس قبل یہی شخصیت تحریک انصاف کی قیادت کی شدید تنقید کا نشانہ تھی۔ اس تبدیلی نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر ایسا کیا بدلا کہ جنہیں کبھی "بیرونی ایجنٹ” اور "پاکستان مخالف” کہا جاتا تھا، وہ آج سیاسی اتحادی بن گئے؟
دسمبر 2020 میں، جب تحریک انصاف اقتدار میں تھی، محمود خان اچکزئی نے لاہور میں ایک خطاب کے دوران برصغیر کی تاریخ اور برطانوی دور سے متعلق ایسے خیالات کا اظہار کیا جن پر اس وقت کی حکومتی قیادت نے سخت ردعمل دیا۔اس وقت کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے نہ صرف اچکزئی پر شدید تنقید کی بلکہ انہیں بیرونی طاقتوں کا آلہ کار قرار دیتے ہوئے ان کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگانے تک کی تجویز پیش کی۔ اسی طرح وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی ان کے بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔مگر وقت کے ساتھ سیاسی منظرنامہ بدل گیا۔ تحریک انصاف اپوزیشن میں آئی، مختلف جماعتوں کے ساتھ اس کے روابط بڑھے اور محمود خان اچکزئی اپوزیشن اتحاد کی اہم شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ بعدازاں انہیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے منصب پر بھی حمایت حاصل ہوئی۔
یہ تبدیلی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کے بارے میں اپنا سابقہ مؤقف تبدیل کر لیا ہے؟ اگر ہاں، تو اس تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا یہ نظریاتی ہم آہنگی ہے یا صرف موجودہ سیاسی حالات کی پیداوار؟
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان میں سیاسی اتحاد اکثر نظریاتی بنیادوں کے بجائے مشترکہ سیاسی اہداف کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے سخت مخالف رہنے والی جماعتیں بھی مخصوص حالات میں ایک دوسرے کے قریب آ جاتی ہیں۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی تبدیلیوں کے ساتھ عوام کو واضح وضاحت بھی دی جانی چاہیے تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ سیاسی اصول وقتی مفادات کے تابع ہیں۔یہ معاملہ صرف محمود خان اچکزئی تک محدود نہیں بلکہ پاکستانی سیاست میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سخت مخالفین بعد میں اتحادی بن گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سیاست میں اتحاد اور اختلاف بدلتے رہتے ہیں، لیکن عوام کے ذہن میں یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اپنے ماضی کے بیانات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں یا حالات کے مطابق مؤقف بدل لینا ہی سیاست کا معمول بن چکا ہے؟تحریک انصاف اور محمود خان اچکزئی کے تعلقات اسی بحث کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ اتحاد محض وقتی سیاسی ضرورت ہے یا مستقبل کی سیاست میں کسی مستقل حکمت عملی کا حصہ۔
