پی ٹی آئی کے باغی اراکین آفریدی سرکار کے نشانے پر کیسے آئے؟

پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں بجٹ کی منظوری تو حاصل کرنے میں کامیاب رہی، لیکن اس عمل نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو بھی کھل کر سامنے لے آیا۔ اب اطلاعات ہیں کہ بجٹ سیشن کے دوران حکومت پر تنقید کرنے والے ناراض اراکین کو سیاسی اور انتظامی سطح پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ منظوری کے بعد ایسے اراکین کے خلاف سخت حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہوں نے اسمبلی کے اندر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی یا بجٹ کی حمایت سے گریز کا عندیہ دیا تھا۔بجٹ اجلاس سے قبل پی ٹی آئی کے متعدد اراکین نے کھل کر پارٹی قیادت اور صوبائی حکومت پر تنقید کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر سیاسی حکمت عملی اختیار نہیں کی جا رہی اور صوبائی حکومت اس معاملے میں مطلوبہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ناراض اراکین نے اپنا الگ گروپ بھی تشکیل دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی تعداد تیس سے زائد ہے۔ اگرچہ بجٹ آخرکار منظور ہوگیا، تاہم اختلافات ختم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوگئے۔

سابق سپیکر مشتاق غنی نے اسمبلی کے فلور پر الزام عائد کیا کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی سزا انہیں ترقیاتی منصوبوں کی عدم شمولیت کی صورت میں دی جا رہی ہے۔اسی طرح سابق وزیر سجاد بارکوال سمیت دیگر اراکین نے بھی بجٹ، ضمنی اخراجات اور حکومتی مالی ترجیحات پر کھل کر سوالات اٹھائے، جس سے پارٹی کے اندر موجود بے چینی پہلی مرتبہ عوامی سطح پر نمایاں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ایسے اراکین کی نشاندہی کر لی ہے جو بجٹ کے دوران بھی اپنے مؤقف پر قائم رہے۔اطلاعات ہیں کہ ان اراکین کے ترقیاتی فنڈز روکنے، نئی اسکیموں کی منظوری محدود کرنے اور حلقوں میں جاری منصوبوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رہے گا، تاہم ان کا سیاسی کریڈٹ ناراض ارکان کو نہیں بلکہ پارٹی قیادت یا متعلقہ قومی اسمبلی کے ارکان کو دیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں متعلقہ وزیر یہ ذمہ داری انجام دے گا۔منصوبوں کی تشہیر بھی حکومت اور پارٹی کے نام پر ہوگی تاکہ ناراض اراکین کو سیاسی فائدہ نہ پہنچ سکے۔

ذرائع کے مطابق صرف حکومتی سطح پر ہی نہیں بلکہ پارٹی تنظیم کے اندر بھی ناراض اراکین کو محدود کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ ان اراکین سے ملاقاتیں نہیں کریں گے، انہیں اہم مشاورتی اجلاسوں سے دور رکھا جائے گا اور پارٹی معاملات میں ان کا کردار محدود کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات کا موقع ملا تو وزیراعلیٰ ناراض اراکین کے طرز عمل پر تفصیلی رپورٹ بھی پیش کریں گے۔

پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ پارٹی کی جانب سے ان سے رابطے پہلے ہی کم ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ترقیاتی فنڈز روکنے کی پالیسی اپنائی گئی تو یہ نہ صرف منتخب نمائندوں بلکہ عوام کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی، اور ایسی صورت میں وہ کھل کر احتجاج کریں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف عمران خان کی رہائی کا بیانیہ برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کو اپنی سیاسی اور انتظامی گرفت بھی مضبوط رکھنی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ناراض اراکین کے تحفظات دور کرنے کے بجائے انہیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف اسمبلی کے اندر بلکہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔فی الحال وزیراعلیٰ یا مشیر اطلاعات کی جانب سے ان اطلاعات کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اگر فنڈز کی تقسیم اور سیاسی فیصلوں میں واقعی امتیاز برتا گیا تو پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ پارٹی قیادت اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرتی ہے یا سخت تنظیمی اقدامات کے ذریعے نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

Back to top button