بجٹ منظوری کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بارے سیاسی سرگرمیاں میں تیزی

وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کے بعد ایک بار پھر مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق محرم الحرام کے بعد حکومت اتحادی جماعتوں، سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور دیگر متعلقہ حلقوں سے رابطوں اور مشاورت کا نیا دور شروع ہونے کا امکان ہے تاکہ مجوزہ آئینی پیکج پر زیادہ سے زیادہ سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، اس لیے حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لے۔ اسی مقصد کے تحت بیک ڈور رابطوں، سیاسی مشاورت اور مختلف جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ پارلیمنٹ میں مطلوبہ عددی حمایت حاصل کی جا سکے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں نئے صوبوں کے قیام، بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار بنانے، انتخابی اصلاحات اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق متعدد تجاویز زیر غور ہیں۔ تاہم ان تمام معاملات کی حساس نوعیت کے باعث حکومت کسی بھی پیشرفت سے قبل وسیع سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنا چاہتی ہے، کیونکہ اختلافات کی موجودگی میں آئینی ترمیم کی منظوری آسان نہیں ہوگی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ کی منظوری کے بعد حکومت کو آئینی اور سیاسی معاملات پر توجہ دینے کے لیے نسبتاً زیادہ گنجائش حاصل ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت میں تیزی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ماضی کی بڑی آئینی ترامیم بھی طویل سیاسی مذاکرات، متعدد مشاورتی نشستوں اور مختلف جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد ہی منظور ہوئیں، اس لیے 28ویں آئینی ترمیم بھی مرحلہ وار سیاسی عمل سے گزر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات پر ہونے والی پیشرفت کے بعد 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے یا صوبائی اختیارات میں کمی سے متعلق خدشات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والی مشاورت میں اس امکان پر بھی غور کیا گیا کہ دفاعی اور دیگر بڑھتے ہوئے قومی اخراجات پورے کرنے کے لیے صوبے وفاق کے ساتھ مالی تعاون کریں۔سیاسی مبصرین کے بقول خطے میں سیکیورٹی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور دفاعی ضروریات میں اضافے کے باعث وفاق کو اضافی وسائل درکار تھے، جس پر صوبوں سے مالی تعاون کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں یہ تجویز بھی زیر بحث آئی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات میں صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں، جس کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی پر وفاقی سطح پر تعاون کے لیے سیاسی دباؤ موجود تھا۔

ان کے مطابق اسی دوران یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل اختیارات محدود کیے جا سکتے ہیں یا مالی وسائل کا بڑا حصہ دوبارہ وفاق کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مالی مفاہمت کے بعد ایسے خدشات میں واضح کمی آئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کئی اہم معاملات پر کسی حد تک اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ ان کے بقول سندھ اور پنجاب کی جانب سے ترقیاتی بجٹ میں سے حصہ نکال کر وفاق کو مالی معاونت فراہم کرنا بھی اسی مفاہمت کا اظہار ہے۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے امکانات زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق حکومت کو بجٹ کی منظوری کے لیے درکار مالی وسائل صوبوں کے تعاون سے حاصل ہو چکے ہیں، اس لیے فوری طور پر کسی بڑی آئینی ترمیم کی سیاسی ضرورت پہلے جیسی نہیں رہی۔مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اصل توجہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، گورننس کو بہتر بنانے اور منتخب اداروں کو مزید مؤثر بنانے پر مرکوز رہ سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق ملکی سیاست آئندہ چند ہفتوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے اور اسی دوران یہ واضح ہوگا کہ حکومت آئینی اصلاحات کو کس حد تک آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجموعی طور پر اگرچہ حکومت کی جانب سے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر دوبارہ پیشرفت کے اشارے مل رہے ہیں، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اتحادی جماعتوں کی حمایت، وسیع سیاسی اتفاق رائے اور پارلیمان میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر ہوگا۔ یہی عوامل آئندہ ہفتوں میں اس آئینی پیکج کی سمت اور رفتار کا تعین کریں گے۔

Back to top button