ایران کا معاہدے پر عمل درآمد تک مذاکرات سے صاف انکار

ایران نے طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد تک امریکا کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کر دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران مفاہمتی یادداشت کی اہم شقوں پر مکمل عمل درآمد سے قبل کسی بھی حتمی معاہدے یا نئے مذاکراتی مرحلے میں شامل نہیں ہوگا۔
محمد باقر قالیباف کے مطابق ایران کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا، اس وقت تک مزید مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ان شقوں میں لبنان میں جنگی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، تجارتی جہازوں کو 60 روز تک بغیر کسی فیس کے محفوظ گزرگاہ کی فراہمی، ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔
ایرانی سپیکر نے کہا کہ تہران کسی بھی حتمی معاہدے یا مذاکراتی عمل کو صرف اسی صورت آگے بڑھائے گا جب مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملی پیش رفت اور مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ان کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد کو آئندہ مذاکرات کے لیے لازمی شرط سمجھتا ہے۔
