افغانستان سے دہشتگردی سیکیورٹی فورسز کیلئے بڑا چیلنج کیوں؟

پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان سے دراندازی، سرحد پار دہشت گردی اور کالعدم تنظیموں کی نقل و حرکت جیسے سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسلام آباد مسلسل افغان طالبان حکومت کو یہ باور کراتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ مختلف مواقع پر مبینہ شواہد بھی افغان حکام کے ساتھ شیئر کیے گئے۔ پاکستان نے دوست ممالک، خصوصاً قطر اور ترکیہ، سے بھی درخواست کی کہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالیں تاکہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے، تاہم حکومتی مؤقف کے مطابق اس حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
کراچی میں رینجرز کیمپ پر حالیہ دہشت گرد حملے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے دہشت گرد تنظیموں کا بنیادی ہدف ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے حملوں کا مقصد ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا اور ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا، جسے ان کی پیشہ ورانہ تیاری اور بروقت ردعمل کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم افغان شہری عثمان علی نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے ہے اور اسے افغانستان میں تربیت دی گئی تھی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس نے خودکش جیکٹس کی تیاری سمیت مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور پاکستان روانگی سے پہلے تمام منصوبہ بندی افغانستان میں مکمل کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وہ نہ صرف اپنے ملک میں مکمل حکومتی رٹ قائم کریں گے بلکہ ہمسایہ ممالک کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کریں گے، تاہم اسلام آباد کے مطابق زمینی حقائق اس کے برعکس سامنے آئے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق طالبان حکومت کے قیام کے بعد خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ افغان انتظامیہ کو کالعدم تنظیموں، ان کے مراکز اور سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات فراہم کیں، مگر اس کے باوجود خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔ مختلف بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹس میں بھی اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم بعض شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
اسلام آباد کا یہ بھی مؤقف ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے اور بعض دہشت گرد گروہوں کو مبینہ طور پر مالی اور عسکری معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم بھارت ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود جب دہشت گردی میں کمی نہ آئی تو سکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ ان کارروائیوں پر افغان طالبان کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے، خصوصاً جب سرحد پار سے دہشت گردی کے مسلسل خطرات موجود ہوں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس وعدے پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ روس سمیت بعض علاقائی طاقتوں نے بھی افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں کے بعد دشمن عناصر نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ ملک کو داخلی طور پر غیر مستحکم کیا جا سکے۔ تاہم سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہر قسم کے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات قومی معیشت، سرمایہ کاری، عوامی اعتماد اور داخلی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے قومی سلامتی کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سیاسی قیادت، ریاستی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کے درمیان ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
