ضم شدہ قبائلی اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں انکم ،سیلز ٹیکس نافذ

وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے کئی دہائیوں سے جاری ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت آج سے  ان علاقوں میں صنعتی پیداوار پر 12 فیصد سیلز ٹیکس اور 7 فیصد انکم ٹیکس نافذ ہو گا۔

قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ سابق فاٹا اور سابق پاٹا کو باقاعدہ طور پر ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

قیام پاکستان سے وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقہ اور صوبے کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقہ کو ان کی پسماندگی، غربت اور خصوصی آئینی حیثیت کے باعث صنعت اور کاروبار پر مختلف وفاقی ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل تھا۔

2018 میں فاٹا اور پاٹا کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے انہیں خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تاہم اس وقت حکومت نے مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے محدود مدت تک ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وفاقی بجٹ 27-2026 میں یہ رعایت ختم کیے جانے کے بعد ضم اضلاع اور مالاکنڈ کے صنعتکاروں اور تاجروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں اس اقدام کو ٹیکس نظام میں مساوات کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومت اس وقت ٹیکس وصول کرنےکی حقدار ہوگی جب وہ ان علاقوں کو ملک کے دیگر صنعتی مراکز جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں سڑکوں کی خستہ حالی، بجلی کی قلت، امن و امان کی غیر یقینی صورتحال، مقامی ہنرمند افرادی قوت کی کمی، بینکوں کی عدم معاونت اور کراچی بندرگاہ سے طویل فاصلےکے باعث پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے، اگر اس پر نئے ٹیکس بھی نافذ کر دیےگئے تو مقامی صنعت پنجاب اور سندھ کی صنعت سے مقابلہ نہیں کر سکے گی۔

Back to top button