پاکستانی سونے کے زیورات بنوانے کی بجائے بسکٹ کیوں خریدنے لگے؟

پاکستان میں سونے کی طلب ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے، رواں برس صرف چار ماہ کے دوران یعنی جولائی سے اکتوبر کے دوران ملک میں 157 کلو سونا درآمد کیا گیا، لیکن اس کے باوجود جیولرز کے پاس زیورات بنانے کے لیے آرڈرز نہیں ہیں کیونکہ لوگ اب سونے کے بسکٹ خریدنے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے سونے کے زیورات کی طلب میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم دوسری جانب سونے کے بسکٹوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں سونے کی قیمت میں حالیہ مہینوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور سونے کی قیمت 165000 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی جو ملکی تاریخ میں سونے کی قیمت کی بلند تریں سطح ہے۔ سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد سونے کی قیمت میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں اور ان کے مطابق آنے والے سال میں سونے کی قیمت دو لاکھ فی تولہ تک پہنچ سکتی ہے۔

اگرچہ سونے سے بنے ہوئے زیورات شادی بیاہ کے موقع پر تیار کیے جاتے ہیں اور پھر انھیں محفوظ کر لیا جاتا ہے تا کہ مشکل وقت میں بیچا جا سکے۔ لیکن اب پاکستان میں سونا سٹاک مارکیٹ، فارن کرنسی اور رئیل اسٹیٹ کے ساتھ سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ اس میں زیادہ سرمایہ کاری ہے جسے اب ’محفوظ سرمایہ کاری‘ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کے ساتھ اس کی طلب میں  بھی زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جولائی سے ستمبر 2022 کے تین ماہ میں سونے کی طلب میں تیس فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔ سونے کی قیمت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آرہا ہے جب ملک کے معاشی اشاریے گرواٹ کا شکا رہیں۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں جبکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ساتھ سٹاک مارکیٹ گذشتہ کئی مہینوں سے مندی کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب ملک میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد پر موجود ہے۔

کراچی میں قادری جیم اینڈ جیولری کے چیف ایگزیکٹو عدنان قادری بتاتے ہیں کہ جیولرز اس صورتحال سے پریشان ہیں کیونکہ ان کا کام اب پہلے جیسا نہیں رہا اور زیورات بنوانے کے لیے اس وقت کم خریدار آ رہے ہیں۔کراچی کے رہائشی اصغر محمود پراپرٹی کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ڈیڑھ مہینے پہلے تقریباً پچاس تولے کے لگ بھگ سونا تب خریدا جب انھوں نے اپنی ایک پراپرٹی بیچی۔ اصغر نے بتایا کہ کافی مہینوں سے پراپرٹی کا کام مندی کا شکار ہے اور سیمنٹ اور سریے کے مہنگا ہونے کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں اور پراپرٹی کی قیمت بھی اس وقت جمود کا شکار ہے۔اصغر نے بتایا کہ ڈیڑھ مہینے قبل انھوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے فی تولہ سونا خریدا اور صرف ڈیڑھ مہینے میں اس کی قیمت 165000 روپے فی تولہ پہنچ گئی۔ لہذا اس وقت سونے میں سرمایہ کاری ہی سب سے بہتر آپشن ہے کیونکہ دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری میں منافع کچھ اتنا منافع بخش نہیں۔اصغر نے بتایا کہ ڈیڑھ مہینے میں سونے میں سرمایہ کاری سے جو منافع مل رہا ہے وہ اس وقت کسی اور سیکٹر میں نظر نہیں آرہا۔

پانچ سے چھ مہینے قبل فی تولہ سونے کی قیمت 135000 سے 140000 روپے تھی جو دسمبر میں 165000 تک پہنچ گئی اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے، سونے کے ماہر اور تاجر احسن الیاس نے بتایا کہ سونے کی قیمت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کی طلب میں اضافہ ہے اور اس کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی نے بھی قیمت میں اضافہ کیا۔ مالیاتی امور کے ماہر یوسف سعید نے بتایا کہ سونے کی قیمت عالمی سطح پر بین الاقوامی مارکیٹ اور ڈالر کے ریٹ سے منسلک ہے، اس وقت ملک میں سونے کی قیمت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ڈالر ریٹ ہے، سرکاری ریٹ جو انٹر بینک میں 223 سے 224 تک ہے، اس کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ کا ریٹ 240-245 تک ہے اور سونے کو اسی اوپن مارکیٹ ریٹ سے منسلک کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی طلب میں اضافے پر بات کرتے ہوئے عدنان قادری نے بتایا کہ مجموعی طور پر سونے کی طلب بڑھی ہے کیونکہ اب لوگ اس میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور انھیں اس وقت سونے میں سرمایہ کاری سب سے زیادہ پرکشش نظر آرہی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سٹاک، فارن کرنسی، پراپرٹی اور گولڈ اہم ذریعے سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے اور زمین کی قیمتیں بھی جمود کا شکار ہیں۔ مالیاتی شعبے کے افراد کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ڈالر کی شدید قلت ہے اور درآمد کے لیے ڈالر دستیاب نہیں ہیں تو سرمایہ کاری کے لیے ڈالر لینا بہت مشکل ہے اور ایسی صورتحال میں سونے میں سرمایہ کاری سب سے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری کتنی محفوظ ہوتی ہے، اس بارے میں یوسف سعید نے بتایا کہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، جب بھی کساد بازاری ہوتی ہے یا معاشی صورتحال ابتری کا شکار ہوتی ہے تو لوگ زیادہ تر سونے کی طرف جاتے ہیں۔

یوسف سعید نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں سونے میں سرمایہ کاری اس لیے پرکشش سمجھی جاتی ہے کہ اس کی خریداری پر کوئی قدغن نہیں، کوئی مارکیٹ میں جا کر جتنا سونا خریدنا چاہے خرید سکتا ہے، رسمی طور پر پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج پر دوسری دھاتوں کے علاوہ سونے کی بھی خرید و فروخت ہوتی ہے تاہم سونے میں سرمایہ کاری زیادہ تر غیر رسمی و انفرادی سطح پر ہوتی ہے، معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں معیشت دستاویزی نہیں اور لوگوں کے پاس کیش کی صورت میں بہت زیادہ پیسہ موجود ہے۔ عدنان قادری نے بتایا کہ سونے میں سرمایہ کاری کو پرکشش اور محفوظ سمجھنا ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے تاہم انھوں نے کہا کہ اگر سونے کو خرید کر رکھ لیا جائے اور کل پاکستان میں بہت زیادہ معاشی حالات خراب ہوں اور لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہو تو یہ سونا کون خریدے گا لیکن اس کے باوجود سونے میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

Back to top button