پاکستان میں مسلح فسادی گروہوں پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وسعت الله خان نے کہا ہے پاکستان میں مسلح نظریاتی گروہوں کو مخصوص نظریاتی بلکہ سیاسی، نسلی،علاقائی اور معاشی دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے عوض انھیں اپنے ہم مذہب مخالفین یا غیر مسلم اقلیتوں کو مکے مارنے کی مشق کرنے والا بیگ بنا کے اپنا سیاسی و سماجی دبدبہ پھیلانے کی اجازت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس وقت جیلیں سیاسی قیدیوں کے بجائے نظریاتی منافرت اور دہشت پھیلانے والوں سے بھری ہوتیں۔اپنے ایک کالم میں وسعت الله خان کہتے اہیں کہ لاقانونیت پر تو قابو پایا جا سکتا ہے مگر قانونی انارکی پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ جڑانوالہ کا فساد کوئی قدرتی ردِ عمل نہیں تھا بلکہ منظم افراتفری تھی۔ جب تک ایسی منظم افراتفری ریاستی مقاصد آگے بڑھانے میں معاون ہے۔ آپ انیس سو تہتر کے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق، اسلام میں اقلیتوں کی حرمت کا بیان اور گیارہ اگست کی تقریر کے حوالے دیتے رہیں۔ جس جوشیلے لونڈے کے دماغ میں تیزاب، دائیں ہاتھ میں سریا اور بائیں ہاتھ میں عمارتیں جلانے والا کیمیکل ہو اس کے سامنے آئین اور عفو و درگزر کے صفحات لہرا کے دکھائیں نا۔یہ نظام کی خرابی ہرگز ہرگز نہیں۔ نظام ہی اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وسعت الله خان کا کہنا ہے کہ جب تک ہم حقائق سے نظریں چرا کے خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے تب تک یہ دھوکہ ہمیں دھوکہ دیتا رہے گا۔ اکثریت پسند ریاست وہ ہوتی ہے، جس میں بیشتر بنیادی قوانین کسی ایک مذہبی، نسلی یا علاقائی اکثریت کے مفاد کو دیگر ہم وطن اقلتیوں کے مفادات پر مقدم رکھیں پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان متحدہ ہندوستان سے انگریزوں کے چلے جانے کی صورت میں جدید طرزِ جمہوریت کے نتیجے میں ہندو اکثریت کی جانب سے مسلمان اقلیت کو مستقل کچلے جانے کے خوف نے بنوایا۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ایک اکثریتی مذہبی گروہ یعنی ہندو کے ممکنہ تسلط سے بچنے کے لیے جو ملک بنا وہ بھی ایک اور اکثریتی گروہ یعنی مسلمان کے تسلط کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ یعنی پولٹیکل سائنس کی زبان میں ایک اکثریت پسند ریاست سے بچنے کے لیے ایک متبادل اکثریت پسند ریاست وجود میں لائی گئی۔چنانچہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر تشکیل پانے والی نئی ریاست کی نئی اقلیتوں میں وہ بقا کا وہ خوف منتقل نہ ہو جس کے ہاتھوں پاکستان وجود میں آیا۔
اس بابت جناح صاحب کی گیارہ اگست کی تقریر کے ایک پیرے نے جو عارضی خوش فہمی پیدا کی۔ وہ خوش فہمی ان کی وفات کے بعد اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار دادِ مقاصد نے رفع کر دی۔بدقسمتی سے جو نئی ریاست ایک مذہبی اقلیت کو مساوی حقوق دلانے کے لیے وجود میں آئی، وہ اپنی اکثریت کو بھی مطمئن نہ رکھ سکی. وسعت الله خان بتاتے ہیں کہ شمالی ہندوستان اور مغربی پنجاب کی جاگیری و متوسط و مذہبی مسلمان قیادت کی جانب سے ایک مذہب، ایک ملت، ایک ریاست کا نعرہ نئے ملک کی تشکیل کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی حکمتِ عملی کے طور پر تو مؤثر تھا۔ مگر اس نعرے کی بنیاد پر ملک بننے کے بعد نئے زمینی حقائق کی روشنی میں اگر ریاست یہ بیانیہ فروغ دیتی ہے کہ ملک بنانے کا مقصد اکثریت کے ہاتھوں اقلیت کو بلڈوز ہونے سے بچانا تھا۔ اب جبکہ یہ مقصد حاصل ہو چکا ہے تو یہ ملک بلاامتیاز اپنی حدود میں رہنے والے سب پاکستانیوں کا ہے۔ مگر یہ اکثریت پسند ریاست بھی اکثریت کا اعتماد حاصل نہ کر سکی۔ اس کا ثبوت ہمیں 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں مل گیا۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شکست کے اسباب کو پیشِ نظر رکھ کے جو نیا آئین بنایا جاتا وہ پاکستان کی حدود میں رہنے والے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق و فرائض کی محض کاغذی کے بجائے اصل نمائندگی کرتا۔مگر ایسا کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا بلکہ جان لیوا خول توڑنے کے بجائے اسی خول میں خود کو اور سمیٹ لیا گیا۔میجارٹیرین ریاست پر مسلط منظم اقلیت اور مضبوط ہو گئی ۔ انیس سو اکہتر سے پہلے بنگال کی اکثریت کو آبادی کی بنیاد پر وسائل تک رسائی نہ دینے کے لیے ون یونٹ تخلیق کیا گیا۔ یعنی مشرقی پاکستان کی چھپن فیصد اکثریت اور مغربی پاکستان کی چوالیس فیصد اقلیت کو ففٹی ففٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ جیسے ہی بنگال نے وفاق سے طلاق لی تو باقی پاکستان میں وسائل کی تقسیم کے لئے آبادی کی بنیاد کا فارمولا اپنا لیا گیا۔ ون یونٹ کا فائدہ بھی پنجاب کو ہوا اور آبادی کی بنیاد پر وسائیل کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی پنجاب کے حق میں گیا۔ باقی صوبوں کو یہ پڑھایا گیا کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وسائل کی تقسیم بھی احساس محرومی دور نہ کر پائی۔ وسعت الله خان کہتے ہیں کہ متحدہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کا تناسب لگ بھگ بائیس فیصد تھا۔نئے پاکستان میں اقلیت راتوں رات کم ہو کے دو سے ڈھائی فیصد رھ گئی۔جب اقلیت بائیس فیصد تھی تو قرآن کی بے حرمتی کا مشرقی و مغربی پاکستان میں ایک واقعہ بھی نہیں ہوا۔ جب اقلیت کم ہو کے ڈھائی فیصد تک رہ گئی تو اس نے دیدہ دلیری سے مسلمان اکثریت کے مذہبی جذبات کو تواتر سے پامال کرنے پر کمر کس لی، یقین نہ آئے تو گذشتہ چالیس برس کے توہینِ مذہب کے واقعات میں اقلیتی ملزموں کا تناسب دیکھ لیجیے۔ ساتھ ہی ساتھ اکثریت پسند ریاست میں توہینِ مذہب کے واقعات میں ماخوز مسلمانوں کی کثیر تعداد دیکھ بھی لیجیے۔ اگر تو یہ واقعی اکثریت پسند ریاست ہوتی تب بھی صبر آ جاتا کہ کم ازکم اکثریتی فرقہ تو سکون سے رہ رہا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اس اکثریت پسند ریاست پر بھی ایک بالادست اقلیت نے اپنے ہم خیال مسلح نظریاتی گروہوں کی مدد سے تسلط قائم کر لیا اور اس تسلط کو قوانین کی ڈھال بھی فراہم کر دی گئی ہے ۔
