پاکستان کو کھائی میں گرنے سے بچانے کا فارمولا کیا ہے؟


سینئر صحافی نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ناکام ہوتی ہوئی ملکی معیشت، عوامی اشتعال، عالمی تنہائی، بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، سرحد پار دھشت گردی اور علاقائی طاقتوں کی رقابت بازی کی وجہ سے پاکستان ایک سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے لہازا مفاہمت پر مبنی ایک جمہوری سویلین حکومت ہی ملک کو اس کھائی میں گرنے سے بچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلد پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ بات سمجھ میں آنے لگے گی۔
فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ اداریے میں آزاد کشمیر کےالیکشن نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے سیٹھی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی جیت اور مسلم لیگ ن کی شکست کے درمیان واضح فرق کئی ٹھوس وجوہ کی بنا پر ناقابل یقین ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ مریم نواز کے انتخابی جلسے بہت متاثر کن تھے جبکہ عمران خان کے الیکشن جلسوں میں بددلی نمایاں تھی۔ بلاول تو انتخابی مہم درمیان میں چھوڑ کر امریکا چلے گئے تھے۔ اب جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ آنکھوں دیکھے حقائق کے برعکس ہیں۔
سیٹھی کہتے ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیو کسی ایک یا دوسرے طریقے سے دھاندلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں الیکشن کمیشن کے سٹاف ممبران کے پاس ووٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے ہیں اور شکایت کررہے ہیں کہ ریٹرن آفیسر مکمل ریکارڈ کے بغیر ہی غائب ہوگیا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں فوجیوں کی ویگن پر تحریک انصاف کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ ایک ٹی وی شو کا کلپ بہت دلچسپ ہے۔ کراچی سے پیپلز پارٹی کے ایک وزیر، نبیل گبول کھلے الفاظ میں اعتراف کرتے ہیں کہ ”ہم سے سولہ سیٹوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ہمیں صرف گیارہ ملیں۔“جب پوچھا گیا کہ ایسا غیر معمولی وعدہ کس نے کیا تھا تو وہ چھینب گئے اور مسکراتے ہوئے کہا کہ ”بے شک ووٹروں نے کیا تھا“۔ اس پر پینل میں موجود دیگر شرکا نے شرمندگی بھر ا قہقہہ لگایا۔
مسلم لیگ ن کی آزاد جموں کشمیر الیکشن کمیشن پر تنقید ریکارڈ پر ہے کہ اس نے بہت اہم حلقوں کے نتائج ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت کے لیے روکے رکھے۔ اس کا مطلب ہے کہ مخصوص حلقوں کے نتائج تبدیل کیے جارہے تھے۔ اعدادوشمار سے بھی ہدفی دھاندلی کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔ تحریک انصاف نے 32 فیصد ووٹ حاصل کیے اور اس کی 25 سیٹیں ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن نے 25 فیصد ووٹ حاصل کیے لیکن اس کی صرف چھ سیٹیں ہیں۔ غیر معمولی بات یہ ہے کہ اٹھارہ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی کی گیارہ سیٹیں ہیں۔ سادہ اکثریت سے جیتنے کے اصول پر اس غیر معمولی صورت حال کی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی۔
نجم سیٹھی یاد دلاتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے اختتامی لمحات میں نواز شریف اور مریم نواز نے ووٹروں کو خبردار کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن چرانے کی ویسی ہی کوشش کرسکتی ہے جیسی اس نے 2018 ء میں کی تھی۔ اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ”اپنے ووٹوں کی حفاظت کرنا۔ اگر تمہارے ووٹوں کاتقدس پامال ہوا تو ملک، قوم اور آئین کو زک پہنچے گی۔“ ایسا لگتا ہے کہ اس للکار پر واحد ردعمل فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آیا جس نے سب رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے تحریک انصاف کو واضح برتری دلادی۔اگر پیپلز پارٹی کو وعدے کے مطابق سولہ سیٹیں دے دی جاتیں تو تحریک انصاف کے ہاتھ بیس سے زیادہ سیٹیں نہ آتیں۔ چنانچہ مظفر آباد میں مخلوط حکومت بنانی پڑتی۔ زخموں پرمزید نمک پاشی کرتے ہوئے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں بھی تحریک انصاف کو اس حلقے میں کامیابی دلادی جہاں مسلم لیگ ن 2018ء میں آسانی سے جیت گئی تھی۔
نجم سیٹھی کے مطابق اس نتیجے نے ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے کہ اب اس ملک، خاص طور پر مسلم لیگ ن کی قسمت میں کیا لکھا ہے؟ کیا یہ واضح اشارہ ہے کہ پاکستانیوں کی نظروں میں ساکھ کھونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ عمران خان کا ہر صورت ساتھ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس نے سیاست میں غیر جانب دار رہنے کا صفحہ ہمیشہ کے لیے پھاڑ دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2022-23  کے عام انتخابات بھی دھاندلی زدہ ہوں گے اور مزید پانچ سال کے لیے اقتدار عمران خان کے پاس ہی رہے گا؟
سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کا شہباز شریف کا بیانیہ اور چیلنج کرنے کا نواز شریف کا بیانیہ ناکام ہوچکا؟ اس سوال کا جواب دیتےہعئی وہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے رجائیت پسندوں کو یقین ہے کہ ذاتی مفاد کے اس کھیل میں اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ قیادت کی صفوں میں ضرور دراڑپڑے گی اور یہ سہ فریقی مثلث ضرور ٹوٹے گی جو پاکستان کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس سے یا شہباز شریف، یا نواز شریف کے لیے سیاسی گنجائش نکلے گی۔ کچھ دعائیں کررہے ہیں کہ عمران خان سے ایسی سنگین غلطی سرزد ہوجائے جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحے پر ہونے کا بھرم چاک کردے۔ کچھ کو یقین ہے کہ ناکام ہوتی ہوئی معیشت،گلیوں میں عوامی اشتعال، عالمی تنہائی، ابھرتی ہوئی انتہاپسندی، سرحد پار2 دھشت گردی اور علاقائی طاقتوں کی رقابت بازی کی وجہ سے ر یاست اور معاشرہ سنگین بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیٹھی کا اصرار ہے کہ صرف مفاہمت پر مبنی جمہوری سویلین حکومت ہی ملک کو اس کھائی میں گرنے سے بچا سکتی ہے اور جلد اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ بات سمجھ میں آنے لگے گی۔

Back to top button