شہزاد اکبر اور ترین گروپ کے درمیان اصل تنازع کیا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کے لاڈلے اور طاقتور خصوصی مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور تحریک انصاف کے ترین گروپ کے ایک اہم رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان کے درمیان شروع ہونے والا تنازعہ اب وزیر اعظم عمران خان اور جہانگیر ترین گروپ کا تنازعہ بن چکا ہے جو آگے چل کر حکمران جماعت میں مذید انتشار پیدا کرنے والا ہے۔
یاد رہے کہ نذیر چوہان اس وقت شہزاد اکبر کی جانب سے دائر کردہ ایک کیس کی وجہ سے لاہور پولیس کی حراست میں ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ تنازع صرف اتنا نہیں ہے کہ نذیر چوہان نے شہزاد اکبر پر قادیانی ہونے کا الزام لگایا۔ اصل سوال یہ ہے کہ نذیر چوہان نے شہزاد اکبر پر یہ الزام کیوں لگایا جبکہ انکا آپس میں بظاہر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ شہزاد اکبر کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان پر یہ الزام جہانگیر ترین کے ایماء پر لگایا گیا جو اپنے خلاف شوگر سکینڈل کیس کی وجہ سے ان کے دشمن نمبر ایک بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس وقت جہانگیر ترین اور نذیر چوہان دونوں کے خلاف کیسوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارہ یا ایف آئی دیکھ رہا ہے جو انتظامی طور پر وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے ماتحت چکا ہے۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے شہزاد اکبر اور نذیر چوہان کے درمیان ذاتی چپقلش کبھی بھی سامنے نہیں آئی۔ البتہ اس کی جڑیں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے خلاف ہونے والے مقدمات سے جا ملتی ہیں۔
گذشتہ برس چینی بحران کے کرتا دھرتاؤں کے خلاف ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا تو اس انکوائری کی نگرانی شہزاد اکبر کر رہے تھے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مارچ 2021 میں جب جہانگیر خان ترین کے خلاف ایف آئی اے نے پہلا مقدمہ درج کیا تو انہوں نے تحریک انصاف میں اپنے حامی اراکین پارلیمنٹ کا ایک اجلاس اپنے گھر پر بلایا۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے لاہور سے واحد ایم پی اے نذیر چوہان ہی تھے۔
بعد ازاں جہانگر ترین نے عبوری ضمانت کرائی تو ان کے حامی اراکین انکے ساتھ تھے۔ ترین نے اپنے خلاف ہونے والے مقدمات میں شہزاد اکبر کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مجھے پتا ہے میرے خلاف ایف آئی آر کی تحریر کسی یو ایس بی میں اسلام آباد سے آئی ہے‘، اس وقت نذیر چوہان اور راجہ ریاض ان کے دائیں اور بائیں کھڑے تھے اور دونوں نے ہی کھل کر شہزاد اکبر کا نام لیا۔ اسی دوران ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں ترین کے حمایتی اراکین کھل کر بولے رہے۔ مئی کے وسط میں شہزاد اکبر نے لاہور کے تھانہ ریس کورس میں ایک درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا کہ نذیر چوہان نے ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر ان کے عقیدے سے متعلق ایسی بات کی ہے جس سے ان کی اور ان کے اہلخانہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
پولیس نے 29 مئی کو تحریک انصاف کے ایم پی اے نذیر چوہان کے خلاف ہتک عزت، مذہبی عقیدے کو نقصان پہنچانے اور قتل کی دھمکیوں سمیت پانچ الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ ایف آئی آر میں شہزاد اکبر نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف پراپیگنڈہ ان کی ملک میں احتساب کے لیے گراں قدر خدمات کے نتیجے میں شروع کیا گیا۔ اور اس کا مقصد احتساب کے عمل کو سست کرنا ہے۔
مقدمے کے اندراج پر نذیر چوہان کئی درجن کارکنوں کے ساتھ تھانہ ریس کورس گرفتار دینے کے لیے پہنچ گئے تاہم پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔
اس معاملے پر انصافی وزار نے کھل کر شہزاد اکبر کا ساتھ دیا۔ فواد چوہدری ، مراد سعید ، شیریں مزاری اور شہباز گل نے کھل کر مشیر برائے احتساب کے لئے ٹویٹ بھی کیے۔ اسی دوران باقاعدہ طور پر تحریک انصاف میں جہانگیر ترین گروپ کھل کر سامنے آگیا اور پس پردہ معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بھی کئی قوتیں متحرک ہو گئیں۔ ایف آئی اے نے جہانگر ترین کی گرفتاری کو عدالت کے سامنے ایک غیر ضروری عمل قرار دیے دیا جس کے بعد ان کی اور ان کے بیٹے کی عبوری ضمانت مستقل میں تبدیل ہوگئی۔ پھر وزیر اعلی پنجاب نے ترین گروپ سے ملاقات کی اور بجٹ سیشن میں بھر پور شرکت پر آمادہ بھی کر لیا۔
تاہم بجٹ پاس ہو جانے کے چند ہفتوں بعد 28 جولائی کو اچانک پولیس نے اسی مقدمے میں نذیر چوہان کو گرفتار کر لیا جس میں ان پر شہزاد اکبر کی ہتک اور ان کے مذہبی عقائد کر ٹھیس پہنچانے کے الزامات تھے۔ تاہم لاہور کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے ان کی اسی روز ضمانت منظور کر لی۔ ان کی رہائی 29 جولائی کو متوقع تھی لیکن اس سے پہلے ہی کوٹ لکھپت جیل میں ایف آئی اے کی ٹیم پہنچ گئی اور ان کو ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا۔ اس کیس میں مشیر احتساب شہزاد اکبر نے ان کے خلاف یہ الزام لگایا ہے کہ نذیر چوہان نے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر ان کی جان کو خطرے سے دوچار کیا۔ یہ مقدمہ 2016 سے پاکستان میں نافذ العمل الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں نذیر چوہان ابھی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔
لیکن بات یہاں نہیں رکی۔ 28 جولائی کو گرفتاری کے بعد پولیس نے چوہان پر ایک اور ایف آئی آر درج کر لی جو کہ مجموعی طور پر تیسرا مقدمہ تھا جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کار سرکار میں مداخلت کی ہے اور پولیس اہلکاروں کو دوران حراست دھمکیاں دی ہیں۔ دوسری جانب جہانگیر ترین گروپ نے نذیر چوہان کا بھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ان کی گرفتاری تب عمران خان بمقابلہ جہانگیر ترین میچ کی صورت اختیار کر گئی جب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے واضح طور پر نذیر چوہان کو پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے کے پروڈکشن آرڈرز کے باوجود وزیر اعلی بزدار کی کمانڈ میں کام کرنے والی پنجاب پولیس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل جنگ شہزاد اکبر اور نذیر چوہان کی نہیں بلکہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی ہے۔ اس معاملے کا تو جو بھی اختتام ہو لیکن ایک چیز واضح ہے کہ جہانگیر ترین اور عمران خان مستقبل میں اکٹھے نہیں چل سکتے۔

Back to top button