پراپرٹی ڈیلرز، جیولرز اور وکلا FATF کے ریڈار پر آ گئے

منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ایف اے ٹی ایف یا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے اس سے نکلنے کے لیے جو 6 نکاتی ایکشن پلان دیا ہے اس کے تحت اسے پراپرٹی ڈیلرز، جیولرز اکاؤنٹنٹس اور وکلا پر نظر رکھنا ہو گی تاکہ ان کے ذریعے کالا دھن سفید نہ کیا جا سکے۔ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے مطابق اب پاکستان کو طے شدہ غیر نامزد مالیاتی کاروبار اور پیشوں کی موثر نگرانی کا نظام وضع کرنا ہے تاکہ یہ کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے استعمال نہ ہوں۔
یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے نیا ایکشن پلان دیا ہے اور گرے لسٹ سے نکلنے کو اس پر مکمل عمل درآمد سے مشروط کر دیا ہے۔ وزارت قانون کے ایک لیٹر کے مطابق ’منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے وکلا کے حوالے سے قواعد 2021‘ تیار کر کے چیئرمین پاکستان بار کونسل کو بھیجے گئے تھے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ حکومت نے پاکستان بار کونسل کو ایک خود انضباطی ادارہ قرار دے رکھا ہے اس لیے وکلا کی ریگولیشن کے لیے پاکستان بار کونسل کے چیئرمین کو یہ قواعد ملک کی تمام بار کونسلز کو جلد از جلد جاری کرنے چاہیں۔ ان قواعد کے تحت ایک وکیل اپنے کلائینٹ کے ساتھ جعلی نام یا بغیر نام کے کاروباری تعلق قائم نہیں رکھے گا اور اپنے کلائینٹس کی کمپنیوں، اثاثوں اور آمدنی کے حوالے سے جانچ پڑتال رکھے گا اور کسی مشتبہ آمدن یا سرگرمی کی صورت میں وکلا کو فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو اطلاع دینا ہوگی۔ اسی طرح سیاسی طور پر جانے پہچانے لوگوں کی کسی ممکنہ منی لانڈرنگ کی کوششوں سے ایف ایم یو کو آگاہ کرے گا اور مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ بھی خفیہ طور پر ایف ایم یو کو دینے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد افراد کے اثاثوں کے انجماد وغیرہ کے حوالے سے بھی وکلا یقینی بنائیں گے کہ ان کی طرف سے کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔ جو وکلا ان قواعد کی پابندی نہیں کریں گے انہیں متعلقہ بار کونسلز کی جانب سے سزائیں اور جرمانے کیے جائیں گے۔
اسی طرح ’تمام پراپرٹی ڈیلرز کو بھی خرید و فرخت کے حوالے سے کسی ممکنہ منی لانڈرنگ کی صورت میں ایف بی آر کو آگاہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔‘ جیولرز کو پابند کیا گیا ہے کہ 20 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری پر مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ بنا کر ایف بی آر کو آگاہ کریں تاکہ کسی قسم کی منی لانڈرنگ کا سدباب کیا جا سکے۔
اب سوال یہ یے کہ پاکستان کی جانب سے کب تک ایف اے ٹی ایف کی ان شرائط پر عمل درآمد ہو جائے گا؟ اس حوالے سے متعلقہ ذرائعنے بتایا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے گذشتہ سال قانون میں ترمیم کر کے ان تمام شعبوں کو ریگولیٹ کرنے کا نظام بنا لیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے قانون سازی اور تکنیکی سطح پر کافی کام مکمل کر لیا ہے تاہم انسپیکشن اور عمل درآمد کے حوالے سے کام آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ لیکن ذرائع کے مطابق ایکشن پلان کے تمام چھ نکات پر عمل کے لیے پاکستان کو تقریبا ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔ دوسری جانب ایف اے ٹی ایف نے بھی اب ایک برس تک پاکستان کو اپنی لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی مہتاب حیدر کے مطابق ’ایف بی آر پہلے ہی انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن اور ان لینڈ ریونیو سروس کے تحت لسٹیں تشکیل دے چکا ہے۔ اب تک 50 ہزار کے قریب رئیل سٹیٹ ایجنٹوں، جیولرز، اکائونٹنٹس اور وکلا کو نوٹسز بھیجے جا چکے ہیں اور ان کی متعلقہ باڈیز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایف بی آر کی مشاورت سے ایسا طریقہ کار بنائیں جس سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری ہوسکیں۔‘
مارچ 2021 میں رئیل سٹیٹ ایجنٹوں کو بھیجے گئے تحریری نوٹسز میں کہا گیا تھا کہ آپ کو جو سوال نامہ بھجوایا گیا تھا اسے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بروقت جمع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن آپ یاد دہانی کے باوجود اسے جمع کرنے میں ناکام رہے۔ لیکن اب چاروں شعبوں کے افراد کو اپنے کلائنٹس کی مشکوک ٹرانزیکشنز کو رپورٹ کرنا ہے اور ان کا ڈیٹا اپنے پاس رکھنا ہے۔
