پنجاب میں ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار کیوں؟

پنجاب میں غیر ملکی قرضوں کی مدد سے بنائے جانے والے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہونے پر وزارت اقتصادی امور (ایم ای اے) کی جانب تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے پر زور دیا گیا۔

وفاقی وزیر برائےاقتصادی امور عمر ایوب خان نے نیشنل کوآڈینیشن کمیٹی آن فورن فنڈڈ پروجیکٹ (این سی سی ایف ایف پی) کے اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کے دفتر، وزارت منصوبہ بندی، وزارت خزانہ، اور پنجاب کےچئیرمین برائے منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ایم ای اے کے بیان میں کہا گیا کہ ’ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے دوران کمیٹی نے سست روی کا شکار 6 منصوبوں پر زور دیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ان منصوبوں میں پنجاب زراعت و دیہی تبدیلی کا منصوبہ شامل ہے جس کی لاگت 30 کروڑ ہے،جبکہ 5کروڑ لاگت کا پنجاب کا سیاحت کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کی فنڈر عالمی بینک کی جانب سے کی جارہی ہے۔

آبپاشی منصوبہ جس کی لاگت 20 کروڑ ہے اور 12 کروڑ لاگت کا پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹی ایمپرومنٹ انوسٹمنٹ منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو بڑھانے کا منصوبہ اور موسم کی نگرانی کے لیے ملتان میں رڈار لگانے کا منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہے جس کی فنڈنگ جاپان نے کی ہے۔

دریں اثنا صوبے میں 26 منصوبے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے فنڈز سےتعمیر کیے جارہے ہیں، پنجاب حکومت کی جانب سےعالمی بینک اور بین الاقوامی فنڈز برائے زرعی ترقی (آئی فیڈ)، چین، جاپان، فرانس اور برطانیہ کے 6 ارب ڈالرز کے فنڈز کی مدد سے مختلف شعبوں میں ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔

مذکورہ شعبوں میں زراعت، آبپاشی، توانائی، سڑکیں اور ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ، تعلیم، صحت، اور سماجی حفاظت کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں پر صوبائی حکومت کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے محکموں کو بین الاقوامی فنڈز سے تعمیر ہونے والے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی۔

اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جلال پور جیسے آبپاشی کے منصوبے غذائی حفاظت میں تعاون کریں گے، پیداوار میں اضافے سے معاشی ترقی کے مواقع فراہم ہوں گے ساتھ ہی دیہی علاقوں سے غربت ختم کرنے اور انہیں معیاری زندگی فراہم کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔

وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے ہدایت دی کہ یہ منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔

Back to top button