پنکی پیرنی نے ڈی آئی جی پولیس کو رشوت کی پیشکش کیوں کی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے انکشاف کیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں مجرم قرار پانے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کو پولیس گرفتار کر چکی تو تلاشی کے دوران ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی نے پولیس ٹیم کو بیڈ روم کی الماری میں پڑے گیارہ لاکھ روپے کی رقم رکھ لینے کی پیش کش کی جسے موقع پر موجود ڈی آئی جی عمران کشور نے ہنسی مذاق میں مسترد کر دیا، چھاپے کے دوران بشری بی بی کی تحریر کردہ جو ڈائری برآمد ہوئی یہ وہی سبز رنگ کی ڈائری ہے جو اکثر عمران خان کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد عمران یہی ڈائری لے کر وزیراعظم ہاؤس سے نکلے تھے. جاوید چودھری اپنے ایک کالم میں عمران خان کی گرفتاری اور اس موقعہ پر بشریٰ بی بی سے برآمد ہونے والی ڈائری کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پنجاب پولیس 5 اگست 2023کو عمران خان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک پہنچی‘ یہ ان کے بلٹ پروف بیڈروم تک آئی‘ عمران خان کو گرفتار کیا اور ایس ایس پی کی نگرانی میں انھیں ایئرپورٹ بھجوا دیا گیا۔
اس کے بعد سابق وزیراعظم کے بیڈروم کی تلاشی کا عمل شروع ہو گیا۔ تلاشی کی ذمے داری ڈی آئی جی عمران کشور کو سونپی گئی‘ ڈی ایس پی ریس کورس‘ دو ایس ایچ اوز اور 10 لیڈی کانسٹیبلز ان کے ساتھ تھیں‘ بشریٰ بی بی اس وقت کمرے میں موجود تھیں‘ عمران خان کے بیڈروم کے دو حصے ہیں‘ ایک حصہ بیٹھنے کے لئے ہے جس میں بڑے سائز کا صوفہ اور ایک ٹریڈ مل رکھی ہوئی ہے۔ دوسرے حصے میں بیڈ‘ سائیڈ ٹیبلز اور کنسول ہیں‘ بشریٰ بی بی نے پولیس ٹیم کو دیکھ کر کہا ’’آپ لوگ پولیس ہیں اور پولیس کو صرف پیسوں میں دل چسپی ہوتی ہے‘ میں خود بتا دیتی ہوں ہماری رقم سامنے الماری میں پڑی ہے‘ آپ بے شک وہ لے لیں‘‘ ڈی آئی جی نے ہنس کر جواب دیا ’’میڈم پیسوں کی ضرورت ہم سے زیادہ آپ کو ہوتی ہے۔ آپ ہمیں حکم کریں ہم آپ کی کتنی مالی مدد کریں؟‘‘ بشریٰ بی بی خاموش ہو گئیں‘ وہ اس وقت بااعتماد تھیں‘ پولیس کو وہ اعصابی لحاظ سے عمران خان سے زیادہ مضبوط‘ پراعتماد اور کمانڈنگ محسوس ہوئیں‘ بشریٰ بی بی کی نشان دہی پر الماری سے رقم نکالی گئی۔ یہ گیارہ لاکھ اور چند ہزار روپے تھی‘ نوٹ گن کر بی بی کے حوالے کر دیے گئے اور ان سے ریسیونگ لے لی گئی۔
جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ ڈی آئی جی کو صوفے کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر چاندی کا ایک پیالہ دکھائی دیا‘ عمران کشور اس کی طرف بڑھے تو بی بی نے یہ کہہ کر انھیں روک دیا ’’تم باوضو نہیں ہو تم اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے‘‘۔ عمران کشور نے ہنس کر کہا ’’بی بی آپ کو کیا پتا میں باوضو ہوں یا نہیں؟‘‘ اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے پیالہ اٹھا لیا‘ پیالے میں کپڑے کی ایک پوٹلی تھی۔ اسے کھولا گیا تو اس میں سے سیاہ سخت راکھ نکلی‘ یہ ہڈیوں کی راکھ تھی اور اس کے ساتھ ایک تعویز رکھا تھا‘ پیالے میں حروف مقطعات کی ایک لوح اور چھوٹی سی تسبیح بھی تھی۔ پولیس نے تصویریں کھینچ کر یہ اشیاء واپس رکھ دیں‘ پولیس کو بعدازاں بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے ایک سیٹلائیٹ فون اور سبز رنگ کی ایک ڈائری ملی‘ پولیس کو کمرے سے دو آئی فون بھی ملے‘ ایک فون عمران خان کا تھا اور دوسرا بشریٰ بی بی کا‘ تصدیق کے بعد یہ تینوں فون تحویل میں لے لیے گئے اور فرانزک لیب بھجوا دیے گئے۔ پولیس نے بی بی سے پوچھا ’’کمرے کی بلٹ پروفنگ پر دس پندرہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں ، کمرے کی کھڑکیاں تک بلٹ پروف تھیں) یہ رقم کہاں سے آئی؟‘‘ بی بی کا جواب تھا ’’میں نہیں جانتی‘ یہ خان صاحب نے کرائی تھی‘‘
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ کمرے سے چیک بکس‘ کاغذات اور گولیوں کے خول بھی ملے‘ یہ خول غالباً ڈیکوریشن پیس تھے۔ عمران کے بیڈروم سے ملنے والی ڈائری منزل مقصود تک پہنچی اور اس کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا یہ وہی سبز رنگ کی ڈائری ہے جو اکثر سابق وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد وہ یہی ڈائری لے کر وزیراعظم ہاؤس سے نکلے تھے۔ ڈائری کا رنگ سبز ہے اور یہ 2020کی ہے‘ یہ ایک برادر اسلامی ملک نے تحفے میں دی تھی‘ اس پر ملک کا لوگو بھی چھپا ہے اور اندر عمائدین سلطنت کی تصویریں بھی ہیں‘ ڈائری دسمبر سے جنوری کی طرف الٹی لکھی ہوئی تھی‘ 31 دسمبر سے 12 جولائی تک صفحات پھٹے ہوئے تھے تاہم ان کی باقیات موجود تھیں‘ ڈائری کی جِلد بہت مضبوط تھی شاید اس لیے صفحات کو مکمل طور پر اکھاڑا نہ جا سکا۔ ڈائری کے طرز تحریر کا عمران کی ہینڈ رائٹنگ سے موازنہ کیا گیا تو دونوں میں فرق تھا جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا یہ ڈائری اگر عمران خان کی ہے تو پھر اس میں تحریر کس کی ہے؟ اس سوال کا جواب چند منٹوں میں مل گیا‘ ڈائری اور بشریٰ بی بی کی ہینڈ رائٹنگ میچ کر گئی‘ ڈائری کا نئے سرے سے تجزیہ کیا گیا ‘پتا چلا بشریٰ بی بی روزانہ عمران خان کے لیے ڈائری میں ہدایات لکھتی تھیں اور وہ ڈائری کے مطابق ان پر عمل کرتے تھے۔ اب سوال یہ تھا یہ ہدایات کس نوعیت کی ہوتی تھیں‘ پتا چلا وزیراعظم کے جاگنے سے لے کر سونے تک تمام معاملات ڈائری میں لکھے جاتے تھے اور عمران ان پر من وعن عمل کرتے تھے‘ یہ ایک حیران کن انکشاف تھا‘ ڈائری کے آدھے صفحات پھٹے ہوئے تھے یوں محسوس ہوتا تھا یہ صفحے جلدی میں پھاڑے گئے ہیں بہرحال ڈائری کا تیسری مرتبہ تجزیہ ہوا‘ پھٹے ہوئے اوراق جوڑنے کا کام بھی شروع ہو گیا اور یوں انکشافات کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عمران خان اپنی بیگم بشریٰ بی بی کو اپنا مرشد سمجھتے ہیں اور یہ اس کا سرعام اعتراف بھی کرتے ہیں‘ عمران کے مطابق یہ مذہبی اور روحانی شخصیت ہیں جب کہ جہانگیر ترین انھیں جادوگرنی کہا کرتے تھے‘ کپتان کا بی بی پر مکمل اعتقاد ہے۔
جاوید چودھری کے مطابق چند دن قبل علیم خان نے بتایا کہ بشریٰ بی بی نے وزارت عظمیٰ کے دوران عمران خان کو حکم دے رکھا تھا کہ آپ نے مغرب سے پہلے ہر صورت گھر واپس آنا ہے چناں چہ وزیراعظم شام پانچ بجے بنی گالا میں ہوتے تھے‘ بی بی نے انھیں لندن جانے سے بھی روک دیا تھا لہٰذا یہ ساڑھے تین سال لندن نہیں گئے‘ اسٹیبلشمنٹ نے بڑی مشکل سے ان کے ایک دورے کا اہتمام کیا تھا۔ امریکی صدر بھی وہاں آ رہے تھے اور ان کی وہاں ان سے ملاقات طے تھی لیکن عمران خان نے دورے سے ایک دن پہلے جانے سے انکار کر دیا‘ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے بھی سمجھانے کی کوشش کی لیکن یہ نہیں مانے اور اس انکار کی وجہ سے برطانیہ اور امریکا دونوں سے سفارتی تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ بشریٰ بی بی کے حکم پر عمران خان نے بابا فرید ؒ کی چوکھٹ پر ماتھا بھی ٹیکا تھا اور یہ مدینہ میں بھی ننگے پاؤں اترے تھے‘ جنرل باجوہ نے ایک دن ان سے کہا‘ وزیراعظم آپ ضعیف العتقادی کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے‘ وزیراعظم کا جواب تھا‘ جنرل صاحب میری بیوی ریڈ لائن ہے‘ جنرل باجوہ کا جواب تھا‘ سر ہر عزت دار شخص کی بیوی اس کی ریڈ لائن ہوتی ہے لیکن یہ اس کی مرشد اور عقیدہ نہیں ہوتی‘ آپ ریڈ لائن میں دور تک چلے گئے ہیں۔عمران کا جواب تھا ’’بشریٰ بی بی 36 گھنٹے کا روزہ رکھتی ہیں اور انھیں کیا کیا دکھائی دیتا ہے آپ تصور بھی نہیں کر سکتے‘‘۔ اس کے بعد گفتگو ختم ہو گئی، جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ ان کی چھ ماہ قبل بشریٰ بی بی اور عمران خان کے ایک قریبی ساتھی سے گفتگو ہوئی‘ میں نے کپتان کی اندھی عقیدت کے بارے میں پوچھا تو اس کا جواب تھا۔
بشریٰ بی بی نے 2016 میں عمران خان سے کہا‘ آپ 2018میں وزیراعظم ہوں گے اور یہ وزیراعظم بن گئے‘ انھوں نے کہا‘ جب تک فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی رہیں گے اس وقت تک حکومت محفوظ رہے گی۔ آپ دیکھ لیں جس دن جنرل فیض حمید کا تبادلہ ہوا حکومت اس دن گرنا شروع ہوگئی‘ بشریٰ بی بی نے کہا‘ عثمان بزدار وزیراعلیٰ ہیں تو پنجاب اور وفاق آپ کے ہاتھ میں ہیں‘ آپ دیکھ لیں وزیراعظم نے جس دن عثمان بزدار سے استعفیٰ لیا اس دن پنجاب اور وفاق دونوں خان کے ہاتھ سے نکل گئے‘ بشریٰ بی بی نے کہا‘ آپ جیسے تیسے مارچ گزار جائیں اپریل میں آپ اپنی پاپولیرٹی کی پیک پر ہوں گے۔ آپ اپریل کے بعد عمران خان کی شہرت کا لیول دیکھ لیں‘ بشریٰ بی بی نے بتایا‘ حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی آپ کو گرفتار نہیں کر سکے گی‘ ریاست اور حکومت 15 ماہ کی کوشش اور 182 مقدموں کے باوجود خان کو گرفتار نہیں کر سکی‘ 9مئی کو گرفتاری ہوئی تو ایک رات بعد قید خانہ ان کا مہمان خانہ بن گیا‘ بشریٰ بی بی نے کہا‘ آپ پر جب بھی ہاتھ ڈالا جائے گا ملک میں خانہ جنگی ہو جائے گی‘ آپ 9 اور 10 مئی کے واقعات دیکھ لیں‘ بی بی نے کہا تھا‘ عدلیہ آپ کی سب سے بڑی محافظ ہوگی . آپ آج تک عدلیہ کا رویہ دیکھ لیں اور بی بی نے کہا تھا آپ پر قاتلانہ حملہ ہوگا لیکن دشمن ناکام ہوگا اور وہ ہوگیا لہٰذا آپ خود فیصلہ کریں جب بی بی کی تمام باتیں درست ہو رہی ہیں توعمران خان ان کی روحانیت پر یقین کیوں نہ کریں؟ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر مسکرانے کے سوا کچھ نہ کر سکا‘ کیوں؟ کیوں کہ میں جانتا تھا یہ فیض صرف روحانی نہیں تھا اس میں حمید بھی تھا‘ عمران خان کو باقاعدہ چاروں طرف سے گھیرا گیا تھا اور یہ بری طرح بے بس ہوگئے تھے۔
