پی آئی اے کا طیارہ ضبط ہونے کے بعد دیگر طیارے بھی خطرے میں

ملائیشیا میں پی آئی اے کا طیارہ تحویل میں لئے جانے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس طیارے سمیت آٹھ اور طیاروں کی لیز پانچ ماہ بعد ختم ہو رہی ہے لیکن پی آئی اے انتظامیہ کی نااہلی کے باعث نہ تو ضبط شدہ بوئنگ 777 ابھی تک واپس لیا جا سکا ہے اور نہ ہی نئے طیاروں کا بندوبست ہو پایا ہے۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ملائیشیا میں تحویل میں لیے گئے طیارے سمیت آٹھ دیگر طیاروں کی لیز جون 2021 میں ختم ہو رہی ہے۔ پی آئی اے نے ان آٹھ طیاروں کی لیز کے معاہدوں میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے طیارے حاصل کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔ لیکن تاحال نہ تو نئے طیاروں کے حصول کے لیے کچھ کیا گیا ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود 8 طیاروں کی ملکیتی کمپنی کے ساتھ معاہدے کی تجدید کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ طے پا سکا ہے۔ ان حالات میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چند ماہ بعد طیاروں کی کمی کے باعث پی آئی اے کے حالات مزید دگرگوں ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں 12 بوئنگ 777 طیارے شامل ہیں جن میں سے تین لیز پر حاصل کیے گئے ہیں۔ لیز پر حاصل کیے گئے بوئنگ 777 میں سے 2 طیاروں پر پی آئی اے اور سنگاپور کی کمپنی پیری گرین کے درمیان ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی لیز پر تنازع ہے جس پر کمپنی نے لندن میں پی آئی اے پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ پیری گرین نے پی ائی اے کے اثاثے ضبط کرنے کے لیے ملائیشیا کی عدالت سے بھی رجوع کیا تھا جسکے حکم کے بعد ملائیشین حکام نے وہ طیارہ اپنے پاس روک دیا تھا۔
یاد ریے کہ پی آئی اے نے 2015 میں آٹھ لاکھ 50 ہزار ڈالر ماہانہ کی بنیاد پر دو طیارے پیری گرین سے لیز پر حاصل کیے تھے۔ پی آئی اے حکام کے مطابق مہنگی لیز ہونے کے باعث کمپنی کے ساتھ مذاکرات جاری تھے تاہم گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے کی لیز کی رقم بھی واجب الادا ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانیہ کی عدالت میں کمپنی نے پی آئی اے پر معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا دعویٰ کیا ہے، اسی دوران کمپنی نے ملائیشیا کی عدالت سے اثاثے تحویل میں لینے کا مقدمہ دائر کر دیا اور عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پی آئی اے کے طیارے کو روک دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے نے اس کیس کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں اور عدالت کی منظوری کے بعد ہی طیارہ پی آئی اے کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم پی آئی اے کو واجب الادا رقم کمپنی کو ادا کرنا ہوگی۔ پی آئی اے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملائیشیا میں روکے جانے والے طیارے کو لیز پر لیتے وقت اس کا سیفٹی ایسیسمنٹ ٹیسٹ کلیئر نہیں تھا، اس لیے اسے یورپ اور برطانیہ کی پروازوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی کے تحت سافا کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے جس کے بغیر لیز پر دیے جانے والے طیارے یورپ اور برطانیہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اعداد و شمار کے مطابق پی آئی اے کے پاس اس وقت کل 29 طیارے ہیں جن میں 12 بوئنگ 777، 11 ایئر بس اے 320، جبکہ 6 اے ٹی آر شامل ہیں۔ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل طیاروں میں سے 3 بوئنگ 777، 3 اے ٹی آر جبکہ تمام ایئر بس طیارے لیز پر حاصل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 6 ایئر بس اور 2 بوئنگ 777 کی لیز رواں سال جون 2021 میں ختم ہو رہی ہے۔