پی ٹی ایم کے MNAعلی وزیرکی درخواست ضمانت منظور

پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے رہنما اورجنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت منظور کرگئی۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے منگل کو علی وزیر کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ہے۔
یاد رہے کہ علی وزیر کے خلاف کراچی کے ضلع جنوبی کے بوٹ بیسن تھانے میں مقدمہ درج ہے اور ان پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزامات ہیں۔
پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کی اب تک چار مقدمات میں ضمانت منظور ہوچکی ہے،اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ مئی میں سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت پانچ لاکھ روپے کے عوض منظور کی تھی۔
واضح رہے کہ کراچی پولیس نے ایس ایچ او کے ذریعے ریاست کی مدعیت میں ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120 بی، 153 اے، 505 (2)، 188 اور 34 شامل کی گئی تھیں۔جس کے بعد علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
خیبر پختونخوا کی پولیس نے کہا تھا کہ علی وزیر کے خلاف ملک مخالف تقریر پر کراچی میں مقدمہ درج ہوا تھا اور سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد 19 دسمبر 2020 کو انہیں بذریعہ طیارہ کراچی لایا گیا تھا اور پھر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کراچی نے 20 دسمبر 2020 کو علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر تین رہنماؤں کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر 31 دسمبر 2021 سے کراچی کی مرکزی جیل میں قید ہیں، اوران کو عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایات پر ریلی نکالنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
