چیف جسٹس کی توسیع کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا اعلان

بالآخر وفاقی حکومت نے عدالتی ریفارمز کے آئینی پیکج کو پاس کروانے کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ  کر دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم منظور کروانے کے لیے نہ صرف جمیعت علماء اسلام کے اراکین حکومت کا ساتھ دیں گے بلکہ پی ٹی آئی کے کچھ آزاد اراکین بھی حکومت کا ساتھ دینے پر راضی ہوچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پاس کروانے کیلئے قومی اسمبلی کے41 آزاد اراکین میں سے 6 اراکین کھل کر حکومت کی حمایت میں ووٹ دینگے۔ مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق اب چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو سنیارٹی کی بنیاد پر تعینات نہیں کیا جائے گا بلکہ تین سینیئر ججوں کے پینل میں سے ایک کو نامزد کیا جائے گا اور یہ اختیار صدر پاکستان کے پاس ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہی فارمولا آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی اٹھارویں ترمیم میں چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار عدلیہ سے لے کر پارلیمنٹ کو دے دیا گیا تھا جسے 19ویں ترمیم کے ذریعے واپس عدلیہ کو دے دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 19 ویں ترمیم پارلیمنٹ کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر کروائی گئی تھی اور اسے ختم کرنا ضروری ہے۔

عمران نے افغان طالبان کو ہیرو بنا کر پاکستان کے ساتھ ظلم کیسے کیا ؟

یاد رہے کہ 19 ویں ترمیم سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہری کے دور میں ہوئی تھی جب انہوں نے مشرف کے ہاتھوں پر طرف ہونے والے ججز کو بحال کرنے والے منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ناہل کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں آئینی ترامیم شامل نہیں۔ لہازا پہلے قومی اسمبلی میں قواعد کار اور ضابطے کی پابندیوں کو ایوان کی اجازت سے معطل کرانے کے بعد قانون و انصاف کے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ آئین میں چھبیسویں ترمیم پیش کرینگے اور اس پر فوری رائے شماری ہوگی۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کو شدید دھچکا لگنے کا امکان ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے آزاد قرار دئیے گئے 41 اراکین میں سے  کئی لوگ کھل کر حکومتی اتحاد کی پیش کردہ آئینی ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینگے۔ حکومت کا دعوی یے کہ اس موقع پر آزاد ارکان میں سے بیس کے لگ بھگ لوگ ووٹ دینے کے لئے آمادہ ہونگے تاہم انہیں منظر عام پر نہیں لایا جائے گا اور آئینی ترمیم کے لئے درکار 224 ووٹ پورے ہونے کے بعد کسی رکن کو اضافی ووٹ کے لئے نہیں کہا جائے گا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی اتحاد کے آئینی ماہرین نے آئین کی دفعہ 63۔اے سمیت متعلقہ دفعات کا جائزہ مکمل کرلیا ہے جس سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آزاد ارکان کے آئینی ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینے سے ان کی رکنیت پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ قومی اسمبلی سے آئینی ترامیم منظوری کے فوری بعد سینیٹ میں پیش کردی جائیں گی جس کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہی جاری ہوگا اور انھیں وہاں سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کروانے لیا جائے گا۔

ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کی آئینی ترمیم کیلئے سامنے آنے والی نمبر گیم کے مطابق دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل 336 ممبران میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری ہے، جے یو آئی (ف) سمیت حکومت کے نمبر 222تک پہنچ گیا، پیپلز پارٹی کو اگر فوری ایک اور مخصوص سیٹ نہ ملی تو ترمیم کی منظوری کیلئے اسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہونگے، تاہم پی ٹی آئی کےحمایت یافتہ 4 سے 5 اراکین کھل کر آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کیلئے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں اس وقت 312 ممبران موجود ہیں جبکہ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں سمیت 24 نشستیں یا تو متنازع ہیں یا ابھی خالی ہیں جن پر نوٹیفیکیشن ہونا باقی ہے۔حکومتی اراکین کی تعداد 213 بنتی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 111 ہے، پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 68، ایم کیو ایم کے 22 اراکین، ق لیگ کے پانچ، استحکام پاکستان پارٹی کے چار، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔ اسی طرح اپوزیشن اراکین کی تعداد 101 ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، آزاد اراکین چھ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آٹھ اراکین، بی این پی، مجلس وحدت المسلمین اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہیں۔ جبکہ  رحیم یار خان میں ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی جیت اور ایک اور اضافی مخصوص نشست ملنے کے بعد جے یو آئی ف کو ملا کر حکومتی نمبر 232 تک پہنچ جائے گا اوراسے صرف ایک آزاد رکن توڑنے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد بہت محفوظ کھیل رہا ہے امکان ہے کہ اتحادی حکومت آسانی سے آئینی ترمیم منظور کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

Back to top button