کاکڑ کے دور اقتدار میں عمرانڈوز کی لگامیں کسنے کا فیصلہ

انوار الحق کاکڑ کی حکومت نے شرپسند عمرانی فتنے کی سرکوبی کا مکمل انتظام کر لیا ہے۔ کابینہ کے پہلے اجلاس میں ہی نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے واضح الفاط میں بتا دیا تھا کہ 9مئی کو شرپسندی کرنے والوں کو نہ کوئی رعایت ملی گی اور نہ ہی قانونی عمل میں کوئی معافی دی جائے گی بلکہ وہ ہر صورت اپنا کیا بھگتیں گے۔روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق نگران حکومت کا دور تحریک انصاف پر زیادہ بھاری ثابت ہوگا۔ سبکدوش ہونے والی اتحادی حکومت پھر بھی اس سلسلے میں بعض سیاسی مصلحتوں کا شکار رہی تاہم نگران حکومت بے لاگ قانونی عمل کو آگے بڑھائے گی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بالخصوص سانحہ9مئی کو لے کر  سخت کارروائی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے جارہا ہے۔ اگر چہ یہ پہلے ہی فصلہ کیا جا چکا تھا کہ 9مئی کے  اور واقعات میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کوکسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اورسانحہ 9 مئی کے بعد اسی نوعیت کا ایکشن بھی دیکھنے میں آیا تا ہم پھچلے کچھ  عرصے سے اتحادی حکومت نے ہاتھ ہلکا رکھا ہوا تھا۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب اس حوالے سے تیزی دیکھنے میں آئے گی۔

واضح رہے کہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر اپنے ٹویٹ میں دوٹوک کہہ چکے ہیں کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ 9 مئی کے حملوں میں موث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا  ئے۔  اس طرح نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے بھی نگران وزیراعظم کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث کرداروں کو سزا دلوانا ترجیح ہوگی۔ملٹری پر حملہ ہوگا تو مقدمہ بھی فوجی عدالتوں میں چلے گا ۔ نگران وزیر داخلہ کے اس بیان سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اس سے قطع نظر سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف پٹیشن پر کیا فیصلہ آتا ہے یہ طے کیا جا چکا ہے کہ 9 مئی کو فوجی املاک اور شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنانے والوں کیخلاف  ملٹری کورٹس میں مقدمات چلائے جائیں گے اور دوسری بات یہ کہ پی ٹی آئی کے جن رہنماؤں کے بارے میں ڈٹ جانے کا تاثر ہے دراصل ان کی معافی قبول نہیں کی جارہی ہے اور انہیں کسی رعایت کے بغیر قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا حال ہی میں عمران خان کے بھانجے حسان نیاری کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ان کی فوج کو حوالگی اس تناظر میں کی گئی ہے۔ایسی اطلاعات ہیں کہ حسان نیازی  کو اپنے کئے پر پیشمانی ہے تاہم احا پشیمانی کے باوجود جرم کی سزا پھر بھی انہیں بھگتنی ہوگی ۔ذرائع کا دعوی ہے کہ مراد سعید کی جانب سے بھی معافی کے پیغامات بھیجے جار ہے ہیں لیکن 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لانے سے متعلق فیصلے کے تحت ان کی معافی قبول نہیں کی جارہی کیونکہ مراد سعید کو سانحہ 9 مئی کے مرکزی کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ مقتول صحافی ارشد  شریف کیس میں بھی مراد سعید کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں۔ ارشد شریف کو  دبئی فرار کرانے سے پہلے مراد سعید نے ہی انہیں پشاور بلایا تھا اور وہاں سے بیرون ملک روانہ کیا۔ ارشد شریف کی والدہ نے اپنے بیٹے کے قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کی  تحقیقات  سے متعلق جو در خواست  سپر یم کورٹ کو  دے رکھی ہے ۔ اس میں مراد سعید سے تحقیقات کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے بقول سانحہ 9مئی کے بعد ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے اگر چہ برق رفتاری سے کارروائی شروع کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں متعدد گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ایک سو دو شر پسندوں کے مقدمات ملٹری کورٹس کے حوالے کیے گئے۔ لیکن بعد میں9مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائیوں میں  سستی آگئی۔ اتحادی حکومت اس معاملے پر مصلحت کا  شکار دکھائی دے رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق چونکہ اتحادی حکومت میں شامل بعض پارٹیاں اپنے سیاسی مقاصد کو بھی سامنے  رکھ رہی تھیں اور کچھ کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کا دورہ پڑا ہواتھا، اس کے نتیجے میں سانحہ 9مئی کے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائیوں کی رفتارسست  ہوگئی تھی۔ پنجاب کی نگراں حکومت تو پھر بھی اس سلسلے میں سخت  اقدامات اٹھا رہی تھی تاہم سندھ اور خیبرپختونخواہ میں اس حوالے سے ہاتھ ہلکا رکھا جا رہا تھا۔ حالانکہ پنجاب کے بعد فوجی املاک اور شہدا کی یادگاروں کو سب سے ز یا دہ نقصان خیبر پختونخوامیں پہنچا یا گیا۔ سانحہ 9مئی میں ملوث کرداروں کے خلاف سندھ حکومت نے سب سے ہلکا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث پی ٹی آئی کے مفرور رہنماؤں کے خلاف اشتہار اوران کی تصاویر تو جاری کر دی تھیں، لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا  جا سکا۔  پولیس نے ان کی گرفتاری کیلئے چند چھاپہ مار کارروائیاں تو ضرور کیں لیکن اس جدید ڈیجیٹل دور میں مفرورپی ٹی آئی رہنماؤں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بچ جانے والے سانحہ 9مئی کے ملزمان کی گرفتاری اب زیادہ دور نہیں ۔اس طرح خیبرپختونخوا میں بھی اس سلسلے میں تیزی دیکھنے میں آئے گی ۔ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں سانحہ 9مئی میں ملوث پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور عہدیداروں کی اوپر تلے گرفتاریاں خارج ازامکان نہیں ۔حسان نیازی کی طرح9مئی میں ملوث پی ٹی آئی کے دیگر مفرور رہنما بھی جلد قانون کی گرفتت میں آسکتے ہیں خاص طورپرحماد اظہر فرخ حبیب اور عثمان ڈار جیسے رہنما جو سوشل میڈیاپر پوری طرح متحرک ہیں ۔ قانون کی گرفت سے تا حال بچے ہوئے ہیں وہ بھی جلد گرفتار ہونے والے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں میں بھی سانحہ 9مئی کے کرداروں کے خلاف مقدمات جلد تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے نظر آئیں گے

Back to top button