کرونا وائرس سےغیریقینی کی صورتحال، ترسیلات میں کمی کا خدشہ

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے صورتحال مسلسل بدل رہی ہے اور بے حد غیریقینی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے دوسری سہ ماہی معاشی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ استحکام کی کوششوں اور اقدامات کے نتیجے میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران نمایاں بہتری آئی، برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ میں تیزی کے آثار دکھائی دیے اور تعمیرات کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، جاری کھاتے کا خسارہ 6 سال کی پست ترین سطح پر پہنچ گیا، زر مبادلہ کے ذخائر بڑھے اور مہنگائی کم ہوئی، درآمدی بل میں کمی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مالیاتی خسارہ پچھلے سال کی اسی مدت کی نسبت قابو میں رہا۔ معیشت میں سست روی اور درآمدات کے سکڑاؤ کے باوجود محاصل کی نمایاں نمو رہیں۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کورونا کی وباء سے قبل ملکی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہو رہی تھی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت صحیح راستے پر چلتی رہی،کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کا مستحکم منظر نامہ برقرار رکھا۔ کورونا وائرس کے عالمی اور ملکی پھیلاؤ کے باعث ملک کو غیر معمولی چیلنجوں کا سامنا ہے، صورت حال مسلسل بدل رہی ہے اور بے حد غیر یقینی ہے، معاشی منظر نامہ وبا کے پھیلاؤسے پہلے کے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کمزور دکھائی دیتاہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے معیشت پر کورونا وائرس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، ان اقدامات میں بھاری مالیاتی اخراجات کے پروگرام، ٹیکسوں میں نرمی اور تعمیراتی صنعت کو دی گئی ترغیبات شامل ہیں، مارچ میں زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں 225 بیسس پوائنٹس کٹوتی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی ایکسچینج ریٹ کی بنا پر برآمدی حجم میں ہونے والا فائدہ اجناس کی پست عالمی قیمتوں کے سبب جزوی طور پر زائل ہوگیا، معیشت کو پائیدار نمو کی راہ پر مضبوطی سے گامزن کرنے کے لیے گہری ساختی اصلاحات درکار ہوں گی، ٹیکس بیس میں اضافے اور معیشت میں دستاویزیت بڑھانے کے لیے کوششوں کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے، زراعت کا شعبہ پانی کی محدود دستیابی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے نمٹنے کی کم صلاحیت رکھتا ہے، گندم کی فصل اور گلہ بانی کے امکانات حوصلہ افزا ہیں، کپاس کی فصل ناسازگار موسم، وبائی حملوں اور پانی کی کم دستیابی سے متاثر ہوئی، کپاس کی پیداوار میں کمی سے رواں مالی سال کی شعبہ زراعت کی کارکردگی کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
اسٹیٹ بینک نے رپورٹ میں عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہرا خسارہ قابو میں ہے، ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی پیش رفت حوصلہ افزاء ہے، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے تاحال پاکستان کا آؤٹ لُک مستحکم ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے بھی پاکستان کو اعتماد ملا ہے، رواں مالی سال مہنگائی 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہے گی، رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 3 فیصد رہے گی۔ رواں مالی سال مہنگائی 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہے گی۔ معاشی ترقی کی شرح نمو پر نظر ثانی کریں گے، شرح نمو کے ہدف میں مزید کمی کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری اب کرونا کے مقامی اور عالمی پھیلاؤ کی مرہون منت ہوگی، خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہوگا، امپورٹ بل کم ہونے سے مہنگائی میں کمی میں مدد ملے گی، یورپ اور شمالی امریکا میں لاک ڈاؤن سے پاکستان کی برآمدات متاثر ہوں گی، ریٹیل فروخت نہ ہونے اور بندرگاہوں کی بندش سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے آرڈرز منسوخ ہونے کا خدشہ ہے، ایکسپورٹرز کو کچھ عرصہ تک سرمائے کی قلت کا سامنا ہوگا، آنے والے دنوں میں ترسیلات میں بھی کمی واقع ہوگی۔
اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ کورونا کی وباء سے پاکستان کی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں، پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ کو سخت دھچکہ لگا ہے، قرضوں کی مارکیٹ کو فروخت کے دباؤ کا سامنا ہے، مارچ کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ٹی بلز سے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کا سرمایہ نکال لیا جب کہ مقامی سرمایہ کار بھی محتاط ہیں، سرمایہ کے انخلاء سے ایکسچینج مارکیٹ پر دباؤ پڑا اور روپے کی قدر میں کمی کا سامنا ہے۔ طلب میں کمی اور محدود مارجن سے مقابلہ کرنے والے کارپوریٹ سیکٹر کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button