کرونا وائرس نے دنیا میں آخری رسومات کو بھی تبدیل کردیا

انسان کے مرنے کے بعد ہر مذہب میں میت کی آخری رسومات ادا کرنے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے، مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف انداز میں اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔ مگر کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات کے بعد صدیوں سے ادا کی جانے والی آخری رسومات کی ادائیگی میں بھی اب ڈرامائی تبدیلیاں آگئی ہیں۔
پاکستان میں میت کے جنازے اور تدفین کے عمل کے دوران سینکڑوں اور ہزاروں افراد کی شرکت یقینی ہوتی تھی لیکن اب کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کی نماز جنازہ اور تدفین کے عمل کے حوالے سے جاری گائیڈ لائنز کے تحت میت کو صرف چند ہی لوگوں کو ہینڈل کرنے کی اجازت ہے۔ اب تو میت کے آخری دیدار پر بھی پابندی لگ چکی ہے۔ میت کو غسل دینے کے لیے مناسب حفاظتی ملبوسات کا استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تدفین کے دوران بھی چند لوگوں کو شرکت کی اجازت ہے تا کہ سماجی دوری کو یقینی بنایا جائے۔ لہذا اب پورے ملک میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین میں صرف چند افراد کی شرکت ہی دیکھی جا رہی ہے۔ چاہے مرنے والا شخص کتنا ہی بڑا وی آئی پی کیوں نہ ہو۔
ترکی میں بھی تدفین کی پر ہجوم رسومات کو چند افراد کے ساتھ تدفین میں بدل دیا گیا ہے اور صرف ان افراد کو میت کے غسل کی اجازت دی جارہی ہے جو تدفین کے عمل میں بھی شامل ہوں، قریب ترین رشتے داروں کو ہی اس عمل میں شرکت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ترکی کی حکومت کی طرف سے جاری ہدایات کے مطابق امام کی جانب محفوظ فاصلے سے نماز جنازہ ادا کرنے اور لازمی طور پرماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ترکی میں بھی پاکستان کی طرح میت کے تابوت کے قریب جانے اور آخری دیدار کی بھی اجازت نہیں ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے ہزاروں ہلاکتوں کے بعد آئرلینڈ میں بھی نئے قوانین کا اطلاق ہوا ہے، جس کے تحت گرجا گھروں میں تقریب کی اجازت نہیں ، یہاں تک کہ لاش کو بھی فیس ماسک پہنا دیا جاتا ہے، جبکہ تدفین کے دوران بھی کئی، کئی فٹ کا فاصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔
اٹلی کے مختلف حصوں میں اب لاشوں کو دفن کرنے کی بجائے انہیں جلایا جارہا ہے کیونکہ تعداد بہت زیادہ بڑھنے سے تدفین کے انتظامات ممکن نہیں رہے۔اسی طرح آخری رسومات کے دوران لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں بلکہ اس کے لیے ورچوئل انتظامات کیے جارہے ہیں۔
برازیل اور فرانس میں بھی تدفین کے دوران 10 سے زیادہ لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت نہیں۔ برازیل میں غمزدہ افراد کو تابوت سے 6 فٹ دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جو وہاں کی روایتی رسومات سے بالکل مختلف ہے جو عموماً پورا دن جاری رہتی ہیں اور ان میں سینکڑوں افراد شریک ہوتے ہیں۔
چین میں بھی کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات، تدفین اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ان ہدایات کے مطابق وائرس سے ہلاک مریضوں کی تدفین کی بجائے ان کی لاشوں کو قریبی مرکز میں جلایا جاتا ہے، جبکہ رشتے داروں سمیت کسی کو بھی اس عمل کے دوران جلانے والے مرکز میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی، تاہم جلائے جانے کے بعد باقیات ان کے حوالے کرکے دستاویزات مکمل کی جاتی ہیں۔
فلپائن میں حکومت کی جانب سے ایک حکم جاری کرتے ہوئے اس مرض سے ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں 12 گھنٹے کے اندر جلانے کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے، تاہم اگر مریض مسلمان ہے تو میت کو سیل بیگ میں رکھ کر قریبی مسلم قبرستان میں مسلم روایات کے مطابق 12 گھنٹے میں تدفین کی ہدایت کی گئی ہے۔۔حالانکہ فلپائن میں کیتھولک عیسائی افراد کی تدفین اور آخری رسومات کا عمل اکثر 3 سے 7 دن تک جاری رہتا تھا۔
ایران اورعراق میں بھی تدفین کا عمل بالکل تبدیل ہوگیا ہے۔تدفین کے عمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کیا جاتا ہے ، یعنی حفاظتی ملبوسات پہن کر اور میت سے دور دور رہ کر تدفین ہوتی ہے۔
بھارت میں اس حوالے سے نئی ہدایات کے تحت آخری رسومات کے دوران 20 سے زیادہ افراد کی اجازت نہیں۔ اس مرض سے مرنے والوں کی لاشیں جلانے کے بعد راکھ کو دریا میں بہانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
اسرائیل میں کرونا سے مرنے والے افراد کی لاش کو ایک شیشے کے بوتھ میں رکھا جاتا ہے جس سے رشتے دار آخری دیدار کر پاتے ہیں اور تدفین کے عمل میں 20 سے زیادہ لوگوں کو اجازت نہیں، جبکہ یہودی مذہب کی دیگر روایات پر عمل کرنے کی بھی اجازت نہیں، جس کے تحت بیلچے کو چھوا جاتا ہے اور قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔
برطانیہ میں بھی تدفین کی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور خاندانوں کو آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا گیا ہے، جبکہ تدفین کے موقع پر 10 سے زیادہ لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ چرج آف انگلینڈ نے بھی گرجا گھروں میں فرنیل سروسز پر پابندی عائد کی ہے تاہم مسلمانوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ غسل اور نماز جنازہ کی اجازت دی گئی ہے۔
امریکا میں بھی حالات مختلف نہیں ۔وہاں بھی آخری رسومات اور تدفین کے موقع پر زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔ امریکا بھر میں صرف خاندان کے افراد 10 یا اس سے کم ہی اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ آخری رسومات کو لائیو اسٹریم بھی کیا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے 24 مارچ کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ نئے نوول کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے انتقال کرنے جانے والے افراد کی لاشیں وائرس کو منتقل نہیں کرتیں۔ تاہم عالمی ادارے نے رشتے داروں کو میت کو نہ چھونے کا مشورہ دیا جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے سماجی دوری کی ہدایات کے نتیجے آخری رسومات اور تدفین کا عمل کافی تبدیل ہوچکا ہے۔۔
