کیاعلوی بھی اپنے قائد کے پاس اڈیالہ پہنچنے والے ہیں؟

صدر آصف علی زرداری کے بطور سول سربراہ مملکت دوسری بعد حلف اٹھانے کے بعد عمرانڈو دندان ساز ڈاکٹر عارف علوی ہزیمت کا بوجھ اٹھائے ایوان صدر سے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ کراچی آمد کے بعد جہاں ایک طرف یوتھیوں کو اپنی صفائیاں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں وہیں ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کو بھی ویلکم کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو جہاں وہ تحریک انصاف کے حلقوں سے دھتکارے جا چکے ہیں وہیں دوسری جانب ڈاکٹر عارف علوی کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔ ماضی قریب میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ایسی ہی قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دے چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ایوان صدر کے سابقہ مکین دندان ساز علوی جلد یا بادیر اپنے قائد عمران خان کے پاس اڈیالہ جیل پہنچنے والے ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق اگرچہ آئینِ پاکستان میں صدر کا کردار محض علامتی ہے۔ لیکن صدر عارف علوی کے ساڑھے پانچ سالہ دورِ صدارت میں کئی ایسے واقعات ہوئے جو ملک کی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔بعض مبصرین عارف علوی کے بطورِ صدر کردار کو متنازع قرار دیتے ہیں اور ان کے خیال میں عارف علوی صدر ہونے کے باوجود تحریک انصاف کے زیادہ قریب رہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں جہاں ان کی جماعت تحریک انصاف پر کڑا وقت رہا اور انہی کے دور میں عمران خان تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے باہر ہوئے بلکہ مختلف مقدمات میں جیل بھی گئے۔ تاہم اسی عرصے میں ملک میں انتہائی طاقت ور سمجھی جانے والی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈاکٹر عارف علوی نے تعلقات خراب نہیں کیے۔
صحافی اور تجزیہ کار منیب فاروق کہتے ہیں کہ صدر عارف علوی سابق وزیر اعظم عمران خان کی چوائس تھے اور انہی کے زیر سایہ انہوں نے صدرِ مملکت کے طور پر کام کیا۔ لیکن عمران خان کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ایوان صدر تحریک انصاف کی آماجگاہ بن گیا۔
ان کے بقول ایسی صورتِ حال میں بہت سے غیر آئینی عمل بھی صدرِ مملکت کی جانب سے سامنے آئے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے وہ اقدامات بحیثیت صدرِ مملکت نہیں بلکہ سیاسی صدر کے طور پر اٹھائے۔
منیب فاروق کہتے ہیں کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں جو شخصیات صدرِ مملکت کے عہدوں پر رہی ہیں ان کا جھکاؤ اپنی سیاسی جماعت کی طرف ہی رہا ہے اور وہ بہت کم اپنے فیصلے آزادانہ کر پاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں صدر کا مؤقف بالکل درست تھا جیسے انتخابات کے بروقت انعقاد کا معاملہ جسے بعد ازاں عدالت نے بھی تسلیم کیا۔
بعض دیگر مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت جانے کے بعد پارلیمںٹ کا کردار صدر کے بارے میں کافی مخالفانہ تھا اور ایسے میں جب بھی پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی بل پاس کیا جاتا تو اس پر صدر کا ردِعمل سامنے آتا۔اس مشکل دور میں صدر نے ایسےاپنے پتے کھیلےکہ اپنے کردار سے اپنی جماعت تحریک انصاف کو بھی ناراض نہیں کیا اور حکومت کو بھی مطمئن کرتے رہے۔صدر مملکت کا عہدہ محدود آئینی کردار رکھنے کے باوجود بھی بڑا اہم عہدہ ہے۔ وہ ایک جانب مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں تو دوسری جانب وہ پارلیمان کے سربراہ ہیں۔ وہ حکومت کے سربراہ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ وہ عدلیہ کے بھی سربراہ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ریاست کے ان تمام ستونوں کے درمیان جو تعلق استوار ہوتا ہے وہ بھی صدر ہی کی بدولت ہو پاتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ملک میں کسی بل کی پارلیمان سے منظوری کے بعد صدر کے دستخط سے ہی وہ قانون کی شکل اختیار کرتا ہے۔تاہم عارف علوی نے اپنے دور میں پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا نیب قوانین ترمیمی بل واپس کردیا۔ اسی طرح صدر نے کئی بلز پر اپنی رائے دی اور انہیں تبدیل کرنے کو بھی کہا۔تاہم صدر کی جانب سے ترمیمی بل منظور نہ کیے جانے کے بعد اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرلیا گیا اور وہ صدر کے دستخط کے بغیر ہی ملک کا قانون بن گیا۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر عاف علوی نے پارلیمان کی موجودگی کے باوجود درجنوں آرڈیننسز کا اجرا کرکے پارلیمنٹ کی بے توقیری کی۔
تاہم منیب فاروق کے خیال میں آرڈیننس کا اجرا کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی کام نہیں۔ جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہ چل رہا ہو تو آرڈیننس آ سکتا ہے۔ لیکن اگر جان بوجھ کر پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کردیا جائے اور پھر صدارتی آرڈیننس لایا جائے تو یہ غلط کام ہے۔ البتہ یہ قانونی طور پر جائز ہے۔
منیب فاروق کے بقول عمران خان کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی صدر علوی نے ریاست کے بجائے عمران خان سے بھرپور وفاداری نبھائی۔ان کا کہنا تھا کہ عارف علوی نے کوشش کی کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو میز پر لایا جائے۔ لیکن عمران خان جس نہج پر چیزوں کو لے گئے تھے اس میں عارف علوی کے لیے کسی ثالث کا کردار ادا کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ انہوں نے جو کیا، غالباً یہی وہ کر سکتے تھے۔
منیب فاروق کے بقول عارف علوی نے اپنی حد تک کوشش ضرور کی کہ وہ عمران خان کو کوئی ریلیف دلوا سکیں لیکن وہ سمجھتے ہیں عمران خان کی غلطی اس قدر بڑی تھی کہ اس کے نقصانات کا احاطہ کرنا عارف علوی کے بس کی بات نہیں تھی۔
سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ریفرنس بھیجے جانے پر بھی عارف علوی پر کڑی تنقید کی گئی تھی اور ریفرنس کی سماعت کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں یہاں تک کہا تھا کہ صدر نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر بھیجے گئے ریفرنس کو سپریم کورٹ بھیجنے میں اپنا دماغ استعمال نہیں کیا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق کہتے ہیں کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی منشا پر بھیجا گیا۔ لیکن اس پر صدر عارف علوی نے بھی آزادانہ طور پر بطورِ صدر سوچ بچار نہیں کی۔ جس کی وجہ سے وہ انھیں آج بھی ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔

Back to top button