کیا شہباز شریف PDM کو بحال کروا پائیں گے؟

بے وفائی کے طعنوں کے بعد پی ڈی ایم چھوڑ جانے والی پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو نواز لیگ کے صدر شہباز شریف کی جانب سے پی ڈی ایم اتحاد کی اتحادی جماعتوں کے عشایئے میں شرکت کی دعوت اور دونوں جماعتوں کے مثبت جواب کے بعد یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا دونوں جماعتیں دوبارہ سے اپوزیشن الائنس کا حصہ بن جائیں گی یا برف پگھلنے میں ابھی مزید کچھ وقت لگے گا؟
پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی ڈی ایم اتحاد کی جانب سے انہیں بھجوائے گئے شوکاز نوٹسز پر معافی مانگ کر اتحاد کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کی بجائے کسی اور شخص کو سونپ دی جائے اور یہ یقین دھانی بھی کروائی جائے کہ ماضی کی طرح اس اتحاد کو انتہا پسند لیدران کے ہاتھوں ہائی جیک نہیں ہونے دیا جائے گا تو پی پی اور اے این پی دوبارہ سے اتحاد کا حصہ بن سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ رہائی کے بعد قومی اسمبلی میں اپویشن لیڈر شہباز شریف سیاسی محاذ پر خاصے متحرک ہوچکے ہیں۔ شہباز ایک طرف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت پر راضی کرنے کے لئے کوشاں ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن اتحاد کو بحال کرنے کے لئے بھی خاصی تگ و دو کر رہے ہیں۔ دو ماہ پہلے تک گیارہ جماعتوں پر مشتمل اپویشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حکومت کے لئے ڈرائونا خواب بنا ہوا تھا لیکن پھر ضمنی انتخابات اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے اور عمران کو گھر بھجوانے کی حکمت عملی پر اختلافات اس قدر شدید ہو گے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی نے اتحاد سے راہیں جدا کرلیں۔ اب شہباز شریف جیل سے باہر آنے کے بعد اپنی جماعت کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لئے اپوزیشن کو ایک پیج پر اکٹھا کرنے کی بھاگ دوڑ کرر ہے ہیں۔ شہباز کی رہائی کے بعد مریم نواز کسی حد تک سیاسی محاذ پر خاموش ہوگئی ہیں، ایسے میں شہباز شریف پیپلزپارٹی کو رام کرنے کے لئے بھرپور محںت کرتے نظر آرہے ہیں۔
اس سلسلے میں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کے لئے شہباز شریف نے 24 مئی کو ایک عشایئہ رکھا ہے جس میں بلاول بھٹو کو بھی شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہے تاہم پیپلزپارٹی نے بلاول کی بجائے اپنا تین رکنی نمائندہ وفد بھجوانے کی یقین دھانی کروائی ہے جس سے اپوزیشن الائنس کےمعاملات بہتر ہونے کی امید نظر آئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی بیٹھک سے نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ متوقع طور پر شہباز شریف، پی ڈی ایم کے آئندہ لائحہ عمل کو پارٹیوں کے سامنے پیش کریں گے جس میں وفاقی بجٹ کی منظوری کے راستے میں مزاحمت سے متعلق حکمت عملی بھی شامل ہوگی۔ اگر اس میٹنگ میں ماضی کے حوالے سے تلخ باتیں نہ ہوئیں تو پیپلزپارٹی اور اے این پی 29 مئی کو ہونے جا رہے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں شرکت کے حوالے س کوئی مثبت اشارہ بھی دے سکتی ہیں۔
بہرحال سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد پی ڈی ایم عملاً ختم ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم کے کرتا دھرتا مولانا فضل الرحمان اور لیگی قیادت نے رمضان المبارک سے پہلے پیپلز پارٹی پر استعفے نہ دینے کا الزام لگا کر پہلے لانگ مارچ ملتوی کر دیا گیا پھر پیپلز پارٹی اور اے این پی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے انتخاب کے لیے باپ سے ووٹ لینے کا الزام لگا کر شو کاز نوٹس جاری کر دیے جس پہ دونوں جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف شوکاز کو مسترد کیا بلکہ عوامی نیشنل پارٹی نے تو پی ڈی ایم سے علیحدگی ہی اختیار کرلی اور پیپلز پارٹی کے تمام عہدے داروں نے پی ڈی ایم کے عہدے چھوڑ دیے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز، شاید خاقان عباسی اور مولانا فضل الرحمان نے جس طرح پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف سخت موقف لیا اس سے پی ڈی ایم میں دراڑیں مزید گہری ہوتی گئیں، نتیجتاً پیپلز پارٹی کے کارکنان اور نون لیگ اور جے یو آئی ف کے کارکنان کے مابین سوشل میڈیا پہ دنگل شروع ہو گیا۔ یوں عمران خان کو اقتدار سے باہر کرنے کا ایجنڈا لے کر میدان میں اترنے والی پی ڈی ایم آپسی اختلافات کا شکار ہوکر غیر موثر ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں جہاں مسلم لیگ نون کے مزاحمتی دھڑے نے پی پی پی اور اے این پی کو دیوار سے لگایا وہیں اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کردار بھی خاصا متنازع رہا، کیون کہ انہوں نے کسی موقع پر بھی خود کو پی ڈی ایم کا قائد ثابت نہیں کیا بلکہ وہ مسلم لیگ نون کی بی ٹیم کے طور پر کام کرتے اور ردعمل دیتے رہے۔
تاہم یاد رہے کہ ان سب واقعات کے دوران مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف پابند سلاسل تھے۔ اب جبکہ وہ جیل سے باہر آ چکے ہیں تو انہوں نے نہ صرف پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کے ساتھ دوبارہ استوار کر لیے ہیں بلکہ وہ مولانا فضل الرحمن کو بھی دونوں ناراض اپوزیشن جماعتوں کو اتحاد میں دوبارہ شامل کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ حال ہی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے خوشاب کے ضمنی انتخاب میں کامیابی پر شہباز شریف کو اور شہباز نے کراچی کے ضمنی انتخاب میں بلاول کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ شہباز شریف نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر بلاول بھٹو اور آصف زرداری کو اپنے ہاں عشائیے پر بھی مدعو کر لیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور شہباز شریف اب بھی سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کا ساتھ چلنا کس قدر اہم ہے۔ پیپلز پارٹی کو منانے کے پیچھے شہباز شریف کی ایک بڑی مجبوری یہ بھی ہے کہ نواز لیگ کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف تسلیم نہ کئے جانے کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی شہباز کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف پیپلزپارٹی اور اے این پی کو واپس پی ڈی ایم کا حصہ بنانےمیں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button