کیا مولانا اپنی قیمت وصول کر کے حکومت کے ساتھ مل جائیں گے ؟

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے آئینی ترامیم کے حکومتی پیکج کی حمایت سے انکار کے باوجود دونوں اتحادی جماعتوں کو یقین ہے کہ مولانا جلد یا بدیر قیمت وصول کر کے ڈیل کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے کیوں کہ وہ ماضی میں بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ مولانا پانچ برس تک اقتدار سے باہر رہنے کا رسک نہیں لیں گے اور ویسے بھی انہیں اپنے سیاسی مخالف عمران خان کی تحریک انصاف کا ساتھ دے کر کچھ حاصل وصول نہیں ہونے والا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے ناراض ہو گئے تھے جس کی بڑی وجہ تو یہ تھی کہ وہ صدارت کا عہدہ چلتے چاہتے تھے جو کہ پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت آصف زرداری کے پاس چلا گیا۔ اسکے علاوہ مولانا نے اسٹیبلشمنٹ پر 2024 کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہعئے پارلیمنٹ کو ’جعلی‘ قرار دے دیا تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ مولانا کی جماعت کے امیدواروں کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں جہاں بھی شکست ہوئی وہاں جیتنے والی جماعت تحریک انصاف تھی۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ نے مولانا کو ہروانے کے لیے تحریک انصاف کو انکہ سیٹیں دے دیں۔ مولانا اس منطق بھرے سوال کا جواب دینے کی بجائے رد عمل میں تحریک انصاف کے ساتھ ہی جا ملے اور اب غیر اعلانیہ طور پر عمران خان کے اتحادی بن چکے ہیں جو ماضی میں انہیں مولانا ڈیزل قرار دے کر ان کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔
جسٹس منصور شاہ کھل کر پی ٹی آئی کے ساتھ کیوں کھڑے ہو گئے؟
پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں اتحاد کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو حکومت سازی کے وقت نظر انداز کیا تھا لہازا اب مولانا ’انتقام‘ لے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں’مولانا کی حیثیت بہت کم ہو چکی ہے، مولانا کے والد مفتی محمود نے جس صوبے سے اپنی سیاست کا اغاز کیا تھا اس خیبر پختونخوا میں اب مولانا کی مقبولیت بہت کم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے حکمراں اتحاد نے مولانا فصل الرحمان کو حکومت بنانے وقت اہمیت نہیں دی چونکہ وہ صدر اور گورنروں کے عہدے مانگ رہے تھے۔ ویسے بھی حکومت بنانے کے لیے پی پی پی اور ن لیگ کے نمبرز پورے تھے اور ویسے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی انکے ساتھ ساتھ لہازا دونوں اتحادی جماعتوں نے مولانا کو گھاس نہیں ڈالا۔ اب چونکہ آئینی ترامیم پاس کروانے کے لیے حکومت کو مولانا فصل الرحمان کی ضرورت ہے لہازا وہ ان کے پیچھے پیچھے ہے اور مولانا اگے اگے بھاگ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان جانتے ہیں کہ آئینی ترامیم میں ان کی حمایت حاصل کرنے کے بعد حکومت کو ان کی ضرورت نہیں رہے گی لہذا یہی موقع ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے تمام مطالبات منوانے چاہیں گے اور اپنی قیمت وصول کرنے کے بعد حکومت سے ڈیل کر لیں گے۔ یوں وہ تحریک انصاف سے اپنی بے عزتی کا بدلہ بھی لے لیں گے جس نے انہیں پورے ملک میں مولانا ڈیزل کے نام سے بدنام کر رکھا ہے۔
اس حوالے سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا یے کہ ’مولانا فضل الرحمان کے ساتھ عام انتخابات میں زیادتی کی گئی تھی اور خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے گئے تھے کہ وہ انتخابی جلسہ بھی نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’حکمراں اتحاد نے حکومت تشکیل دیتے وقت بھی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رابطہ نہیں کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مولانا فضل الرحمان کو موجودہ چیف جسٹس سے ختلاف ہے اور اسی لیے وہ ان کے عہدے کی معیاد میں اضافے یا انہیں مجوزہ آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
انتخابی اور پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس آئینی ترامیم لانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ مجوزہ مسودے پر دیگر سیاسی جماعتوں کو پہلے اعتماد میں لیا جاتا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے دونوں ایوانوں کے اجلاس بلا کر چھوٹی جماعتوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی کہ ان پر ان اجلاس کا دباؤ ہوگا اور وہ جلد ہی حکومت کی تجویز کا جواب دیں گے لیکن ایسا نہیں ہو۔‘
احمد بلال کا کہنا تھا کہ ’پارلیمانی جمہوریت میں ایسے حالات میں جہاں حکومت کے پاس واضح اکثریت حاصل نہ ہو تو وہاں چھوٹی جماعتیں بہت زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ 1972 میں مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلی بنا دیا گیا تھا جبکہ ان کی جماعت صوبائی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت تھی۔ انھوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی بنا دیا گیا جبکہ اس جماعت کے پاس صرف 10 سیٹیں تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جمعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہے اور انھیں معلوم ہے کہ اگر وہ اس آئینی ترمیم میں حکومت کا ساتھ دیں گے تو یہ ترمیم منظور ہو جائے گی اور اگر ان کی جماعت پی ٹی آئی کے موقف کی حمایت کرے گی تو پھر حکومت کی جانب سے عدالتی اصلاحات کے نام پر لائی جانے والی اس ترامیم کو منطور کروانا ایک خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔‘
