کیا PPP اور PMLN کی دوستی اگے چل پائے گی؟

اسلام اباد میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اگلے الیکشن سے پہلے اور پھر اس کے بعد پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی دوستی برقرار رہ پائے گی یا دونوں جماعتیں ایک مرتبہ پھر سیاسی مخاصمت کے راستے پر چل نکلیں گی؟سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان جیسے حساس خطے کی پچ پر 15 مہینے کئ اقتدار کی مشکل ترین اننگز کھیلنے والی ”پی ڈی ایم“ دراصل بھان متی کا وہ کنبہ تھی جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی تھیں۔ سیاسی اور ذاتی مفادات کے لئے کئی چھوٹی موٹی جماعتوں کے اس اکٹھ میں کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ یہ بھانڈا بھی جلد ہی پھوٹنے والا ہے، فی الحال تو  سب کی نظریں  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پر ہیں کہ ان کی قیادت مستقبل میں کیا حکمت عملی اپناتی ہے خصوصا جب دونوں جماعتوں نے اگلے الیکشن میں اترنا ہے؟

پی ڈی ایم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی کے وزیراعظم بن جانے کے بعد سے نواز شریف کو یہ فکر کھائے جاتی تھی کہ کہیں آصف علی زرداری سچ مچ ان پر بھاری نہ پڑ جائیں۔ اسے زرداری کی سیاسی دوراندیشی کہہ لیں یا کچھ اور لیکن انھوں نے کمال معاملہ فہمی سے بلاول بھٹو زرداری کے لئے وزات خارجہ کا انتخاب کر کے جو سیاسی چھکا مارا، اس سے کئی منجھے ہوئے کھلاڑیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ بلاول نے بھی ان چند مہینوں میں ملکی اور عالمی سیاست کے بھید بھاؤ سیکھنے میں دن رات ایک کر دیئے۔ اردو زبان میں مہارت نہ رکھنے کے باوجود وہ سیاسی مخالفین  کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے حتیٰ کہ برے سے بڑے عالمی فورم پر بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ بھارت کی تو ایسی بینڈ بجائی کہ ان کے وزیر خارجہ تک کنی کترانے پر مجبور ہو گئے، کشمیر کانفرنس میں پاکستان کو مدعو نہ کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ دوسری طرف مریم نواز بھی سیاسی محاذ پر ڈٹی رہیں، ملک کے طول و عرض میں جہاں انھوں نے اپنے والد نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی بھرپور وکالت کی وہیں اپنی ہی جماعت کی حکمرانی پر بھی کئی سوال اٹھا دیئے۔ ایسا کئی بار ہوا کہ میڈیا کو گواہ بنا کر، انھیں چچا صاحب کی اور چچا صاحب کو بھتیجی کی محبت کا یقین دلانا پڑا۔

تاہم یہ سب  پی ڈی ایم کے سنہری دور کے قصے ہیں، جب دوستی یا دشمنی نبھانی ہو یا  نفع نقصان میں ساجھے داری، سب ایک تھے۔ اب امتحان کا وقت ہے، جو کچھ ملا، اسے لوٹانے کا وقت۔۔اب میدان ایک ضرور ہے لیکن کھیل اپنا اپنا، ویسے بھی نظریاتی اور وژن کے اعتبار سے دو قطعی مخالف سمتوں میں چلنے والی جماعتیں آخر کب تک ساتھ چل سکتی ہیں؟ یہ تو عمران خان کو اوقات میں لانے اور حکومت میں شراکت داری نے دونوں کو  ایک کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے نہ تو ماضی یاد رکھا اور نہ ہی اپنے ورکرز کے جذبات کی  پرواہ  کی جو ان کی اصل طاقت تھے۔ جنھیں آج بھی یاد ہے کہ اگر ایک دوسرے کو چور ڈاکو اور لٹیرا کہہ کر مخاطب کرتا تھا تو دوسرا پیٹ پھاڑنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔۔گالم گلوچ اور خواتین رہنماؤں کی کردار کشی تو معمولی بات تھی اور دونوں میں یہ نفرتیں اور دشمنیاں نئی نہیں، کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ تاہم اپنے ”سواد“ کے لئے ایک پیج پر اکٹھا ہونا، سیاسی جماعتوں کی مجبوری کہہ لیں یا اقتدار کی لَت۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نظریہء ضرورت کے تحت دونوں جماعتوں کے اس ”متاع“ سے کس کو کتنا فائدہ حاصل ہوا ہے؟ یعنی ”شریفس“ اور ”زرداریز“ میں سے کس کا پلڑا بھاری رہا ہے؟لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر ”شریفس“ کا یہی چلن رہا اور ان  کی ”فیملی پالیٹکس“ یا بیک وقت ”پرو اسٹیبلشمنٹ“ اور ”انٹی اسٹیبلشمنٹ“ پالیسی جماعتی سیاست پر حاوی ہو گئی تو یہ بات طے ہے کہ آئندہ جب بھی الیکشن ہوئے، پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں ا سکتی ہے!!

Back to top button